تازہ ترین

سوار

کہانی

تاریخ    6 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


ناصر ضمیر
کیا آپ کہانی سننا پسند کریں گے ؟ 
کیا آپ کو کہانی سننے میں دلچسپی ہے؟ 
ویسے آپ کو سنتے پڑھتے دیکھ کر لگتا ہے  کہ آپ کو کہانیوں میں، داستانوں میں دلچسپی ضرور ہے۔ 
بھلا کیوں نہ ہوگی۔ کہانی ہماری تاریخ ہے، کہانی آج کی بات ہے، کہانی کل کی اُ مید ہے ۔ 
کہانی کل بھی  ہمیں رقم کر رہی تھی، کہانی آج بھی ہمیں لکھ رہی ہے اور کہانی کل بھی ہمیں سنائے گی۔ 
پر
 پر جو کہانی میں آپ کو سناوں گا یا جو آپ پڑ ھیں گے اس پر آپ کو حیرت ضرور ہوگی  اس پر آپ کو یقین نہیں  ہوگابلکہ آپ پریشان بھی ہوسکتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے مجھ پر غصہ بھی ہوں۔۔۔۔پر۔۔۔۔ پر آپ کو یقین کرنا ہوگا، جی ہاں! یقین کرنا ہی ہوگا، بالکل اسی طرح جس طرح آپ کرتے آئے ہیں۔۔۔ہر بات پر۔۔۔۔ہر بات پر۔۔۔۔ بنا دیکھے، بنا جانے، بنا سمجھے۔۔۔۔بنا پرکھے ۔۔۔۔۔ہاں بالکل ویسے ہی۔ 
تو سنیے 
یہ ان دنوں کی بات نہیں جب سیاہ فام لوگ اپنے ایک ساتھی کے قتل ہونے پر سراپا احتجاج  تھے اور سڑکوں  پر اتر آے تھے۔ یہ ان دنوں کی بات بھی نہیں جب ایک نظر نہ آنے والے وائرس کی وجہ سے انسانی وجود خطرے میں آگیا اور یوں لگ رہا تھا کہ شاید انسانی نسل اب دنیا  سے ختم ہوجاے گی۔ 
یہ اس سے پہلے کی بات ہے
 جی ہاں یہ اس سے پہلے کی بات ہے پر اتنی بھی پرانی نہیں کہ جب ریل گاڑی ہمارے علاقے میں آئی تھی ۔۔۔۔۔۔آپ سن رہے ہیں نا، آپ پڑھ رہے ہیں۔  نا۔۔۔۔ یہ اس کے بعد کی بات ہے جب ریل گاڑی ہمارے علاقے میں آئی تو تھی پر لوگوں کے سفر کا حصہ ابھی نہیں بنی تھی، مطلب لوگوں نے ابھی اس میں سفر کرنے کو اپنی ترجحات میں شامل نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ کہیں آپ یہ تو نہیں سمجھ رہے ہیں کہ میں آپ کو خوامخواہ باتوں میں الجھا رہا ہوں۔۔۔۔۔ نہیں بالکل نہیں۔۔۔۔؛آپ اپنے تمام تر خدشے اور شبہات دور کریں کیونکہ  میں جو آپ سے کہہ رہا ہوں یا جو آپ سن رہے ہیں  یاپھر آپ جو پڑھ رہے ہیں  وہ سچ ہے سو فیصدی سچ۔۔۔۔۔ اور یہ  یہ پوراسچ جان کر آپ کو  حیرت ضرور ہوگی لیکن آپ کو یقین نہیں ہوگا۔۔۔مگر۔۔۔۔ آپ کو  یقین کرنا ہی پڑے گا ۔ کیونکہ اس کے سوا آپ کے پاس چارہ نہیں۔ 
ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا یہ بات ان دنوں کی ہے جب میں اکائونٹس محکمے میں کام کر تاتھا اور 50 کیلومیٹر کی مسافت  طے کرکے اپنے دفتر  پہنچتا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میری نئی نئی بدلی شہر میں ہوئی تھی۔قصبے سے شہر تک کا سفر بھیڑ سے بھری  بسوں میں کرتا اور وقت پر پہنچنے کی کوشش میں رہتا۔۔۔۔بس بھاگ دوڑ کرتا  رہتاصرف بھاگ دوڑ۔ اپنے قصبے سے شہر تک کا سفر ڈیڑھ گھنٹے کا تھا وہ ڈیڑھ گھنٹہ اتنا تھکا دینا والا۔۔۔۔اُف۔۔۔۔ بس اڑے اور میرے دفتر کے درمیان راستے میں ایک بات راحت کی تھی وہ تھی شاہی دربار کی عمارت۔۔۔۔ اس عمارت پر نظر پڑتے ہی میری ساری تھکان اور ساری مایوسی  دور ہوجاتی۔ ہر ورکنگ ڈے پر آتے جاتے(Working Day)جب میری نظرشاہی عمارت کے دالان پر پڑتی تو مجھے ایک عجیب سکون ملتا ۔۔۔۔اب آپ پوچھیں گے کہ وہاں شاہی دربار کے دالان پر ایسا کیا تھا؟
شاہی دربار کی دالان پر مجھے وہ نظر آتا ...... وہی جو ہر بار مجھے  ہنستا مسکراتادکھتا  ۔۔۔۔۔اور یوں میری تھکان اور اکتاہٹ دور ہو جاتی ۔۔۔۔۔ہاں وہی سات منزلہ شاہی دربار کی عمارت جس کی بہت ساری کھڑ کیاں ہیں ۔ ان ساری کھڑکیوں کو نظر انداز کرکے میں صرف اسے دیکھتا ۔۔۔۔اور وہ ہنستا مسکراتا ہوا نظر آتا۔۔۔ اس کے  ساتھ دوسرا  بھی ہوتا۔۔۔۔ پر میں  اس دوسرے کو نہیں بلکہ صرف اسےدیکھتا رہتا۔۔۔۔ 
آپ لوگ سن رہے ہیں نا، آپ لوگ پڑھ رہے ہیں نا۔
 آپ لوگوں کو یہ پوری کہانی سننی  پڑھے گی۔ میرا وعدہ ہے کہ کہانی پوری سننے پر یا پڑھنے پر آپ کو حیرت ہوگی ۔ آپ کا یقین کرنے کو جی نہیں چاہے گا پر آپ کو یقین کرنا ہی پڑے گا کیونکہ آپ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں۔ 
ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔ ہاں یاد آیا  ہر ورکنگ ڈے پر میں اسے دیکھتا، وہ ہنستا مسکراتا ہوا نظر آتا ۔ اس میں یہ خاصیت ضرور تھی کہ  وہ مجھے اپنی طرف روز متوجہ کرتا۔ میں من ہی من  اسے سلام پیش کرتا اور وہ بھی لہرا کر میرا پیش کیا ہوا سلام قبول کرتا۔ میرے دل میں اس کے لیے ایک خاص قسم کا جذبہ، ایک تقدس و احترام کروٹیں  لیتا۔ وہ بھی مجھے اپنی عظمت کا احساس دلاتا رہتا۔ 
پھر۔۔۔۔۔ پھر ایک دن۔۔۔۔۔۔آپ لوگ غور سے سنیے ،آپ غور سے پڑھئے گا۔۔۔۔۔۔۔ 
جی ہاں پھر ایک دن میں جب صبح اٹھا ۔ دیکھا تو بہت کچھ بدل چکا تھا۔جی ہاں! حضرات بہت کچھ بدل چکا تھا۔بدل جانے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ میں کسی کیڑے میں تبدیل ہوچکا تھا ۔۔۔
