تازہ ترین

افسانچہ

تاریخ    6 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


عادل نصیر

ہندوارہ کشمیر،موبائل نمبر؛7780912382

 

کتاب

لاک ڈاون کے طویل گھٹن زدہ ماحول سے تنگ آکر میں اکثر غیر ضروری کاموں میں گھنٹوں بِتا کر دن کاٹنے کا عادی ہوچکا ہوں ۔ قرینے سے رکھی چیزوں کو نئی بلکہ غیر ضروری ترتیب دینا میرا معمول سا بن چکا ہے ۔ کبھی پرانا البم نکال کر تصویروں میں گم ہوجانا، کبھی  بغیچہ میں گھاس کے تنکے چننا ، کبھی مخصوص الماریوں کو کھنگال کر غیر متوقع چیزیں پانا، کبھی سوشل میڈیا پر وقت گزارنااور نہ جانے کیا کیا ۔ 
آج کمرے میں موجود پرانی بناوٹ کی کتب خانہ نما الماری کی باری آئی ۔کئی لمحوں تک ان پرانی کتابوں کو یونہی گھورتا ہی رہا کہ شاید ان میں سے کوئی کتاب میں نے خریدی ہو مگر مجھے سخت افسوس ہوا کہ یہ ساری کتابیں میرے والد صاحب نے خریدی تھیں اور پڑھنے کا شرف بھی فقط مرحوم کو حاصل ہوا تھا۔ کتب بینی کے معاملے پر ایسا اتفاق میرے ساتھ آج تک نہ ہوا تھا نہ آئندہ ہونے کے آثار نمایاں تھے۔ لیکن بوسیدہ اوراق سے اُٹھنے والی بُو سے اس المیہ کا شدید احساس لاحق ہوا  کہ مجھے ان میں چھپے فلسفے اور حکایات پڑھنے کی کبھی فرصت ہی نہیں ملی اور یوں میں گنجہائے گراں مایہ سے قطعی محروم رہا۔ انسانی فطرت کے سبب ان بیچاری کتابوں کی قید مسلسل کے بارے میں سوچ کر ترس بھی کھایا۔ کافی دیر تک خود پر افسوس کرنے کے فوراً بعد میں نے عزم بازیابی باندھا۔ چنانچہ میں نے ان کی رہائی کا بندوبست کیا اور برسوں پہلے بند کواڑوں کو کھول کر دھول سے اٹی کتابوں کو باہر نکالنا شروع کیا۔ پہلے میں نے الماری کی خوب صفائی کی، کستوری کے عطر کا چھڑکاو بھی کیا تاکہ سارا غبار ٹل جائے۔ پھر میں کتابوں کو جھاڑ پھونک کر قرینے سے رکھنے لگا۔ اس عمل کے دوران مجھے  محسوس ہوا جیسے برسوں سے کال کوٹھری میں بند کسی شخص نے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کا لمس محسوس کیا ہو۔ روشن دان کی سلاخوں اور درازوں پر جمی دھول یک لخت بارش و ہوا کے مشترکہ آپریشن سے دھل گئی ہو۔
میں اسی عمل میں مصروف تھا کہ خوبصورت پیراہن  (جلد) میں لپٹی کتاب کی ورق گردانی کے دوران ایک رقعے پر میری نظر پڑی ۔ نہایت خوبصورت لفافے میں بند اس خط کی تحریر بھی اس قدر خوش خط تھی کہ میں نے خط پڑھنا شروع کیا،  لکھا تھا ۔
 
