تازہ ترین

ایس او پی

کہانی

تاریخ    6 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


تحلیل احمد ملک
آج اکرم بھائی کو کافی عرصہ بعد دیکھ کر رشید احمد نے اُس سے گلے مل کر کہا ،" کیوں اکرم بھائی،  آج کل نظر ہی نہیں آتے ہو "۔
"رشید بھائی دراصل میں مہلک وبا کا شکار ہو گیا تھا اور کل ہی مجھے قرنطینہ سے چھٹی ملی "۔
" چلو شکر ہے اللہ کا کہ تم ٹھیک ہو گئے ۔ کل ہمارے گھر پر دعوت کا اہتمام ہے۔ تم ضرور آئو گے"
"جی ضرور آؤں گا، انشاءاللہ "
دوسرے دن جب اکرم انکے گھر گیا تو دیکھا کہ مہمان ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملائے بیٹھے ہیں۔ نہ ماسک اور نہ کوئی احتیاط۔ یہاں تو ایس او پی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ اکرم نے رشید سے کہا، " ارے رشید بھائی یہ کیا ؟ یہاں تو ایس او پی نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔۔۔۔۔!"
"ارے اکرم بھائی،  ایس او پی صرف کاغذات میں اچھا لگتا ہے۔ حقیقی زندگی میں اسکو عمل میں لانا کافی مشکل ہے ۔ بازاروں کی ہی بات کرو، وہاں پر تو تمام سرکاری دفاتر ہیں اور اوپر سے وہیں پہ سب سے زیادہ ایس او پی کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے ۔ اس کا کوئی جواب ہے تمہارے پاس؟"
رشید احمد کی یہ بات سن کر اکرم چپ چاپ سر جھکا کر بیٹھ گیا اور دعوے کے مزے لینے لگا۔