تازہ ترین

ریشِ ستم کیش

کہانی

تاریخ    6 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


ڈاکٹرترنم ریاض
درگا رائوؔ کا قد درمیانہ سے ذرا لمبا، چہرہ نیم کتابی، آنکھیں کچھ غلافی، ناک قدرے گول او رٹھڈی مبہم سی تھی۔ وہ خوش لباس اور خوش مزاج تھے اور اپنی قابلیت کے سبب آرٹ کالج کے مقبول  ترین استاد بھی ۔ مخلوط تعلیمی اداروں میں اکثر اساتذہ کے ساتھ کوئی نہ کوئی کہانی وابستہ ہو جاتی ہے، مگر دُرگا رائو کے ساتھ کبھی کوئی خبر منسلک نہ ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ گھر والوں نے ان کی شادی ایک قبول صورت خاتون کے ساتھ کر دی ۔ دُرگا رائو کے روز و شب میں کوئی تبدیلی نہ آئی ۔ وہ پہلے کی طرح منضبط انداز میں کالج جاتے،  نئے نئے معرکے سر کرتے، اپنا کام لگن سے کرتے  رہے۔
 درگا رائو کی بیوی کی بس ایک ہی مانگ تھی کی وہ داڑھی رکھ لیں ۔ مگر درگا رائو کہتے کہ اگروہ پہلے ان کی زندگی میں آئی ہوتی تو بات الگ تھی ۔ اب ا ن کے جوان نظر آنے والے چہرے پر سفید بال،  سیاہ سے زیادہ اگتے ہیں اور داڑھی ان پر اچھی نہیں لگے گی مگرسری لتاؔ  کا جواب تھاکہ وہ اور باوقار نظر آئیں گے کہ کالج  میںلڑکوں کے ساتھ لڑکیاں بھی ہیں اوران کا باوقار نظر آنا جوان نظر آنے سے زیادہ ضروری ہے۔  دراصل سری لتا کی شادی،  عمر  کے کچھ حسین برس نکل جانے کے بعد ہو ئی تھی۔  اس کے اندر کہیں خوف سا چھایا رہتا کہ وہ کہیں درگا رائو کوکھونہ  دے ۔ اُس کا یقین تھا کہ ا گروہ داڑھی رکھ لیںتو کالج کی  لڑکیوں کا ان میں دلچسپی لینے کا خدشہ دور ہو جائے گا۔
ـ’’ میرا رنگ گندمی ہے ۔۔داڑھی کچھ سفید کچھ سیاہ  ہو گی۔۔ تم میرے چہرے کو تین رنگوں میں کیوں تقسیم کرنا چاہتی ہوآخر۔!‘‘
 انہوں نے الجھ کر کہا تھا۔
’’ مجھے داڑھی بہتـ پسند ہے ۔۔پچھلے ویک  اینڈ پر تین دنوں کی داڑھی آپ کے چہرے پر کتنی اچھی لگتی تھی۔۔‘‘
 سری لتا مسکرا کر بولی اورتصورمیں درگا رائو کے ذرا ذرا سی داڑھی اُ گے چہرے کو  دیکھ کر سوچنے لگی کہ سفید کرتے اور سانولے چہرے پر دو رنگی داڑھی  سے درگا رائو سچ مچ ہی تین رنگ کے نظر آتے تھے۔ خود سری لتا کو سرے سے داڑھی پسند ہی نہیں تھی مگر اس نے چہرے پر مسکراہٹ قائم رہنے دی۔ وہ درگا راؤ کی طرف سے تحفظ والے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔
’’ مگر  ابھی نہیں ۔۔ ابھی تو مجھے روزجانا ہے۔۔‘‘
درگا ر اؤ کچھ سوچتے سے بولے۔
’’ تو کوئی بات نہیں ، جب چھٹیاں ہوجائیں گی  جب رکھ لیجئے۔۔‘‘
ــ ٹھیک ہے ۔۔ اگر تمہاری یہی مرضی ہے تو۔۔‘‘
