تازہ ترین

بنت حوا کو مہذب سماج سے خطر ہ کیوں؟

ہوس کے پجاریوں سے بیٹیوں کو بچائو

تاریخ    10 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


بشیر اطہر
 آہ! یہ کیسی مصیبت ہے کہ صنف نازک، بنت حوا اور تصویر ِ کائنات میں رنگ بھرنے والی عورت آئے روز نئی نئی الجھنوں میں پھنستی چلی جارہی ہے اور درندہ صفات، بے ضمیر اور بے غیرت افراد اس صنف نازک کو اپنی حوس کا شکار بنا کر اس زندگی تباہ کررہے ہیں۔ کبھی ناتواں گونگی بہری بچیوں کو تو کبھی نابالغ اور دنیا کے نشیب و فراز سے ناواقف بیٹیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور انسانیت کا سر شرم سے جْھک رہا ہے۔باضمیر و باحس افراد کا دم اندر ہی اندر سے گْھٹ رہا ہے۔ ایسے درندہ صفت افراد کو اگرچہ کچھ وقت کیلئے سلاخوں کے پیچھے بھی رکھا جاتا ہے مگر یہ افراد بعد میں اپنا اثرورسوخ برؤئے کار لاکر ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں اور بعد میں ایسے جرائم انجام دینا ان کیلئے سہل و آسان ہوجاتا ہے اور قید خانہ ان کو سسرال سے بھی زیادہ میٹھا لگتا ہے۔
ہندوستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنسی زیادتیوں کے درج ہونے والے کیسز کی تعداد2019میں 35870تک پہنچ گئی تھی۔نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کے ڈیٹا کے مطابق415786 جنسی زیادتیوں کے کیسز ہندوستان میں2001 سے لیکر2017تک درج کی گئی ہیں اور تقریباً ہر روز 67عورتیں جنسی زیادتیوں کی شکار ہورہی ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک گھنٹے 3 عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں ہورہی ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کے مطابق جموں وکشمیر اس فہرست میں بائیسویں نمبر پر ہے جہاں2.75 فیصد جنسی زیادتیوں کے کیس درج ہوئے ہیں ۔
نربھیا اجتماعی جنسی زیادتی کے نتیجہ میں اْٹھی عوامی لہر کے بعد حکومت نے2012میں کئی اہم قدم اْٹھائے مگر اس کے باوجود بھی ایسے کیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نربھیا کیس کے بعد حکومت نے پرانے ریپ کیس قانون میں ترمیم کرکے سخت قوانین لائے ہیں جن کے مطابق عصمت دری میں ملوث افراد کو 20 سال تک قید بامشقت ہوسکتی ہے۔2013کے فوجداری قانون سے اگرچہ ان کیسوں میں کمی واقع ہوئی تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق جو رپورٹ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو نے اجراء کئے ہیں وہ قابِل توجہ بھی ہیں۔کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کے باوجود بھی یہاں جنسی زیادتی کے کیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے جو ہمارے لئے شرم کی بات ہے۔ حکومت کی طرف سے چلائی گئی سکیموں جیسے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ، سیو دی ڈاٹر اور لاڈلی بیٹی کے باوجود بھی عورتوں کے خلاف ظلم و زیادتیوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ 2018میں 58.8فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
 س سب کے علاوہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کئی کیسوں کو علاقائی یا دیہی سطح پر یا اثر و رسوخ سے نپٹایا جارہا ہے اور کئی کیس خوف ودہشت کی وجہ سے منظر عام پر نہیں آرہے ہیں یا اور کسی وجہ سے دَب رہے ہیں اور تھانوں تک نہیں پہنچ رہے ہیں۔ اگر ان کو بھی گنتی میں لایا جائے گا تو دو فیصد کا اضافہ اور ہوجائے گا۔ ان اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارے اسلاف کا کہنا ہے کہ وہ بھی وقت تھا کہ ہماری بہنیں اور بیٹیاں رات کی تاریکیوں میں بھی سحراؤں میں اکیلے سفر کرتی تھیں اور انہیں کوئی ڈر نہیں لگتا تھا مگر اب وقت ایسا بھی ہے کہ ہماری بیٹیوں اور بہنوں کو بھیڑ بھار میں بھی ڈر محسوس ہو رہا ہے ۔ ان کو آج انسان انسان نہیں، درندے سے بھی بدتر لگ رہے ہیں اور اب انسانوں کے پرچھائیوں سے بھی ڈر رہی ہیں۔
 اس لئے ہمیں عوامی سطح پر اس کی طرف دھیان دینا چاہیے اور اس کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ کیوں ایسے افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے؟ جو ایسے جرائم انجام دے رہے ہیں ۔ ایسے جرائم کو روکنے کیلئے کون سے اقدامات عوامی سطح پر درکار ہیں؟ حکومت کے ساتھ ساتھ عوام پر بھی یہ فرض عائد ہو رہا ہے کہ ان برائیوں کا قلع قمع کرنے کیلئے ایسے اقدامات کریں جن سے جرائم پیشہ افراد میں کمی واقع ہو اور ان جرائم کی روک تھام ہوسکے۔ اگر ہم اس وقت بھی سماجی سطح پر بیدار نہ ہوئے تو آنے والے وقت میں ہماری ماں بہنوں کا جینا حرام ہوجائے گا اور انہیں کھلے عام گھومنے سے بھی ڈر لگے ۔ درندے ہر وقت شکار کی طاق میں بیٹھے رہتے ہیں، اس لیے ایسے درندہ صفت انسانوں کو لگام دینا صرف حکومت کانہیں بلکہ عوام کا بھی کام ہے تاکہ حوا کی بیٹی بھی اپنی زندگی چین سے گزارسکے۔
 رابطہ ۔خانپورہ کھاگ بڈگام،7006259067
 

تازہ ترین