تازہ ترین

کوروناکا قہراور حکومتی انتظامات ! | طوفان جب تھما نہیں تو لاپرواہ کیوں بنیں

تاریخ    14 ستمبر 2020 (30 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
 کورونا متاثرین کے حوالے سے مقامی اور ملکی سطح پر جو اعدادوشمار سامنے آرہے ہیں،وہ پریشان کن ہی نہیں بلکہ نیندیں اچٹ دینے والے ہیں۔گزشتہ روز جموںوکشمیر میں 1700افراد کورونا وائرس میں مبتلا پائے گئے جو اب تک ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد تھی ۔اسی طرح آج جو مرکزی وزارت صحت کی جانب سے کورونا اعدادوشمار ظاہر کئے گئے ہیں،وہ بھی اطمینان بخش نہیں ہیں۔مذکورہ وزارت کی جانب سے ظاہر کئے گئے اعداد وشما ر کے مطابق ملک میں کورونا اموات کی تعداد بڑھ کر79ہزارہوگئی ہے جبکہ کورونا متاثرین کی تعداد تقریباً48لاکھ تک پہنچ گئی ہے ۔وزارت صحت کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تقریباً95ہزارافراد ملک میں کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔
گوکہ مقامی اور ملکی سطح پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور معاملات کنٹرول میں ہیں لیکن اعدادوشمار کا باریک بینی سے تجزیہ کیاجائے تو یقینی طور پر سب کچھ ٹھیک ٹھاک نظر نہیں آرہاہے۔ملکی سطح پر روزانہ ایک لاکھ کے قریب نئے کورونا معاملات کا سامنے آنا پریشان کُن ہے اور جو رجحان بنا ہوا ہے ،اس کے مطابق اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا کیونکہ ابتداء میںیہ تعداد سو سے کم سے شروع ہوکر کافی وقت تک سینکڑوں میں چلی ،پھر ہزار اور پندرہ سو کے درمیان رہی ،پھر دو ہزار سے کم کے درمیان کچھ وقت رہی لیکن پھر یہ چھلانگیں مارتی گئی اور اب تو بڑی بڑی چھلانگیں مارتے ہوئے متاثرین کی تعدادایک لاکھ کے آس پاس ہورہی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ آنے والے دنوںمیں مزید بڑھ سکتی ہے ۔اسی طرح اموات کا گراف بھی اطمینان بخش نہیںہے ۔تاحال قریب 79ہزاراموات ہوچکی ہیں۔ ان اموات کے گراف کو دیکھیں تو اس میں بھی یکایک اضافہ کا رجحان دیکھا جاسکتا ہے ۔پہلے پہل اموات نہ ہونے کے برابر تھیں، پھر آہستہ آہستہ اموات کا سلسلہ بڑھنے لگا لیکن اب تو اموات کا گراف بھی جیسے چھلانگیں ماررہا ہے اور اس میں روزانہ کی بنیادوںپر تشویشناک حدتک اضافہ ہونے کا اشارہ مل رہاہے۔
اس بات سے قطعی انکار نہیںکہ ملک میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت کافی بڑھ چکی ہے ۔اس وقت روزانہ لاکھوں کی تعداد میں ٹیسٹ ہورہے ہیں۔جتنے زیادہ ٹیسٹ ہونگے ،اتنے ہی زیادہ متاثرین سامنے آنے کے امکانات ہیں ۔یہی بات بھارت پر بھی صادق آتی ہے تاہم جس طرح لوگوں کو زیادہ ٹیسٹنگ اور متاثرین کی تعداد بڑھنے کے نام پرلوگوں کو اندھیرے میں رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ،اُس کے نتائج خوفناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ بالکل ایسی ہی صورتحال ترقی یافتہ ممالک میں بھی پہلے تھی اور وہ ملکی عوام کو مسلسل دلاسہ دے رہے تھے کہ حالات قابو میں ہیں لیکن پھر جب یکایک کیس بڑھتے چلے گئے اور دنوں میں دو گنا ،تین گنا بڑھ کر ہزاروں سے لاکھوںمیںچلے گئے تو حکومتیں اپنے ہاتھ کھڑے کرنے پر مجبور ہوگئیںاور لوگ بے بسی کے عالم میں خدائی مدد کے طلبگار بن گئے۔
ہمارے ملک میں حالات اسی طرف جارہے ہیں۔بے شک ابھی بھی معاملات قابو سے باہر نہیں ہیں تاہم اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم اطمینان کی سانس لیکر بیٹھ جائیں اور لاپرواہی کو اپنا شعار بنائیں۔کورونا کے پھیلائو کے عالمی رجحان کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔فی الوقت بھارت دوسرے نمبر پر ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہاں یہ رفتار ایسے ہی رہے گی اور یہ کبھی امریکی رفتار کے برابر نہیں ہوگی ۔ہمیں مان لینا چاہئے کہ اگر سینکڑوں سے بڑھ کر اب یہ ہزاروں میں ہوچکی ہے تو یہ کل لاکھوں میںبھی جاسکتی ہے۔ آج کے روزانہ ایک لاکھ کے قریب کیس کل روزانہ دولاکھ بھی ہوسکتے ہیں۔جتنے زیادہ کیس ہونگے ،اتنی زیادہ اموات ہونگیں اور جتنی زیادہ اموات ہونگیں،اتنا پھر اُس صورتحال پر قابو پانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بن جائے گا۔
 اس لئے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بے شک عوام کا حوصلہ بنائے رکھیں لیکن ساتھ ساتھ تیاریوںکو بھی مستحکم کرتے چلے جائیں ۔اگر ہم یہ کہیں کہ آج بھی ہمارے پاس کورونا سے لڑنے کیلئے مناسب طبی ڈھانچہ میسر نہیں ہے تو بیجا نہ ہوگا۔ابھی بھی وقت ہے کہ مرکزی اور یوٹی سرکار ہوش کے ناخن لیں اور ہنگامی بنیادودں پر سسٹم کواپ گریڈ کرتے چلے جائیں۔یہ طوفان ابھی تھمانہیں ہے بلکہ آگے بڑھ رہا ہے ۔اس لئے اگر اس وقت بھی ہم نے اس سے بچائو کا بندو بست نہیں کیاتو یہ طوفان ہمیں خس و خاشاک کی طرح بہا کرلے جائے گا۔امید کی جانی چاہئے کہ دلّی سے لیکر جموں وکشمیر تک سرکاری مشینری حرکت میں آئے گی اور معمول کی لیپا پوتی کو چھوڑ کر عملی اقدامات بروئے کار لائے گی جس سے اس طوفان سے نمٹنے میں کسی حد تک آسانی پیدا ہوسکے۔