تازہ ترین

2014سیلاب کے چھ سال

وہی ہے چال ِ بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

تاریخ    8 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


 2014کے تباہ کن سیلاب کے 6سال مکمل ہوچکے ہیں ۔گوکہ اس سیلاب کے بعد وزیراعظم کی جانب سے تعمیر نو پروگرام کے تحت 80ہزار کروڑ روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیاگیاتاہم زمینی صورتحال مایوس کن ہے ۔تعمیر نو کا کام جو چھ سال قبل شروع کیاگیاتھا،تاحال مکمل نہیں ہوپایا ہے جبکہ 63پروجیکٹوں میں سے اب تک صرف18مکمل کئے گئے ہیں۔انتظامی سست روی کی انتہا یہ ہے کہ جہلم کی کھدائی کا پروجیکٹ بھی مکمل نہیں ہوپایا۔ حالیہ بارشوں کے بعد جب جہلم بپھر نے لگا تھا تو پوری وادی میں لوگ دہشت میں مبتلا ہوگئے تھے کیونکہ وہ ابھی2014کے تباہ کن سیلاب کو نہیںبھولے ہیں جب جہلم کے پانیوں نے بیشتر وادی کو اپنی لپیٹ لیکر بھاری پیمانے پر تباہی مچادی تھی۔2014سیلاب کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ حکومت نے کچھ سبق سیکھا ہوگا اور اب پیشگی اقدامات کئے جائیں گے تاہم جب جب گزشتہ دنوں دو دن کی بارشوں کے بعدپانی کی سطح جہلم میں بلند ہونے لگی تو یہ ناقابل تردید حقیقت سامنے آگئی کہ انتظامیہ خواب غفلت میں محو ہے اور محض ریت کے تھیلوں کا بندو بست کرنے کے بغیر کوئی کام نہیںکیاگیا ہے ۔
گوکہ 2014سیلاب کے بعد جہلم اور اس کی فلڈ چینلوںکی ڈریجنگ کا کام در دست لیاگیاتھا لیکن اسکے نتائج انتہائی مایوس ہیں ۔حد تو یہ ہے کہ ابھی تک یہ ڈریجنگ کا کام مکمل نہیںکیاگیا ہے اور آج بھی انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں سے پلو جھاڑنے کیلئے2016ایجی ٹیشن اور دیگر کئی عوامل کا بہانہ بنارہی ہے ۔یہاں ویسے انتظامیہ کی یہ عادت ہی بن چکی ہے کہ اپنی نااہلی چھپانے کیلئے حالات کی ناسازگاری کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ مانا کہ2016میں حالات کئی ماہ تک خراب رہے لیکن اس کے بعد تو کئی برس حکومت کے پاس تھے۔پوچھا جاسکتا ہے کہ جہلم کی ڈریجنگ پھر بھی مکمل کیوںنہیں ہوئی؟۔
اس صورتحال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ڈریجنگ کا عمل سرینگر میں شروع کیاگیا جبکہ پہلی فرصت میں ولر اور سوپور علاقہ میںڈریجنگ کی ضرورت تھی جہاں1980کی دہائی کے بعد ڈریجنگ ہوئی ہی نہیں ہے ۔اگر جہلم کے اس حصہ میں ڈریجنگ ہوئی ہوتی تو اننت ناگ سے سرینگر تک کا سارا کیچڑپانی کے بہائو کے ساتھ ولر میں پہنچ چکا ہوتااور جہلم کی گہرائی میں مزید کمی نہیں ہوتی تاہم ایسا نہیں کیاگیا بلکہ اس کے برعکس الٹا ہی کیاگیا ۔یہی حال سرینگر میونسپل کارپوریشن کا ہے ۔جب برساتی پانی سے سڑکیں اور گلی کوچے زیر آب آگئے تو میونسپل حکام نے بھی لنگڑے لولے بہانوںکی آڑ لی ۔
یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ ماضی میںسرکاری ملازمین نے کام سرعت رفتاری کے ساتھ کرکے دکھایاہے اورایک زمانے میںدوہرے ہی نہیں تہرے شفٹوں میں کام ہوا کرتا تھا تاہم اب وہ ورک کلچر ہی ختم ہوگیاہے اور سرکاری محکموں کوجیسے زنگ لگ گیاہے ۔ایسا بھی نہیں ہے کہ کام نہیںہوسکتا ہے تاہم جب کام کرنے کی چاہ ہی نہ ہو اور اوپر سے جوابدہی کا عنصر بھی عنقا ہو تو کام کیسے ہوگا۔کشمیر کا موسم انتہائی بے بھروسہ ہے اور پتہ ہی نہیں ہے کہ کب کیا ہوگا ۔اس لئے انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ پیشگی اقدامات کرے لیکن جب پانی کی سطح بلند ہونے لگی تو اس کے بعد ہی میٹنگیں کی گئیں اور سیلاب سے نمٹنے کیلئے تدابیر پر غور ہوااور پیسہ بھی واگزار ہوا۔اگر یہ پیسہ پہلے دیا گیا ہوتا تو کام بھی ہوچکا ہوتا لیکن چونکہ اس یہاںکا باوا آدم ہی نرالا ہے ،اس لئے یہاں آگ لگنے کے وقت ہی کنواں کھودنے کی روایت عام ہوچکی ہے اور یہ سلسلہ اور رجحان ختم ہونے کا نام نہیں لیتا ہے ۔
وقت کاتقاضا ہے کہ جہلم اورمعاون ندی نالوں کے پشتوں کو مضبوط بنانے کے علاوہ ڈریجنگ کا کام جنگی بنیادوں پر مکمل کیاجائے اوریہ کام صرف سرینگر تک محدود نہ رکھا بلکہ بیک وقت ڈریجنگ کھنہ بل سے خادنیار تک شروع کی جائے اور جب جہلم کے اس پورے سٹریچ میں کھدائی ہوگی تو سیلاب کا خطرہ کافی حد تک ٹل سکتا ہے کیونکہ اس میں پانی سمونے کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے ۔
کاغذی گھوڑے دوڑانے کی بجائے حکومت کی یہ اخلاقی اور منصبی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور ان کی سلامتی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرے ۔سیکریٹریٹ سے محض حکمنامے جاری کرنے سے کچھ نہ ہوگا اور نہ ہی کاغذی فائلیں تیار کرنا اس مسئلہ کا حل ہے بلکہ اس کیلئے زمینی سطح پر اقدامات ناگزیر بن چکے ہیں۔امید کی جانی چاہئے کہ انتظامیہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائے گی اور مزید کسی سیلاب کا انتظار کئے بغیر آج سے ہی سیلاب کے امکانات کو ٹالنے کیلئے کام شروع کرے گی اور وقت مقرر کرکے ا س کام کو معیاد بند مدت میں مکمل بھی کیاجائے گا کیونکہ جب تک یہ کام مکمل نہیں ہوتے،یہاں سیلاب کا خطرہ بدستور موجود رہے گا اور لوگ بدستور ذہنی طور پریشان ہی رہیں گے اور بارش کے چند قطرے ہی لوگوں کو نقل مکانی پر پھر مجبور کریں گے ۔چھ سال بعد انسداد سیلاب کی صورتحال انتظامیہ کیلئے لمحہ فکریہ ہونی چاہئے اور انہیں اپنی کارکردگی پر پشیماں ہونا چاہئے کہ آخر وہ کیا کررہے ہیں ۔ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے ۔آج بھی اگرانتظامیہ ارادہ باندھ لے تو یہ کام قلیل مدت میں مکمل ہوسکتا ہے تاہم اس کیلئے مشینری جذبہ کی ضرورت ہے ۔عوام کو انتظا میہ سے یہ امید ہے کہ وہ انہیں حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گی اور مستقبل کیلئے پیشگی منصوبہ بندی کی جائے گی تاکہ امکانی سیلاب کے وقت نقصانات کو کم سے کم کیاجاسکے۔