درگا راؤ نے سر کاندھے کی طرف خم کیا۔ سر ی لتا کے دل میں مسرت کا چشمہ سا اُبلا۔ سرخ کنارے کی ذرد کنچی پُرم ریشم کی ساڑی میں وہ کتنی اچھی لگتی ہے ۔ اور درگا رائو کو جب کوئی اور لڑکی دیکھے گی ہی نہیں تو وہ  بس اسے  ہی نہارا کریں گے۔ گو کہ وہ اب بھی کسی کو نہیںدیکھتے تھے، مگر پھر بھی ۔  کالج  کے لئے نکلنے کی تیاری میں آئینے کے سامنے کھڑے  درگا رائو اپنی قمیص  کے بٹن  بند کررہے تھے۔ سری لتا نے ان کے بالوں کو  ہاتھ سے ذرا سنوارا  اور کھلکھلا کر ہنس  دی۔
اسٹاف میں کچھ اور ارکین تھے جن کی دوستی برسوں سے ایک دوسرے کی کہلوایا کرتی کہ یہ وفاداریاں کبھی کبھی بدلتیں اور پھر لوٹ بھی آتیں۔  کچھ بیاہتا سا تھی  زندگی سے راضی اورکام میں اچھے تھے۔  کچھ ویسے ہی خوش  نظر آتے۔  فن  کارانہ اذہان اپنے احساسات سے مطمئن اور ایک دوسرے کے جذبات کے تئیں حساس  واقع ہوئے تھے  کہ کالج فنونِ لطیفہ کاتھا  اور طلبا اور اساتذہ عام طور پر عام طرح کی تخریب کاریوں سے خاصے دورتھے ۔دوستوں اور سہیلیوں کے جھرمٹ ، گویا  فن سوچتے ، فن اوڑھتے اور فن کی باتیں کرتے ،  پُرمسرت گھومتے نظر آتے۔
آرٹ کالج ،جنگل کودرمیان سے کاٹ چھانٹ کر  بنوایا گیا تھا۔ کاٹ کراس لئے کہ پہاڑیوں کو تراشنا پڑا تھا مگر کم  اونچے ٹیلے وہیں قائم تھے،  اور چھانٹ کر اس لئے کہ بہت سے جنگلی درختوں اور کیاریوں کو  چھیڑا نہیں گیا تھا ، صرف کچھ کو ضرورتاََ الگ کرنا پڑا تھا۔ صحت مند ماحول سے خوش طلباء تتلیوں کے جوڑوں کی طرح ساتھ ساتھ آتے جاتے اور بیلوں سے ڈھکے  اونچے  درختوں والے موٹریبل لمبے راستوں اور پھولوں کی انگنت کیاریوں کے گرد دور دور تک پھیلی گھاس کومسکرانے پر مجبور کردیتے۔ یہ دیکھ کر آسمان کرنوں کا قہقہ بکھیردیتا اور زمین میں خوشبوئیں بیدار ہو جاتیں ۔  صحت مند عمر کے انسان فن کی دنیا میں کچھ کرنے کی لگن لئے  اپنے چھوٹے چھوٹے مسئلوں اور معاملوں کو سمیٹے،  کم کم اونچے ٹیلوں والے کنکریٹ راستوں  سے گزرتے تو اطراف کے حسن کا اثر ان کی چال میں سکون سا پیدا کر دیتا۔
آرٹ کالج کی صبح کچھ ایسے ہی ہو اکرتی۔ 
داخلی پھاٹک کے بہت آگے ، د اہنی جانب کئی درختوں سے گھرا ، گیراج کا  لمبا سلسلہ تھا ۔ اس کے بعد پھر موٹر سائیکلز اور سائیکلز کے لیے  شامیانے کی سی محرابیں لئے لکڑی کی چھت سے ڈھکا  احاطہ تھا۔چھت کے اوپرمختلف موسموں  میں جنگلی درختوں سے پھل، ٹیسو سے پھول  اور نیم سے نمولیاں دھیمی دھیمی صد ائوں سے گرتیں  توخاموش فضا میں نغمہ سا چھڑ جاتا۔ اطراف میں چڑیا ں دن بھر چہکتی رہتیں۔ مور، ایک درخت سے خاصی دوری پر واقع دوسرے درخت کی جانب لمبی  اڑانیں بھرتے نظر آتے تویوں لگتاجیسے اوپر سے خاموشی کے ساتھ چھوٹا سا ہوائی جہاز گزرا ہو۔ اکثر ہی مور، راستہ پار کرکے سانپوں کی تلاش میں ، مع اہل و عیال جنگل کی طرف جاتے ملتے۔ بارشوں میں کسی وقت کوئی بلندقامت وجیہہ طائوس پکے راستے کے عین درمیان رقص کرتا  اورمورنیاں  متذبذب سی بھیگا کرتیں  تو انسانوں کوا یسا  محسوس ہوتا جیسے دنیا میں کسی نے نیوکلیائی تجربہ کیا ہی نہ ہو۔
