تازہ ترین

سزا

تاریخ    13 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


ڈاکٹر عقیلہ
فقیروں کو پیسے دیتے ہوئے کلیم صاحب مسجد کی سیڑھیاں اُتر رہے تھے، کہ اچانک ایک فقیر کو دیکھتے ہی رک گئے… جس نے ایک گندھے پھٹے ہوئے کمبل میں منہ کو چھپاتے ہوئے کہا…ارے بابا اللہ کے نام پر کچھ دے دو … اللہ تمہارا بھلا کرے گا… کلیم صاحب کواس کی آواز کچھ جانی پہچانی سی لگی… انھوں نے فقیر سے پوچھا :
 تم کون ہو؟ فقیر نے کمبل کی آڑ سے دیکھتے ہوئے کہا مجھ سے دور رہو۔ لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں… مجھے دھتکارتے ہیں۔
 کلیم صاحب نے اسے ایک روپیہ دیا اور آگے بڑھ گئے۔ کچھ دوری پر کلیم صاحب کے دوست اشفاق یہ سب دیکھ رہے تھے۔ جیوں ہی کلیم صاحب اشفاق کے پاس پہنچے ، اشفاق نے کہا، ارے بھئی تم کہاں وہاں رک گئے تھے۔ اور اس فقیر سے کیا بات کر رہے تھے؟
کلیم صاحب مسجد کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے کہا، میں اس آدمی کو جانتا ہوں۔
اشفاق کلیم صاحب کی بات سن کر حیران ہونے والی نگاہ سے دیکھتے ہوئے بولے ، وہ کیسے؟
کلیم صاحب نے اشفاق کو دیکھا اور کہا یہ سرجو ہے سرجو اور کہانی سنانے لگے۔ 
بات ان دنوں کی ہے جب کلیم صاحب کپڑے کی تجارت گیا کرتے تھے اور پیسے والے ہونے کے باوجود بھی کافی ایماندار، سخی اور نیک انسان تھے۔ لوگوں کا دکھ ان سے دیکھا نہیں جاتا تھا اور جہاں کہیں بھی موقع ملتا لوگوں کی مدد کرنے سے نہیں چوکتے تھے… سوسائٹی میں ان کی اچھی شہرت تھی ،لوگ ان کی دل سے عزت بھی کرتے تھے…اور ان کی ایمانداری کی مثال بھی دیتے تھے۔
ایک دن ایک مسافر ان کے کپڑوں کی دکان کے پاس آکر رُکا۔ کلیم صاحب نے دیکھا توکپڑے کافی میلے اور گندے تھے… اور دیکھنے سے وہ آدمی کافی تھکا ہوا اور بھوکا بھی لگ رہا تھا… دھوپ اور گرمی کی وجہ سے اس شخص کی حالت بہت خراب تھی… کلیم صاحب اپنی دکان سے باہر نکلے اور اس شخص کو اندر لے آئے … اور بیٹھاتے ہوئے اسے ایک گلاس ٹھنڈا پانی دیا…مسافر پانی پیتے ہی تروتازہ ہوگیا… تو کلیم صاحب نے اس سے پوچھا … بھئی ! تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ مسافر نے جواب دیا میں سوناپور گاؤں سے آیا ہوں ۔ گاؤں میںکال پڑ گیا تھا۔ میرے گھر کے سبھی لوگ بھوک کی وجہ سے مرگئے۔ اسلئے مجھے گاؤں چھوڑ کر شہر کی طرف آنا پڑا۔ پھر کلیم صاحب کی طرف دیکھا اور کہا صاحب اگر مجھے کوئی کام کاج مل جائے تو…
ہاں! ہاں! کیوں نہیں کلیم صاحب نے جواب دیا۔
لو پہلے یہ کھانا کھا لو۔
تمہارا نام کیا ہے؟ کلیم صاحب نے پوچھا
مسافر کھانے کی پلیٹ کو کلیم صاحب کے ہاتھ سے چھپ کر جلدی جلدی کھانا کھانے لگا۔ اسکے کھانے کے انداز سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کافی دنوں سے بھوکا ہے۔
کلیم صاحب نے مسافر سے پھر پوچھا؟ تمہارا نام کیا ہے؟
مسافر نے جواب دیا۔ جی سرجو!
کھانے کے بعد کلیم صاحب سرجو کو گھر لے گئے ، گھر کیا تھا کسی حویلی سے کم نہیں تھا۔
آؤ سرجو! اندر آؤ