نہ میں کیڑے میں تبدیل ہوا تھا اور نہ ہی میرے پر نکل آئے تھے۔ نہ کویی کایا کلپ ہوئی تھی اور نہ ہی ہیت تبدیل ہوئی تھی۔ واقعی ایسا کچھ نہیں ہوا تھا اور نہ ہی کچھ ایسا ہوا کہ میں انسان سے بندر میں تبدیل ہوا۔ میری بات میرے گھر کے افراد سن بھی رہے تھے اور سمجھ بھی رہے تھے۔ 
پھر بھی بہت کچھ بدل چکا تھا۔ اس بدلائوکی وجہ سے کچھ دن گھر میں ہی پڑا رہا۔ صرف میں ہی نہیں سب گھروں میں ہی پڑے رہے۔ نہ کام دھندا نہ کہیں آنا جانا ۔
ایک سہ پہر۔۔۔۔
آپ لوگ سن رہے ہیں نا، آپ لوگ پڑھ رہے ہیں نا ۔۔ 
ہاں تو ایک سہ پہر۔۔۔کو میں ٹیلی ویژن پر نیوز دیکھ رہا تھا کہ کیا دیکھا  شاہی دربار دکھایا جا رہا تھا۔۔۔۔۔پر "وہ۔"۔۔۔۔ "وہ"۔۔۔۔۔ کہیں نہیں تھا۔ 
صرف اس کے ساتھ جو دوسرا ہوتا فقط وہی نظر آر ہا تھا وہ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟" وہ" کہیں نہیں تھا 
"ان ہی لو گوں نے......ان ہی لوگوں نے ......ان ہی لوگوں نے چھینا ہےڈوپٹہ میرا "
دھت شیطان کہیں کا، میں نے بچے کو ڈانٹا جس نے ٹیلی ویژن کے ریموٹ کا بٹن دبایا تھا اور نیوز کے بدلے فلمی گیت بجا۔۔۔ 
میں نے واپس نیوز چینل رکھا۔ شاہی دربار کے دالان پر "وہ" کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ میں نے سگریٹ سلگایا اور دو زانوں بیٹھ گیا  پریشانی کی حالت میں اپنے تمام جسم کو ہلانے لگا اور سگریٹ کے لمبے لمبے کش لینے لگا ۔ 
پھر اس کے بعد "وہ" کبھی نہیں دکھا۔ 
ہر دن آفس میں کام کرتے کرتے یا پھر گھر سے باہر ، جب بھی ، جہاں بھی ہوتا میں ہمیشہ اسی کے بارے میں ہی سوچتا۔۔۔۔۔۔ جی ہاں اسی کے بارے میں سوچتا اور پھر سوچتا ہی رہتا ۔ 
ایک دن۔۔۔۔۔۔
 آپ لوگ سن رہے ہیں نا، آپ لوگ پڑھ رہے ہیں نا ۔
ایک دن
میں آفس میں کام کرتے کرتے من ہی من اس کے بارے میں سوچنے لگا کہ اچانک مجھے خیال آیا کہ شاہی دربار کے پاس پڑوس والوں سے یا پھر  شاہی دربار کے سامنے سے گزرنے والوں  سے کیوں نہ پوچھا جاے ،ہو سکتا ہے انھوں نے دیکھا ہو یا پھر انھیں اس بارے میں کویی علمیت ہو کہ آخر" وہ" کہاں ہے۔ 
پھر کیا تھا میں آفس سے بھاگ کھڑا ہوا اور ہر آنے جانے والے سے پوچھنے لگا۔ 
ارے بھائی۔۔۔۔۔۔۔ سنو بھائی۔۔۔۔ دیکھو بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔ سنو بابا۔۔۔۔۔۔ ارے بہن جی۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ لوگوں نے اُسے دیکھا ہے۔ جب اسے شاہی دربار کے دالان سے نیچے پھینک دیا گیا تو  اس کا کیا ہوا۔۔۔؟ "وہ" کہاں گیا؟ 
کیا کسی نے دیکھا کہ آخر اس کا کیا ہوا۔۔۔؟ 
سنو تو سہی کوئی بتاو تو سہی۔۔۔۔۔   
