زِندگی

کہانی

تاریخ    13 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


شاہینہ یوسف
زندگی یوں تو اللہ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک حسین نعمت ہے اور یہ نعمت اور زیادہ حُسن تب اختیار کرتی ہے جب ساتھ چلنے والے مُنافق نہ ہوں ۔یعنی زندگی میں اگر صرف ایک ہی شخص ایسا ہو جو ہم سے بے لوث مُحبت کرے اور ہمارے دکھ میں دکھی اور خوشی میں خوش ہوجائے تو زندگی جیسی حسین نعمت واقعی اور زیادہ حسین بن جاتی ہے۔خورشید آج صبح سے ہی اپنی بہن سے زندگی سے ملنے والے دکھوں اور سکھوں کی باتیں کرر ہا تھا ۔زندگی کی اونچ نیچ، خوشی و غم ،نشیب و فراز،غرض یہ دونوں بھائی بہن آج زندگی کے ہر ایک پہلو  پر غور کر رہے تھے۔  ۔یوں تو خورشید نے زندگی میں کئی اونچ نیچ دیکھے تھے لیکن سب سے بڑا درد اُ سے تب ملا تھا جب وہ محض سولہ سال کا تھا اور ا س کی والدہ اس دنیا سے کوچ کر گئیں ۔اُس وقت خورشید کے اہلِ خانہ شادی کی تقریب میں جانے کے لیے تیار ہورہے تھے کہ اس کی والدہ کو بجلی کا کرنٹ لگ گیا اور وہ ایسا سوئی کہ اس کے بعد کبھی بھی اس کی آنکھ نہ کھل پائی۔
یوں تو ہر ایک انسان کو اس دنیا سے مقررہ وقت پہ کوچ کرنا ہے لیکن ہر انسان اپنے اپنوں کے جانے سے رنجیدہ ہوجاتا ہے اور یہ جذبہ بھی انسان کے اپنے اختیا ر میں نہیں ۔دراصل اللہ نے ہی انسان کی پیدائش میں محبت کا جذبہ غالب رکھا ہے شاید اسی وجہ سے انسان پر ہر طرح کے جذبوں کا اثر ہونا بھی فطری عمل ہے۔خورشید اپنی بہن سے والدہ مرحومہ کے بارے میں باتیں کر ہی رہا تھا کہ اس کے والد اس کے روبرو ہوگئے ’’خورشید اب تم تیس سال کے ہوگئے ہو ،مجھے لگ رہا ہے کہ اب تمہیں ہم سفر کی ضررورت ہے ‘‘۔خورشید یوں تو بے حد سنجیدہ تھا اور اس سے رشتوں کی سمجھ بھی بخوبی تھی،اپنے اپنوں کا لحاظ کرنا اور ان کی عزت کرنا اس سے بخوبی آتا تھا۔والد کی بات سن کر اس کے دل میں اپنی کزن ثریہ کا تصور آگیا جس سے وہ بچپن سے پسند کرتا تھااور ثریہ بھی خورشید کو ہی بچپن سے پسند کرتی تھی لیکن ان دونوں میں وہ وعدے کبھی نہ ہوئے جن کا انجام اکثر جدائی ہوتا ہے ،یہ ایک دوسرے کے دل کی حالت سے بخوبی واقف تھے ۔خورشید نے وقت گنوائے بغیر اپنے والد کو ثریہ کے یہاں رشتے کے لیے بھیجا ،رشتے کی بات سن کر ثریہ کے گھر والے بے حد خوش ہوگئے کیوں کہ خورشید جیسا لڑکا ان کو چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتا۔اسی طرح ان دونوں کی محبت بغیر کسی تگ ودوع کے اپنے انجام کو پہنچ گئی۔