تسلیمات!
امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہونگے ۔ اس برقی دور میں آپ کو یہ خط پڑھنے کی فرصت ملی ، آپ واقعی خوش قسمت ہیں ۔ میں جانتی ہوں کہ زندگی کے شیریں ایام میں غموں کی تلخیوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہوگا۔ دنیا ہوا کے مانند آگے بڑھ رہی ہے ۔ نئے نئے انکشافات ہو رہے ہیں ۔ علوم وفنون میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر چیز بہتر سے بہترین ہو رہی ہے ۔*
میرے قاری! میں جانتی ہوں کہ اب دنیا کے بیشتر لوگوں کو غالبا کتاب کی ضرورت نہ رہی ۔ ہر چیز کا متبادل تلاش کیا جا رہا ہے ۔ آپ نے میرا یعنی کتاب کا بھی متبادل ڈھونڈ لیا ہوگا اور دنیا میں میرا وجود بے آسرا سا ہوگیا ہے۔ میرے چاہنے والے مر رہے ہیں اور جو نئے پیدا ہورہے ہیں وہ اپنے دور کی نئی ایجادات کی طرف زیادہ مائل ہیں اور ہونا بھی چاہئے ۔ دنیا کو ترقی کا سبق میں نے ہی سکھایا تھا ۔ لیکن مجھے یقین نہ تھا کہ یہ ترقی ایک دن مجھے ہی بُھلا دے گی ۔ اب مجھے پٹریوں پر بیچا جارہا ہے ۔کبھی کبھی خرید کر خوبصورت شیلفون یا اندھیروں میں قید کردیا جاتا ہے اور جب کبھی قفس دار کھل جائے تو سماجی اور مذہبی منافرت مختلف معاملات کے لئے استعمال ہوتی ہوں ۔ میں اس استحصال اور عدم توجہی سے اب بس ابدی آزادی کی منتظر ہوں۔ مگر ابھی ابھی کچھ عاشقوں کی حسرتیں باقی ہیں، جن کی امید پر زندہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔*
مگر یقین جانو میری غیر موجودگی دنیائی نظام  میں ایک خلا پیدا کر دے گی ۔
بہرحال دعا ہے کہ گردشِ ماہ و سال باقی رہے ۔ 
بہاروں کی طالب
کتاب
خط پڑھ کر میری آنکھیں نم ہوگئیں ۔ برسوں بعد جیسے کسی گمشدہ دوست سے اچانک میری ملاقات ہوگئی ہو۔ 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
افسانچے
عذرا ؔحکاک(سرینگر)
کشمیر یونیورسٹی، bintegulzaar@gmail.com
کُھلا سانڈ
اس دن میرے مالک خواجہ بدرالدین کے سانڈ نے گائوں میں تہلکا مچا دیا تھا۔ گائوں کے کئی بچوں،عورتوں اور بوڑھوں کو زخمی کر ڈالا تھا۔اِتنا ہی نہیں بلکہ نہ جانے کتنے گائوں والوں کے کچے مکانوں کو اپنے مضبوط سینگوں سے تباہ و برباد کر ڈالاتھا اورنہ جانے کتنے گائوں والوں کے مویشیوں کو بھی لہولہان کر دیا تھا۔ ٹھیک اُسی دن شام کے وقت مالکن سے ملنے گائوں کی دو چار لڑکیاں آئیں۔اُنہوں نے مالکن سے بڑی تلخ کلامی کی۔ایک نے بڑے غصے میں مالکن سے کہا’’اگر آپ کو پتا ہے کہ آپ کا سانڈ پاگل ہے تو آپ لوگ اِسے کھلا کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟باندھ کر کیوں نہیں رکھتے؟‘‘ 
’’کیا ہوا بچیو! تم لوگوں کے پیچھے بھی پڑ گیا تھا کیا؟‘‘
’’ہاں ہم سب کے پیچھے ۔۔۔جینا حرام کر رکھا ہے آپ کے کُھلے سانڈ نے۔۔۔‘‘
’’کوئی بات نہیں بچیو!اب سے تم لوگوں کو کوئی شکایت نہیں ہو گی۔وہ قابو ہو چکا ہے اور ابھی ابھی ہمارے ملازمین اسے مضبوطی سے باندھ کر آئے ہیں۔۔۔ہم اُس کا خیال رکھیں گے ۔۔۔تم بے فکر ہو کر گھر جائو۔‘‘
’’ارے خالہ! ہم اُس سانڈ کی بات نہیں کر رہے۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’ہم آپ کے عیاش بیٹے فخر الدین کے بارے میں بات کر رہی ہیں جو کُھلے سانڈ کی طرح گائوں میں دندھاتا پھرتا رہتا ہے۔راستے پر لڑکیوں کا پیچھا کرتا ہے،ان پرگندے گندے فقرے کستا ہے اوران کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر تا ہے۔‘‘جب یہ باتیں میں نے سنی تو معلوم ہوا کہ ہمارے مالک نے گائوں میںایک نہیں بلکہ دو دو کھلے سانڈ چھوڑ رکھے ہے۔
 
