تازہ ترین

کورونا اور جموں…گھبرائیں نہیں بس سنبھل جائیں

تاریخ    7 ستمبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
صوبہ جموں خاص کر جموںشہر میں جس طرح گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران کووڈ معاملات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ،وہ واقعی تشویشناک ہے اور ایک بار پھر اس ناقابل تردید حقیقت کی جانب واضح اشارہ کرتا ہے کہ کورونا ہمارے انسانی سماج میں گہرائی تک سرایت کرچکا ہے ۔جموں شہر میں گزشتہ چارروز کے دو ران کم و بیش دو ہزار کورونا معاملات سامنے آئے ہیں اور مارچ سے شروع ہونے والے کووڈ بحران میں پہلی دفعہ گزشتہ تین روز سے جموں نے کشمیر کو ہلاکتوں اور کیسوں کے معاملات میں پچھاڑ دیاہے ۔گزشتہ ہفتہ تک عام تاثر یہی تھاکہ کورونا کشمیر میں بری طرح پھیل چکا ہے جبکہ جموں قدرے محفوظ ہے کیونکہ کیس زیادہ نہیں آرہے تھے ۔عوامی تاثر یہ تھا کہ شاید کشمیر میںلاپرواہی زیادہ ہورہی ہے ،اسی لئے وہاں کورونا پھیل رہا ہے ۔ہمارے سیول سیکریٹریٹ میں بھی بیروکریٹوں کی سوچ اس سے کچھ مختلف نہیں تھی اور عملی طور کشمیری لوگوں پر لاپرواہی کے طعنے کسے جارہے تھے تاہم اب جو صورتحال جموں صوبہ سے ابھر کر سامنے آرہی ہے ،وہ بھیانک ہے اور اس حقیقت کی جانب اشارہ ہے کہ کورونا جتنا کشمیر میںموجود ہے ،اتنا ہی جموں میں بھی موجود ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ جموں میںگزشتہ ہفتہ تک کووڈ -19کے حوالے سے ٹیسٹنگ نہ ہونے کے برابر تھی ۔اب جب ضلعی اور صوبائی انتظامیہ جموں نے رنڈم ٹیسٹنگ شروع کی تو پتہ چلا کہ پٹری پر چائے بیچنے والے سے لیکر سرکاری دفاتر کے ملازمین اور ڈاکٹروں تک کورونا مریضوں کی بھرمار ہے ۔ریپڈ انٹی جن ٹیسٹنگ عمل سے گزشتہ ایک ہفتہ میں جموں صوبہ میں جس طرح 3سے4ہزار نئے معاملات سامنے آئے ،وہ دکھاتا ہے کہ جموںمیں بھی کووڈ -19کا وائرس موجود تھا اور یہ انسانی سماج میں بہت گہرائی تک داخل ہوچکا تھاتاہم جب تشخیص ہی نہیںہورہی تھی تو پتہ نہیںچل پارہا تھا کہ آخر اس دراندازی کی نوعیت کس قدر سنگین ہے تاہم اب معاملات واضح ہوچکے ہیں اور پتہ چل چکا ہے کہ کووڈ -19وائرس جموں کے تمام علاقوں میں نہ صرف موجود ہے بلکہ یہ اپنا کام کررہا ہے ۔جموں میں گزشتہ چند روز کے دوران اموات میں اضافہ بھی اس حقیقت کا غماز ہے کہ صوبہ میں صورتحال کچھ اطمینان بخش نہیںہے بلکہ کورونا سے متاثرہ انتہائی نازک مریض ہسپتالوں کا رخ کررہے ہیں۔
یہ اچھی بات ہے کہ انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر کووڈ ٹیسٹ کرنے کا سلسلہ شروع کررکھاہے ۔اس سے ایک اندازہ ہوگا کہ کس حد تک سوسائٹی متاثر ہے اور پھر اسی انداز میں اس سے نمٹنے کی تیاری بھی کی جاسکتی ہے۔ ریپڈ انٹی جن ٹیسٹ چونکہ فوری نتیجہ دیتا ہے تو یہ انتہائی کارگر ہتھیار ہے اور جموں میں بیشتر معاملات اسی ٹیسٹ کے ذریعے ہی سامنے آرہے ہیں۔کورونا کس قدر حملہ آور ہوچکا ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ روز جموں شہر میں 352معاملات سامنے آئے اور ان میں177صرف بنک ملازمین ہی تھے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جموں کے بنکوں میں بھی کورونا نے زور دار دستک دی ہوئی ہے ۔اعدادوشمار کا لیکھا جوکھا بتاتا ہے کہ جموں شہر کا کوئی سرکاری دفتر کورونا سے محفوظ نہیں ہے اور ہر دفتر میں کورونا انفیکشن پہنچ چکا ہے ۔تاحال جتنے بھی دفاترمیں ملازمین کے ٹیسٹ کئے گئے ،وہاں ملازمین کی ایک اچھی خاصی تعدادمثبت پائی گئی، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ محض ملازمین ہی متاثر نہیں ہیں بلکہ ان کے اہل خانہ اور ان کے اڑوس پڑوس میں رہنے والے وہ لوگ جو انکے رابطہ میںآئے ہوں ،وہ بھی متاثر ہوسکتے ہیں ۔جہاں تک سرکاری دفاتر میں ایسے ملازمین کے ساتھ رابطے میں آنے والے سائلین کا تعلق ہے تو سوچ کرہی پھر خوف آجاتا ہے ۔ایک زمانہ تھا جب سفری تفصیلات پوچھی جاتی تھیں ،رابطے میں آنے والوں کی لسٹ بنائی جاتی تھی لیکن اب کووڈ اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ اب شمار رکھنا مشکل ہوچکا ہے ۔ 
یہ صورتحال قطعی خوش آئند قرار نہیں دی جاسکتی ہے ۔ہاں اس میں اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ فی الوقت جو کیسوں کی تعداد میں ہم اضافہ دیکھ رہے ہیں ،یہ جارحانہ ٹیسٹنگ کا نتیجہ ہے اور یہ اونچی یا لمبی اُچھال کچھ وقت تک رہ سکتی ہے جس کے بعد گراف پھر نیچے جاسکتا ہے۔ فی الحال ہمیں ان بڑھتے معاملات سے فکر مند ضرور ہونا چاہئے لیکن پریشان نہیں کیونکہ پریشانی کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔یہ نیا رجحان اس بات کا متقاضی ہے کہ ٹیسٹنگ کے عمل کو زیادہ سے زیادہ وسعت دی جائے اور زیادہ سے زیادہ علاقوں میں ہمہ گیر ٹیسٹنگ کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ کورونا کے ایسے مریضوں کا پتہ لگ سکے جن میں علامات نہیں ہیں یا الگ علامات ہیںتو بتاتے نہیں ہیں کیونکہ ایک دفعہ جب کورونا کے سبھی مریض رپورٹ ہونگے تو علاج آسان ہوگا اور پھر کورونا گراف کو کم کرنے میں آسانی ہوگی ۔امید کی جاسکتی ہے کہ انتظامیہ ٹیسٹنگ کے موجودہ عمل کا دائرہ بڑھائے گی اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ٹیسٹ کرائے گی۔ ساتھ ہی لوگوںسے یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ اس عمل میں حکومت کو مکمل تعاون فراہم کریںگے تاکہ کورونا کے خونی پنچوں سے انسانی سماج کو نجا ت مل سکے۔