قدرت کی کاریگری بھی بڑی نرالی ہے اور شاید یہ بھی صحیح ہے کہ اگر انسان کو ہر ایک چیز سے اللہ نوازے تو شاید معدودچند افراد ہی اللہ کی عبادت کریں گے۔اللہ کسی کو مال کی کمی دوچار کرتا ہے تو کسی کو اولاد کی کمی سے تو کسی کو اور طرح کی کسی کمی سے ۔ایسا ہی کچھ خورشید اور ثریہ کے ساتھ بھی ہوا ۔شادی کے کئی سال بعد ان کے یہاں اولاد کی کلکاریاں سننے کو نہ ملی۔کوئی زیارتگاہ ایسی نہ رہی ہوگی جس کے چکر انہوں نے نہ لگائے ہوں لیکن پھر بھی ان کی مراد بھر نہ آئی۔آخر سات سال انتظار کرتے کرتے ایک دن خورشید کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور اس نے ثریہ کو دوسری شادی کا مشورہ دے دیا ۔خورشید کے یہ الفاظ سن کر ثریہ آگ بگولہ ہوگئی اور اس نے خورشید کو وہ تمام باتیں یاد دلائیں جو انہوں نے کبھی کی تھیں کہ چاہے جو بھی ہو وہ ایک دوسرے کا ساتھ کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے ۔اسی  طرح دن گزرتے گئے اور اللہ کو بھی ایک دن ان کے صبر پر ترس آگیا اور اس نے انہیںاولاد کی نعمت سے سرفراز کیا۔اس بچے کو پا کر ان دونوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہا ،یہ دونوں اپنے بچے کے ساتھ اپنا اکثر وقت صرف کرتے تھے اور اس سے ہر وہ چیز لادیتے تھے جس کی اس سے ضرورت ہوتی۔
عیان کے آتے ہی خورشید اور ثریا کی محبت میں اور زیادہ تازگی آگئی ،ورنہ اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ بچے کے آتے ہی ایک عورت کی ساری توجہ اپنے شوہر سے ہٹ کر بچے پر مرکوز ہوتی ہے لیکن یہاں کچھ الٹا ہی ہوگیا۔اگرچہ اس سے پہلے یہ دونوں میاں بیوی کبھی لڑ بھی پڑتے تھے لیکن اولاد کی نعمت کے بعد ان کی محبت میں اور شدت آگئی۔خیر وقت گزرتے دیر نہیں لگتی اور اسی طرح عیان بھی آج تین سال کا ہوگیااور دونوں نے اس سے آج ایک اچھے اسکول میں داخل کرایا۔عیان پڑھائی میں بالکل اپنے والدین جیسا تھا ۔یعنی سے کبھی بھی پڑھنے کے لیے مجبور نہیں کرنا پڑھتا ۔وہ ہر کام اپنے مقررہ وقت پر ہی انجام دیتا تھا۔آج جوں ہی عیان اسکول سے گھر واپس آیا تو خورشید نے ثریہ سے کہا کہ وہ اپنی بہن کے یہاں جائے گااور کل واپس آئے گا۔عیان یوں تو اپنے والدین سے کسی بھی بات کی ضد نہ کرتا لیکن آج نہ جانے وہ کیوں اپنے والد کے ساتھ’ بوا ‘کے گھر جانے کی ضد کرنے لگا۔خورشید نے بھی یوں تو اپنے بیٹے پر کبھی ہاتھ نہ اٹھایا تھا لیکن آج نہ جانے کیوں اس نے اپنے بیٹے کو بہت مارا۔خیر اپنے بیٹے کو ناراض کر کے خورشید نے بہن کے گھر کی راہ لی۔وہاں جاتے ہی خورشید نے جیسے صدیوں کی باتیں اپنی بہن سے کیں اور صبح ہوتے ہی اس نے گھر جانے کا سوچا ۔بہن نے یوں تو اس سے آج اجازت نہ دینی چاہی لیکن خیر اللہ کے لکھے ہوئے کو کون ٹال سکتا ہے،ہم لاکھ کوشش کریں لیکن ہوتا وہی ہے جو رب کو منظور ہوتا ہے ۔بہن کے گھر سے تھوڑی دورنکلتے ہی خورشید راستے میں حادثے کا شکار ہوگیا اور گھر کی بجائے وہ اسپتال پہنچ گیا ۔