چھٹیوں کے بعد کی پہلی صبح جب درگا راؤگاڑی پارک کرنے کے بعد عمارت میں داخل ہوئے تو خاصے محتاط انداز میں ارد گرد نظر دوڑائی کہ راستے بھر گردن اُچکااُچکا کر، گاڑی میں لگے عقب کے منظر دکھانے والے آئینے(Rear Viewer Mirror)کو چہرے کے مرکز پر لا لا کراپناچہرہ دیکھتے آئے تھے۔  گیرج سے نکلتے ہی  انہیں ان کی غیر حاضری میں منتخب ہونے والی ایک نئی ٹیچر اپنی ہرے رنگ کی  سکُوٹی پارک کرکے اسٹاف روم کوجانے والے راستے کی طرف بڑھتی نظر آئی۔ اس نے  انجن کی بند ہوتی آواز سن کرگردن گیرج کی طرف موڑ ی تو درگا راؤ نظر آئے۔ کچھ آگے بڑھ کر اس نے  پلٹ کر  پھر دیکھا  تھا۔ درگاہ رائو  پارکنگ سے نکل  رہے تھے۔ درگارائو  نے اپنی قمیص کی جیب سے کاغذی رومال میں لپٹاذرد گیندے کا ایک تازہ پھول نکال کر دونوں ہاتھوں میں لے لیا اورتیز تیز قدم اٹھاتے راہداری کی جانب بڑھے۔ داخلی دروازے کے دا  ہنی طرف  دیوی سرسوتی کنول کے پھول کی اپنی نشست پر براجے، ہاتھوں میں وینا سنبھالے مسکاتی تھیں۔ درگا رائونے  پھول دیوی کے چرنوں میں رکھ دیا اور پرنام کر کے آنکھیں کھولیں تو آگے چلتی سکوٹی والی خاتون نے انہیںپھرپلٹ کر دیکھا۔  درگا رائو کچھ بے چین سے ہوئے تھے مگر پھراپنی رفتار سے اسٹاف روم کی طرف بڑھے۔  اندر داخل ہوتے ہی مرد ساتھیوں کی قطار میں سب کے ساتھ علیک سلیک ہوئی۔کسی نے ان کے نئے حلیے کے بارے میں کو ئی تبصرہ نہیں کیا، بلکہ شاید  اس طرف دھیان ہی نہیں دیا۔ درگا راؤ  اس خیال سے مطمئن ہوا ہی چاہتے تھے کہ حاضری کے رجسٹر والی میز کی طرف بڑھتے ہوئے خاتون اساتذہ کو اپنی طرف د یکھتے کچھ سرگوشیاں سی کرتے ہوئے پایا۔  ہلکی سی ویبھوُتی لگی ،  ان کی عام طور پر شفاف پیشانی پر پسینے کی نمی چمکنے لگی۔ انہوں نے قمیص کی جیب سے قلم اور پتلون کی جیب سے رومال نکال کر کر ایک بار پھر خواتین کی جانب جھینپی  سی نظر ڈالی ۔ذرا آگے کچھ کرسیاں خالی تھیں۔ وہاں کچھ اور سٹاف ممبرس کے علاوہ  نئی ٹیچر بھی بیٹھی تھی۔اس کی اٹھی ہوئی  سلونی گردن کے اوپر موتی سے دانتوں والا چھوٹا  سادہانہ کچھ حیرت سے وا نظر آیا۔ وہ انہی کی طرف دیکھ رہی تھی۔  درگا راؤ کو موتی وو تی والے معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ، مگر وہ انہیں کیوںدیکھ رہی تھی،  اس خیال پر وہ کچھ جھنجھلائے لیکن سٹاف روم میں جھنجھلانے کی کوئی تاریخ نہیں تھی اس لئے وہ خاموشی سے مگر نسبتاََ تیزی سے حاضری کے رجسٹر کی طرف بڑھے۔ ادھر خواتین کا ایک قدرے کم عمر جھرمٹ تھاجن کی آپس میں دوستی رہا کرتی ۔  وہ ہنستی ہوئی درگا راؤ کو کچھ حیرت سے دیکھتیں، دھیمے دھیمے باتیں کررہی تھیں۔