جیوں ہی کلیم صاحب کے آنے کی آہٹ ہوئی تو اندر سے ان کی بیوی اور پانچ سال کا بیٹا باہر آئے۔ بیٹا ابا کو دیکھ کر دوڑ کر ان کی گود میں چڑھ گیا۔ اور دھیرے سے پوچھنے لگا ، ابا یہ بھیا کون ہیں؟ کلیم صاحب نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ تم کہتے تھے نا کہ میں کس کے ساتھ کھیلوں ؟ میں تمہارے لئے اس بھیا کو لایا ہوں ، کہتے ہوئے کلیم صاحب نے چھوٹے ابراہیم کا منہ چوم لیا۔
آؤ سرجو!  اندر آؤ۔ دیکھو بھئی اب تم اس گھر کو اپنا گھر سمجھو! اور ابراہیم کی امی کا کیچن میں ہاتھ بٹا دیا کرو۔ سرجو نے آنکھوں سے آنسو ٹپکاتے ہوئے کہا صاب آپ نے مجھ پر بہت احسان کیا۔ 
احسان کی کوئی بات نہیں ہے۔ بس تم دل لگا کر کام کرنا
سرجو نے بھی کچھ ہی دنوں میں گھر کو بھی اپنا بنا لیا اور گھر والوں کے دلوں میں گھر کر گیا۔دن بھر گھر کا کام کرتا، ابراہیم کے ساتھ کھیلتا اور رات میں اسے اچھی اچھی کہانیاں بھی سناتا۔ ابراہیم بھی سرجو سے اچھا گھل مل گیا تھا۔
ابراہیم بیٹا کھانا کھالو ، ابراہیم کی امی ساجدہ نے ابراہیم کو آواز لگاتے ہوئے کہا۔
نہیں امی میں سرجو بھیا کے ہاتھ سے کھانا کھاؤں گا ۔ ابراہیم نے نخرے کرتے ہوئے کہا۔
سرجو! بھئی تم ہی اسکو کھانا کھلا کر سلا بھی دینا۔
جی! بیگم صاحبہ، سرجو نے ابراہیم کو گود میں اٹھاتے ہوئے کہا۔
سرجو گھر کے کام کاج سے فارغ ہوتا تو وہ کلیم صاحب کے ساتھ دکان کے حساب کتاب میں ان کا ہاتھ بٹا دیتا۔
کلیم صاحب اور گھر والے سرجو سے بہت خوش تھے۔ کیوں نہ ہوتے، سرجو کلیم صاحب کی طرح ایماندار اور محنتی جو تھا۔اپنی محبت سے سب کے دلوں کو جیت بھی لیا تھا اور کلیم صاحب نے بھی اُسے گھر کا ایک فرد بنا لیا تھا۔ 
ایک دن کلیم صاحب نے سرجو سے کہا، بیٹا سرجو مجھے تجارت کے کام سے دلی جانا ہے، آنے میں مجھے دو تین مہینے لگ جائینگے۔ اسلئے میری غیر حاضری میں گھر کی اور دکان کی ذمہ داری تمہاری ہے۔
سرجو نے سر جھکاتے ہوئے کہا ، جی صاب میں نے آپ کا نمک کھایا ہے۔ میں جی جان سے آپ کے نمک کا قرض ادا کروں گا اور اپنا فرض بھی نبھاؤں گا۔
مجھے تم سے یہی امید تھی ۔ کلیم صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا اور دلی کے لئے روانہ ہوگئے۔
 سرجو کام میں بہت مصروف رہنے لگا۔ ایک دن اس نے ساجدہ بیگم سے کہا مجھے گاؤں جانا ہے۔ گھر سے چٹھی آئی ہے۔ اماں بیمار ہیں۔بس میں دو ایک دن میں ان سے مل کر واپس آجاؤں گا۔ یہ کہہ کر سر جو گھر سے نکل گیا۔
دن گزرتے گئے ۔ ہفتے مہینے گزر گئے،لیکن سرجو واپس نہیں آیا اور کلیم صاحب دلی سے واپس آگئے ۔ انھوں نے سرجو کی کھوج خبر لی لیکن سرجو کا کوئی اتا پتا نہیں چلا۔ دکان کابھی سارا مال غائب تھا۔ لوگوں سے بھی کلیم صاحب کے نام پر اُدھار لیا گیا تھا اور پڑوس کی لڑکی کو بن بہائی ماں بنا کر سب کو دھوکا دے کر سرجو غائب ہو چکا تھا۔
آج سرجو کو مسجد کی سیڑھیوں پر بھیک مانگتے دیکھ کلیم صاحب کے منہ سے بے روک ٹوک نکل گیاکہ ’:
’ خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی…وہ دنیا میں ہی سزا دیتا ہے‘‘۔ تاکہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو سکے۔
���
اسسٹینٹ پروفیسر بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی
موبائل نمبر؛9086180380