پھر ایسا ہی چلتا رہا جس کسی سے بھی پوچھتا تو کوئی جواب نہ دیتا۔ شاید لوگ اس کے بارے میں بات ہی نہیں کرنا چاہتے تھے یا پھر۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ مجھ پر ہنستے، کچھ دھکا دیتے، کچھ ڈانٹ پھٹکار پلاتے یا پھر میرا مذاق اڑاتے۔ ٹریفک سگنل پر لمبی لمبی قطاروں میں کھڑی گاڑیوں میں بیٹھے لوگوں سے پوچھتا تو وہ اپنی گاڑیوں کے شیشے اوپرجڑھاتے اور مجھے ایسے گھورتے جیسے کوئی عجوبہ دیکھ رہے ہوں۔ اور کبھی کبھار عورتیں مجھے دیکھ کر باضابطہ چیخ پڑتیں۔ مجھےیاد ہی نہیں کہ کتنے دن سال مہینے بیت گیے  ، وقت کا دریا بہتا رہا اور بہتا ہی گیا۔۔۔بس ایسے ہی۔۔۔۔۔۔ بس یوں ہی۔۔۔۔۔۔۔
 دوپہر کی چلچلاتی ننگی دھوپ ہو، خون جمادینے والی سردی ہو، برف ہو بارش ہو، غرض کوئی بھی موسم ہو، ہر موسوم میں وہیں اسی سڑک پر ہاں اسی سڑک پر گھومتا رہا، مارا مارا پھرتا رہا۔ ہر ایک سے پوچھتا رہا۔ اسی تجسس اور تلاش میں رہا کہ کہیں سے کسی طرح اس کا پتا چلے۔ ۔۔۔۔ 
کسی کے پاس میری پریشانی، میرے مسئلے کا حل تو نکل آئے ۔ 
پہلے پہل لوگ میری طرف متوجہ ہوتے تھےاور شاید خوف زدہ بھی تھے۔۔۔۔۔۔ لیکن بعد میں انہوں نے توجہ دینا چھوڑ دی۔ 
ایک دفعہ کچھ لوگوں نے مجھ پر مسلسل نظر بھی رکھی کہ کہیں میں کوئی جاسوس یا مشکوک اجنبی تو نہیں پر بعد میں انہیں بھی احساس ہوا   کہ مجھ پر شبہ کرنا بیکار ہے اور اس طرح میں کال کوٹھری کی ہوا کھانے سے بچ گیا۔۔۔۔۔ 
پر،
پر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا 
ایک دن
آپ لوگ سن رہے ہیں نا، آپ لوگ پڑھ رہے ہیں نا ۔
ایک دن اچانک کچھ ایسا ہوا جس کا مجھے وہم وگمان بھی نہ تھا۔ 
میں سڑک پر اِدھر اُدھر لوگوں کو پکڑ پکڑ کرپوچھ ہی رہا تھاکہ "وہ" کہاں ہے؟ کیا آپ نے اسے دیکھا ہے؟ کہ اچانک ایک بڑی گاڑی کہیں سے آئی اور مجھے کچل کر چلی گئی۔اور میں نے۔۔۔۔۔۔ جی ہاں۔۔۔میں نے ۔۔۔۔۔بالکل وہیں پر اسی وقت دم توڑ دیا۔ 
آپ لوگ سن رہے ہیں نا، آپ لوگ پڑھ رہے ہیں نا۔
ارےآپ لوگ پریشان کیوں نظر آرہے ہیں ۔
ارے ہاں ایک سوال جو آپ کے دل و دماغ میں  گونج رہا ہوگا اور آپ مجھ سے ضرور پوچھنا چاہتے ہونگے۔ شاید وہی آپ کی پریشانی کہ وجہ بھی ہے 
کہ اگر میں واقعی اس دن مر گیا ہوں تو میں اس وقت کیسے آپ کو یہ کہانی سنا رہا ہوں یا پڑھوا رہا ہوں یا۔۔۔۔۔آخر یہ سب کیسے ممکن ہے؟ 
ہے نا ؟
آپ اسی سوال سے پریشان  ہیں نا؟
تو حضرات اس سوال کا جواب ڈھونڈنا آپ کا کام ہے نہ کہ میرا۔
���
جلال آباد سوپور ،موبائل نمبر؛7780889616،9419031183