دلہن
"آپ فکر نہ کیجئے سجاد صاحب!۔۔میں اس گھر میں بہو نہیں بیٹی بن کر آئی ہوں۔"شادی کے تیسرے دن میرے چچازاد سجو بھائی کی دلہن کے ادا کئے ہوئے اس جملے کے باعث میں ان کی گرویدہ ہوگئی۔
پھر تیسرے دن جب مجھے واپس گھر جانا تھا تو چاچی نے دوپہر کا کھانا کھائے بغیر جانے نہیں دیا اور کہا" سجو بھی گھر پہ نہیں ہے۔۔۔ سو دلہن کا اکیلے کھانا کھانا کچھ مناسب نہیں۔ "انہوںنے ہم دونوں کے لئے کمرے میں ہی کھانا لانے کی پیشکش کی تو دلہن بولی"نہیں!نہیں!۔۔۔ ابھی بھوک نہیں ہے۔" چچی نے کہا"ٹھیک ہے!۔۔۔جب کھانے کا من ہو تو مجھے آواز دینا۔"دلہن بولی "ہوں!"
 دو منٹ کی خاموشی کے بعد دلہن اپنا ماتھا کھجلاتے ہوئے مجھ سے بولی’’ سجاد صاحب کو فون لگائو۔‘‘میں نے بنا سوال جواب کئے فون لگا دیا اور فون دلہن کے ہاتھ میں تھما دیا تو ان کا ایک جملہ سن کر میں سمجھ گئی کہ اس گھر کا تو اب خدا ہی حافظ ہو سکتا ہے اور چند مہینے بعد دلہن نے میرے اندازے کو عملی جامہ پہنابھی دیا۔دراصل وہ فون لے کر یہ جملہ بولی تھی"سجاد صاحب! آپ کدھر ہیں؟ پلیز جلدی گھر آجائیں۔۔۔مجھے اتنی بھوک لگی ہے کہ میں آپ کو بتا بھی نہیں سکتی۔۔۔یہاںکوئی دوپہر کے کھانے کے لئے پوچھنے تک نہیں آیا!!"
 
شرم کی بات
"واہ! عبد الاحد نے تو آج زبردست دعوت کا اہتمام کیا۔اس قدر لذیز وازوان میں نے آج تک نہیں چکھا۔۔۔واہ! کیا کہنے!" 
"ہاں! ٹھیک ہی تھا۔"
"ارے ٹھیک نہیں بہترین بول۔۔۔اتنی دھوم دھام سے آج تک محلے میں کسی بیٹی کی شادی نہیں ہوئی۔خدا تعالی جلد از جلدمجھے بھی اپنی بیٹی کو اسی شان و شوکت سے رخصت کرنے کی توفیق دے۔"
"ارے۔۔۔تمہیں ہو کیا گیا ہے؟۔۔۔ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے؟"
"اکیس کی ہوگئی ہے۔۔۔۔میرے خیال سے شادی کے لئے یہ مناسب عمر ہے۔"
"مجھے تو مناسب نہیں لگتا۔"
"عبدالاحد کی بیٹی بھی تو لگ بھگ اکیس کی ہی ہے۔۔۔ دیکھو آج اس کی شادی ہو گئی۔"
"ارے۔۔۔پورا محلہ اس بات سے واقف ہے کہ اگر وہ عشق معاشقہ کر کے خود اپنے لئے لڑکا منتخب نہ کرتی تو اتنی جلدی کہاں رشتہ ملنا تھا۔شرم تو ہوئی نہیں اس سے ۔۔۔لہذا ماں باپ نے بھی سوچا ہوگا کہ چلو اسی بہانے بوجھ کاندھوں سے اُتر جائے گا۔"
"کسی کی بیٹی کے متعلق اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے تمہیں شرم آنی چائیے۔"
"اس میں شرم کی کیا بات ہے...سچ ہی تو ہے۔"
"تو یہ بھی سچی ہے کہ اسکی پسند اپنی تھی لیکن باپ نے بڑی عزت سے رخصت کیا۔شرم کی بات تو بھاگ کر شادی کرنے میں ہے اور بیٹی کا بھاگ کر شادی کرنے سے والدین کو کس ذلت و رسوائی سے گذرنا پڑتا ہے یہ تجھ سے بہتر اور کون جان سکتا ہے۔۔۔۔۔ ہے نا؟"
"ہوں۔۔۔"
 