 درگا راؤ  ان سنی سی کر کے رجسٹر کی طرف لپکے اور دل کے قریب والی جیب سے قلم نکالنے کے لئے ہاتھ اوپر اٹھایا مگر قلم ان کے ہاتھ میں ہی تھا او ر وہ فوراََجھک کر لکھنے  لگے۔  انہوں نے ایک بار پھر کھسیاکر کرسیوں کی  طرف دیکھا اور بڑی شدت سے سوچا کہ کالج سے جاتے ہی سری لتا سے  پوچھے بغیر اپنا حلیہ درست کروائیں گے۔  پھرچشمہ اتار کر جیب میں رکھا۔ وہ پلٹے ہی تھے کہ کانوں میں چلبلی سی بلبل دیوان کی سرگوشی بھری آواز ابھری،
’’درگا رائو،  تم ۔۔اب تک ۔۔ کہاںتھے۔۔‘‘
اس پر ایک برجستہ مگر دبادبا سا قہقہہ پڑا۔  درگا راؤ پسینہ پسینہ ہوگئے اور جلدی سے اس طرف بڑھے جہاں سٹاف کے دوسرے مرد زن بیٹھے تھے ۔ کچھ کرسیاں خالی تھیں۔ نئی ٹیچر اپنے موبائل  فون پر کچھ دیکھ رہی تھی مگر اسے معلوم تھا کہ درگا راؤ اسی طرف آرہے تھے۔ درگا راؤ نے اسے کنکھیوں سے اپنی جانب دیکھتے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔ انہیں سری لتا پرغصہ آنے لگا ۔ مذاق بنا دیا ہے اس نے میرا۔انہوں نے دفعتاّّطے کیا کہ وہ گھر جائیں گے ہی نہیں۔ پہلے سیدھے حجامت کروائیں گے، اس کے بعد کسی ریستوران میں اکیلے کولڈ کافی پئیں گے۔ پھر  ایک گھنٹے تک ٹہلیں گی۔ اس  کے بعد  پھر کسی  دوسرے ریستوران میں پنیر دوسا کھاکر ، گرم گرم کافی پینے کے بعد بھی مسلسل آتی ہوئی  سری لتا کی کالز کا جواب نہیں دیں گے۔  بلکہ  اسے خوب پریشان کرنے کے بعد ہی گھر کی طرف روانہ ہوں گے۔  انہوں نے دانت بھینچے،  مگر اگلے ہی لمحے چہرے پر چھانے والا تنائو غائب ہوگیا کہ انہوں نے تصور میں اپنے تازہ  تازہ حجامت شدہ  چہرے کی چکنی کھال کو انگلیوں کے پوروں سے سہلایا تھا۔ وہ اس خیال سے محظوظ ہوا ہی چاہتا تھا کہ ایک شیریں سی نسوانی آواز ان کی سماعت کو چھو گئی ،
’’Hi, myself Surmanee..Jharkhand..I joined in your absence. ''
(ہائی۔۔۔ میں سُرمنی ہوں۔ جارکھنڈ سے ۔۔۔ میں نے آپکی غیر حاضری میں جوائن کیا تھا۔)
وہ مسکرا ئی ۔ درگاوراؤنے گردن موڑ کر دیکھا۔ کچھ حیران سی آنکھوں کے نیچے نیم وادہانے سے جھانکتے سامنے کے دو دانت بھی مسکراتے ہوئے معلوم ہوئے۔
"Durga Rao..." 
(میں درگا رائو ہوں)
"Yeah I know.. have seen the photographs of your felicitations in the  Principal's office."