جب خورشید کی بیوی اور اس کے باقی گھر والوں کو حادثے کی خبر مل گئی تو ان کے پیرو ں کے نیچے سے جیسے زمین کھسک گئی۔ثریا نے حادثے کی خبر سن کر اسپتا ل کی راہ لی اور خورشید کو وہاں کوما میں دیکھ کر جیسے کسی نے اس کی زندگی کی ساری خوشیاں ماتم میں تبدیل کر ڈالیں ۔ثریا اپنے شوہر کے سرہانے بیٹھ کر زاروقطار رونے لگی لیکن ہمارے آنسوں بہانے سے اللہ کے فیصلے تھوڑی ہی تبدیل ہوتے ہیں ۔ثریا صرف یہ سوچتی رہی کہ خورشید کے بغیر اس کا کیا بنے گا،ثریا نے ڈاکٹروں سے بھی منت سماجت کی کہ وہ خورشید کی جان بچائے لیکن زندگی دینا اور لینا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے،شام تک روتے روتے آخر وہی ہوا جس کا ثریا کو ڈر تھا یعنی خورشید اُ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلا گیا۔خورشید کے داعی اجل کو لبیک کہنے کے بعد ہی ثریہ کی زندگی بھی ایک لمحے میں جیسے ختم ہوگئی۔اب اس کے پاس سوائے اپنے بیٹے کے جینے کی کوئی وجہ نہ رہی ۔خورشید کی وفات کے بعد ثریہ نے کئی بار اپنی جان دینے کی کوشش کی لیکن ہر بار اس سے بچایا گیا ،شاید یہاں پر یہ جملہ بالکل صادر آتا ہے کہ جس سے اللہ جسے بچائے اُ سے کوئی مار نہیں سکتا اور جسے اللہ مار ے اس سے کوئی بچا نہیں سکتا ۔اسی طرح چند دن گزر گئے اور ایک دن ثریہ نے شام کو ہی تہیہ کر لیا کہ وہ کل اپنی جان دے دے گی۔خیر اس نے عیان کو سلا کر خود بھی سونے کی کوشش کی اور آج اس نے خواب میں خورشید کو دیکھا جس نے ا سے پیہم یہی نصیحت کی کہ زندگی جیسی حسین نعمت کی قدر کرنی چاہیے ۔اُس نے ثریہ پر یہ باور کیا کہ کسی ایک کے چلے جانے سے زندگی نہیں رُکتی ‘زندگی جیسی بھی ہو اُ سے ہر حال میں گزارنا پڑتا ہے ۔یہ صحیح ہے کہ جب کوئی اپنا چلا جائے تو جینے میں مزہ نہیں آتا لیکن زندگی جو کہ ایک نعمت ہے اس کو  اپنے ہاتھوں سے گنوانا بھی کوئی اچھی بات نہیں۔
صبح بیدار ہو کر ثریہ کا زندگی کے تئیں جیسے نظریہ ہی تبدیل ہو گیا اور اس نے اپنی زندگی کو آگے  لے جانے کی کوشش کی۔کتنا مشکل ہوتاہے زندگی کو اپنوں کے بنا گزارنا ،زندگی یوں تو ایک حسین تحفہ ہے لیکن یہ تحفہ اس وقت بدعت بن جاتی ہے جب جینے کی وجہ ہی ختم ہوجائے،جب ہمارا کوئی عزیز ہمیں چھوڑ کے چلا جائے تب ہم ایک زندہ لاش کی مانند ہوجاتے ہیں۔در اصل دنیا کسی کے جانے سے نہیں رکتی۔۔۔۔۔۔یہی دنیا ہے اور یہی اس کی حقیقت ۔یعنی ہم انسا ن اس دنیا میں ڈرامے کے اداکاروں کی مانند ہیں ،جب ہمارا رول ختم  ہوتا ہے تو ہمیں اسٹیج سے ہٹایا جاتا ہے۔۔۔۔۔
ریسیرچ اسکالر شعبئہ اردو سینٹرل یونی ور سٹی آف کشمیر
ای میل؛shaheenayusuf44@gmail.com
 

تازہ ترین