 
 
پچھتاوا
افسانچہ
 
غازی عرفان خان
عادل کام سے تھکا ماندہ بھوک سے نڈھال اور پسینے سے شرابور گھر لوٹ رہاتھا۔گھر پہنچا تو ماں سے کھانا لگانے کو کہا۔ماں نے پانی کا ایک گلاس تھماتے ہوئےکہا کہ بیٹا عادل تم ہاتھ منہ دھولو تب تک میں کھانا لگاتی ہوں۔
عادل واش روم کی طرف چلا گیا اورفریش ہوکرکے آیا۔ ماں نے بڑی شفقت سے عادل کے سامنے کھانا رکھا ۔
عادل نے جونہی کٹوری کی طرف دیکھا تو سبزی دیکھ کر موڈ خراب ہوگیا اور وہ ماں پر برس پڑا اورکھانا وہیں چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوگیا۔ ماں نے بہت روکنے کی کوشش کی اور کھانا کھانے کے لیے منتیں کیں،لیکن اس پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ گھر سے باہر نکل گیا۔ 
  گھر سے کچھ فاصلے پر ایک پبلک پارک تھا ۔وہ وہیں مایوس ہوکر بیٹھ گیا اور اپنے آپ سے باتیں کرنے لگا۔ 
چونکہ مغرب کا وقت قریب ہی تھا وہ اٹھا اور نماز کے ارادے سے مسجد کی جانب چلا گیا ۔ 
انکل انکل! کچھ کھانے کےلئے دو ۔۔بہت دنوں سے بھوکے ہیں۔ بہت بھوک لگی ہے۔۔۔۔۔ پاس میں ہی کچھ چھوٹے بچے مقامی لوگوں سے کھانے کی بھیک مانگ رہے تھے لیکن ان کی بات کون سننے والا تھا۔۔۔۔ یہ بچے خالی ہاتھ نکلے ۔۔۔کھانے کی تلاش میں اِدھر اُدھر گھوم رہے تھے۔۔اسی وقت ایک گھر سے ایک عورت نکلی جس کے ہاتھ میں کچھ برتن تھے ۔۔بچے خوش ہوئے ۔۔۔کیونکہ برتن میں پکے ہوئے چاول اور سالن تھا۔۔ لیکن اس عورت نے یہ کھانا سڑک کے ایک کنارے جانوروں اور پرندوں کے لیے پھینک دیا۔۔وہ پکا ہوا چاول اور سالن کئی دنوں کا سڑا ہوا تھا لیکن وہ بچے اسی کھانے پر جھپٹ پڑے۔۔۔عادل یہ صورتحال اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔۔۔۔۔مسجد میں نماز مغرب ادا کرکےرب کا شکر ادا کیا کہ تو نے مجھے کھانے کی نعمت عطاکی ہے اور میں اس کی ناقدری کرکے گھر سے چلا آیا۔ مسجد سے نکل کر اس نےفوراً  گھر کی طرف دوڑ لگائی۔ ماں سے معافی مانگی اور کھانا کھایا۔
رابطہ؛منیگام گاندربل، کشمیر