(جی ہاں! میں جانتی ہوں۔ آپکی عزت افزائی کی تصاویر پرنسپل کے دفتر میں دیکھی ہیں)
''Oh..thanks..."
(شکریہ)
"The building..the lawns...the interiors...and this beautiful ambience...     and the credit goes to you..they say you are a fine designer."
 (اور یہ سہرا آپ کے سر ہی بندھتا ہے، ان عمارات چمن زاروں، داخل آرائش اور خوبصورت گرد و پیش کا، وہ کہتے ہیں کہ آپ ایک زبردست نقش نگار ہیں)
درگا راؤ مسکرائے اور سُرمنی  کے شفاف سے چہرے  کے تاثرات کو پڑھنے کی کوشش کرنے لگے کہ آیا وہ ان کی داڑھی کے بارے میں کچھ کہنے والی ہے؟ 
" Aaw..thanks..but I think it's because it was founded by a woman."
(واہ، شکریہ۔۔۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اس لئے ہے کہ اسکی بنیاد ایک خاتون نے ڈالی تھی۔)
درگا راؤ کو سرمنی کے چہرے پر سچائی نظر آئی تو انہوں نے مسکرا تے ہوئے کہا۔
" But men hardly acknowledge that..."
(لیکن مرد حضرات، مشکلاً ہی اسکا اعتراف کرتے ہیں۔)
وہ ہنسی اور درگار او بھی ہنس دئے۔
  درگا راؤ کبھی کسی سے زیادہ باتیں نہیں کرتے تھے مگر سرمنی سے شاید انہوں نے اس لئے اتنی باتیں کیں کہ وہ اپنی داڑھی والی نئی شکل پر باقی ٹیچرس کے رد عمل کیلئے متفکر تھے اور چلبلی بلبل دیوان اپنے ساتھیوں کے ساتھ شاید ان کا مذاق بھی اُڑاچکی تھی۔  اس کے جملے اور ان سب کی ہنسی نے کم از کم یہ  تو ثابت کر ہی دیا تھا ۔پھر مرد وںوالی قطار میں کوئی کرسی خالی بھی نہ تھی ۔  وہ سُرمنی کے ساتھ والی کرسی پر آ بیٹھے تھے ۔ وہ یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ بلبل اور اس کی ساتھیوں کے رد عمل سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔سُرمنی کا جائفل کے پھول سے متماثل چہرہ ،  کالی کالی پتلیوں والی کچھ بے قرار سی آنکھیںان کے چہرے پر بکھرتی سی معلوم ہوتیں۔  
در گا راؤ سوچ میں کھو سے جاتے،
میںاتنے غور سے سُرمنی کو کیوں دیکھ رہا ہوں۔۔ اتنا وقت تومیرے  پاس کبھی نہ تھا۔۔بوکھلاگیا ہوں میں کیا۔۔بلبل دیوان۔۔ تمہارا چلبلاپن۔۔کسی دن تمہیں  ہی لے  ڈوبے گا۔۔ کسی  کو کبھی اگر تمہاری ان الٹی سیدھی حرکتوں پر غصہ آگیا نا تو خوب ڈانٹ کھائو گی۔۔نروس کر کے رکھ دیا مجھے۔۔ 
درگا رائو نے سر ہلکے سے جھٹکا۔
خیر جو بھی ہے اُنہیں اسٹاف رو م سے نکلنا چاہیے۔۔ مگروہ کیوں نکلیں سب سے پہلے ۔۔عجیب لگے گا ۔۔پہلے وقت تو ہو جائے  کلاسز میں جانے کا ۔۔
درگا راؤنے خود کو سمجھایا۔
کلاسز کا وقت ہوا تودرگا راؤ اٹھنے ہی  والے تھے کہ ٹھہر گئے ۔سب سے آخر میں نکلیں گے ۔انہوں نے سوچا  اورسر جھکا کے بیگ سے کچھ کاغذ نکالنے لگے،  انہوںنے دروازے کے طرف نظر ڈالی۔  بلبل دیوان  نے باہر نکلنے سے پہلے کتابوں کی الماری کے دروازے میںلگے شیشہ نما آئینے میں خود کو ایک نظر دیکھنے کے بعددرگا راؤ کی طرف دیکھا ۔درگا راؤنے جھنجھلا کرسر جھٹکا  ہی تھا کہ اسے خیال آیا کہ اس وقت بلبل دیوان کے چہرے پر شرارت جیسی کوئی چیز نہ تھی۔  انہوں نے بیگ سمیٹا اور ا ٹھ کھڑے ہوئے۔  باہر  نکلنے سے پہلے انہوںنے بھی آئینے میںخو کو دیکھا۔  پہلے انہوںنے کبھی ایسا نہیں کیا تھا ۔ سُرمنی اپنا چشمہ بھول گئی تھی۔ وہ اندر داخل ہوئی تودرگا راؤ داڑھی پر ہاتھ پھیر رہے تھے۔ 
''Forgot my specs!'' (اپنی عینک بھول گئی تھی)
 وہ جلدی سے بولی اورمیز کی جانب بڑھی۔  درگا راؤ نے ذرا سٹپٹا کر اسے دیکھا اور باہر نکل گئے مگر پھر پلٹ کر اندر آئے۔
''Found them?''(مل گئی؟)
''Oh yeah, thanks!''(ہاں!شکریہ)
وہ مسکرائی اور درگا راؤ سٹاف روم سے باہرنکل گئے۔
دیر سے کالج پہنچنے والی  لڑکیوںکی ایک  چھوٹی سی تعداد کو اسی لمحے داخلی پھاٹک کے پاس  دھوپ میں کھڑا رہنے کے بعد اندر آنے کی اجازت ملی تھی۔  لڑکے ابھی وہیں تھے۔  لڑکیوں نے جب اسٹاف روم سے درگا راؤ کو نکلتے دیکھا  تو ذرا ٹھٹھک کر دیکھنے لگیں۔
ــ’’گڈمارنگ سر ۔۔‘‘
کسی نے کہا ا ور سب ان کے لیے راستہ چھوڑ تی ایک طرف ہوگئیں۔  
’’ مارننگ۔۔‘‘
ــوہ آگے چلنے لگے ۔مگر ہمیشہ کی طرح ان کی چال تیز نہیں تھی۔ وہ کچھ آہستگی سے چل رہے تھے ۔
لڑکیاں ان کے پیچھے پیچھے آرہی تھیں۔
''O my God..!!!''
ایک لڑکی کی حیرتوں بھری آواز آئی،
'' Is it Rao Sir...?''
ّ(کیا یہ رائو سر میں)
ایک اور آوز اُبھری۔
درگا راؤ کو کام کے علاوہ کبھی کچھ سوچنے کا شوق نہ رہا تھا۔ مگر اس وقت ان کے کان لڑکیوں کی باتوں پر لگ گئے ۔اپنے نئے حلیے کے سلسلے میں سٹونڈنٹس کے متوقع ردِ عمل کو انہوں اہمیت ہی نہیں دی تھی ۔  انہیں تو عملے کا ہی خوف کھا رہا تھا۔
''Yeah but..but he looks stunning yar!''
(ہاں، مگر یہ تو زبردست لگ رہے ہیں یار)
ایک اور آواز سنی گئی۔
''Hearthrob..I love you Rao Sir!''
(میرے دل کی ڈھرکن، رائو صاحب، آپ پہ شیفتہ ہوں)
ایک نئی ہنستی ہوئی آواز سنائی آئی۔
 ’’مجھے روز دھوپ میں کھڑا رہنا منظور ہے ۔۔ رائوسرکی ایک جھلک دیکھنے کے لئے ۔۔ ــ‘‘
کسی اور نے سرگوشی  سی کی  اور دبا دبا قہقہہ گونجا۔
’داڑھی اتنی بھی اچھی لگ سکتی ہے ؟‘‘
ــ"He looks too good."
 (کتنے خوبصورت لگ رہے ہیں)
"It's because he is our best teacher and we all love him.''
(یہ اس لئے ہے کہ یہ ہمارے سب سے اچھے ٹیچر ہیں اور ہم سب اِن سے محبت کرتے ہیں)
''It's not that only bhaai.."
ّ(اتنا ہی نہیں ہے بھائی۔۔۔۔)
’’ ہم تو آج سے سر سے دوسری والی محبت کرنے لگے ہیں ۔‘‘
سبھی لڑکیاں آواز دبا کر پھر ہنسیں۔ 
’سر کو پتہ ہی نہیں کہ ہی از سو گُڈ لُکِنگ۔۔ــ‘‘
’’ ٹو ڈے نا۔۔؟‘‘
" He has always been.. been graceful..but this beard...oh..hey handsome.!"
(وہ تو ہمیشہ وضع دار رہے ہیں، لیکن یہ داڑھی۔۔۔ واہ دلربا)
  ایک لڑکی دھیمی دھیمی  روٹھی سی آوازمیں گویا پکاراٹھی  تو ایک اور قہقہہ گونجا اور دب گیا۔درگا راؤ  حیرت سے ان کی باتیں سنتے اور ان پر یقین نہ کرنے کے یقین کے ساتھ گھبرائے سے ، داہنی جانب غسل خانے کی طرف مڑ گئے ۔ اندر داخل ہوئے تو انہیں ایک نل ادھ کھُلا نظر آیا۔ انہوں نے نل بند کر دیا  اور واپس پلٹنے لگے  ۔ گویا وہ  نل بند کرنے کے لئے ہی اندر آئے ہوں۔مگر  اگلے ہی پل نل کھول کر ہاتھ دھونے لگے۔ لِکوِڈ سوپ (Liquid Soap)کا رنگ جنگلی گلاب کے ، نسبتاََ چھوٹے پھولوں سا گلابی تھا  اور اس میں سرخ دھاریاں سی بھی تھیں ۔  زیرے کے قریب جنگلی گلاب بھی سرخی مائل گلابی ہوتے ہیں ۔ درگا رائو کو خیال آیا اور وہ کچھ لمحے ہاتھ دھوتے رہے۔ پانی کے لمس نے ان کو شعور کی کسی سطح پرراحت سی عطا کردی تھی۔غسل خانہ جنگلی گلابوں کی خوشبو سے معطر معلوم ہوا تووہ باہر نکل آئے۔
سامنے اب بھی لڑکیاں خراماں خراماں چل رہی تھیں ۔ بس ذرا سا ہی آگے۔درگا رائو کومحسوس ہوا جیسے وہ  مڑ کر انہیں دیکھنے والی ہیں ۔ وہ واپس غسل خانے کی طرف پلٹے۔ 
مگر وہ کیسے پہچانتے کہ وہ لڑکیاں وہی تھیں یااور۔۔لڑکیوں کا چہرہ تو دوسری طرف تھا۔۔لیکن انہوں نے پہلے والی لڑکیوں کا چہرہ بھی کہاں دیکھا تھا۔ ۔
درگا رائو سوچنے لگے۔
یہ میں کیا سوچ رہا ہوں ۔۔ہاں ۔۔ ایک لڑکی نے اپنے کے ایک کندھے پردو  غنچے ’ ٹیٹو ـ‘ (Tato)کروا رکھے تھے ۔۔ایک اور لڑکی کی ہری ٹی شرٹ کے پیچھے  پیلی سی تحریر تھی۔۔  I owe no explanations for my mistakes. (میں اپنی خطائوں کے لئے جوابدہ نہیں ہوں)
 درگا رائو مسکرائے۔ انہوںنے دفعتاََ خود کو آئینے میں  دیکھا۔ پھر  ذرا آگے کو جھک کراپنے چہرے کو  بغوردیکھنے لگے۔  انہیں سُرمنی کی تھرکتی پتلیاں  اپنے چہرے پر رقص سا کرتی  نظر آئیں ۔ انہیں خیا ل آیا کہ بلبل نے بھی انہیں پلٹ کر معصومیت  سے دیکھا تھا۔ 
 فن کار ، فن شناس، انٹیرئر ڈیزائنر (nterior Designer)،اور جیومیٹریکل ڈیزائنز (Geometrical Designer)کے ماہردرگا راؤ نے شاید زندگی میں پہلی باراپنے چہرے کا  تنقیدی جائزہ لیا۔ 
  انہوں نے دیکھا کہ ان کے سانولے سلونے چہرے پر کچھ کچھ  سفید اور کالے گھنگھریالے بال ماتھے کی چوڑائی کوہمیشہ کی طرح حاشیہ دے رہے تھے۔  اس کے آگے ان کی ،کچھ بھاری سے پردہ ء چشم والی آنکھیں ہمیشہ کی طرح چمکتی سی تھیں۔ پھر ان کی کچھ گول سی ناک،  چہرے پر حسبِ سابق مطمئن بیٹھی تھی۔  مونچھیں ا ن کے بالائی ہونٹ کے اوپرکچھ دنوں سے ٹھہری  بالکل اجنبی نہیں لگ رہی تھیں۔ ٹھڈی کی طرف دیکھنے لگے تو دل میں وہی تائثر پیدا ہوا جس نے دُرگا راؤ کو برسوں سے بے چین رکھا تھا۔   ان کا  ’  جیومیٹری ایکسپرٹ  ‘  ذہن کبھی کبھار سوچتا  ضرورتھا کہ کہیں کسی تصحیح کی ضرورت ہے،  شاید۔  مگر ان کی سمجھ میںسبب نہیں آتا تھا کہ وہ  اس چہرے کو برسوں سے دنیا بھر کی اپنائیت کے ساتھ دیکھتے آئے تھے۔ اسی چہرے  کے سبب  انہیں ان کے اپنوں نے محبتیں دی تھی۔  یہی چہرہ ان کا  قریب ترین ساتھی اور ان کی شخصیت کا سب سے زیادہ  مانوس حصہ تھا۔  دوست احباب اور ساتھی اسی چہرے کے ساتھ عزت اور خلوص سے پیش آتے رہے تھے۔ان کی  زندگی اپنی پسند کے کام کاج میں خاموش اور پرسکون ندی کی طرح گزرتی رہی تھی۔ یہاں تک کہ ان کا بیاہ ہو گیا تھا۔  مستقبل کے خوبصورت خواب ذہن میں گھر بنانے لگے تھے ۔وہ ہمیشہ کی طرح منصوبہ بند اور کامیاب طریقے سے انہیں عملی جامہ پہنانے  والے تھے۔ ان کا دماغ کبھی کسی پیچیدگی سے دوچار نہیں ہوا تھا۔ انہیں اپنی سوچ کے مثبت دھارے نے ہمیشہ متوقع کام کی تکمیل سے ملوایا تھا ۔ سب کچھ ایک ٹھہری ٹھہری سی روانی سے چل رہا تھاکہ سری لتانے اچانک  اس ٹھہراؤ میں ہلچل مچا دی۔   درگا راؤ نے سو چا اور سجی ہوئی مونچھوں کے آگے اپنے ہونٹوں کو دیکھا جو آج کسی  ترشے ہوئے عقیق  کے جوڑے کی طرح چمک رہے تھے۔ اوردہانے کے اطراف  سیاہ اور سفید گھونگھریالے بالوں والی بڑھی ہوئی داڑھی ، نسبتاً مبہم ٹھڈی کو ڈھکتے ہوئے چہرے کو ایسی مکمل شکل عطا کر رہی تھی کہ کہیں تصحیح کی گنجائش  باقی نہ تھی۔  درگا رائو  کچھ دیر یونہی اپنے چہرے کو تاکتے رہے۔ پھر پتلون کی پچھلی جیب سے چھوٹا سا کنگھانکالا اور ہمیشہ کی طرح ماتھے سے باہر کی طرف بال سنوارے۔  اس کے بعد  انہوںنے پہلی پہلی  باراپنی  داڑھی پر کنگھا کیا،  دھیمے دھیمے اچھی طرح سنوارنے کے انداز میں۔ پھر وہ یکایک مسکرا دئے۔  ان کی مسکراہٹ ہمیشہ کی طرح دانت نمایاں کرنے والی تھی مگر آج نئے متناسب چہرے پر سجی ہنسی پر ان کا دل بھی ہنس دیا۔ ہنسی ہونٹوں پر ٹھہر سی گئی۔
 سری لتا ۔۔تھینک یو۔۔
انہوں نے زیرِ لب کہا  اور فیصلہ کر لیا کہ کافی پینے وہ کہیں باہر نہیں جائیں گے۔
���
رابطہ
ای میل؛tarannumriyaz@gmail.com