تازہ ترین

یوم عاشورہ پر شہر میں بندشیں | ذوالجناح کے جلوس نہیں نکالے جاسکے، میر گنڈ، دلنہ اور پٹن میں بر آمد

جڈی بل میں پر تشدد جھڑپیں،پیلٹ اور پتھرائو سے متعدد عزادار اور15 پولیس اہلکار زخمی

تاریخ    31 اگست 2020 (30 : 12 AM)   
(عکاسی: امان فاروق)

بلال فرقانی
سرینگر//سرینگر سیول لائنز اور پائین شہر میںبندشوں اور لالچوک علاقے کو مکمل سیل کرنے کے بیچ یوم عاشورہ کی مناسبت سے جڈی بل اور آبی گذر میںذوالجناح کے جلوسوں کی اجازت نہیں دی گئی جس کے دوران جڈی بل میں عزاداروں اور پولیس میں جم کر جھڑپیں ہوئیں جس کے دوران پیلٹ لگنے سے ایک درجن عزا داروں کو شدید چوٹیں آئیں جبکہ کم سے کم 6پولیس اہلکار بھی پتھرائو سے زخمی ہوئے۔تاہم میر گنڈ سے بڈگام تک ہزاروں عزاداروں پر مشتمل جلوس پر امن طور پر نکالا گیا اور دلنہ بارہمولہ میں بھی ذوالجناح کے جلوس نکالے گئے۔

 شہر کی ناکہ بندی

سرینگر میں یوم عاشورہ پر انتظامیہ کی پابندی کے بعد سیول لائنز اور پائین شہر کو سیل کیا گیا ۔ آبی گذر سے برآمد ہونے والے جلوس کے پیش نظر لالچوک کی تار بندی کی گئی تھی اور اس علاقے کو نقل و حرکت کیلئے ممنوع بنایا گیا تھا۔اسکے علاوہ ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ ، مہاراجہ بازار ، جہانگیر چوک ،ڈلگیٹ،رام باغ اور کرن نگرمیں بھی سخت بندشیں عائد تھیں۔ آبی گذر،ریگل چوک،کورٹ روڑ،ککربازار،پولویو،لبرٹ لین و غیر راستوں کو خار دار تاروں سے بند کیا گیا تھا۔ پولیس اسٹیشن کوٹھی باغ، مائسمہ ، کرالہ کھڈ ، شہید گنج ، ، شیر گڈھی ، بٹہ مالو ، رعناواری،نوہٹہ،خانیار،مہاراج گنج اور صفا کدل سمیت دیگر علاقوں میں سختی سے ناکہ بندی عائد کی گئی تھی ۔جامع مسجد، نوہٹہ، گوجوارہ،راجوری کدل،صراف کدل،بہوری کدل،ملارٹہ اور جامع مسجد کے گردو نواح میں بڑے پیمانے پر فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔تاریخی جامع مسجدکے نواحی علاقوں اور مرکزی مسجدکی طرف جانے والی سبھی سڑکوں اورگلی کوچوں کوصبح سے ہی مکمل طورسیل رکھاگیاتھا۔اس صورتحال کی وجہ سے پورے پائین شہر میں سناٹا اور ہوکا عالم چھایا رہا ۔

جلوسوں کی کوشش

انتظامی بندشوں اور جلوسوں پر پابندی کے باوجود پائین شہر کے جڈی بل علاقے میں دن بھر ماتمی جلوسوں کو نکالنے کی کوششیں کی گئیں تاہم پولیس نے انکی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔پولیس نے جڈی بل علاقے کو پہلے ہی سیل کیا تھا،تاہم اس کے باوجو عزاداروں نے دن بھر اندرونی علاقوں اور گلیوں سے گزر کر جلوس کی صورت میں پیش  قدمی کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے عزاداروں کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گولوں کا استعمال کیا۔وقفہ وقفہ سے جڈی بل اور اس کے نواحی علاقوں میں اس طرح کی صورتحال پیش آئی۔جڈی بل علاقے میں عزاداروں کو جب ذوالجناح کا جلوس نکالنے نہیں دیا گیا اور ان پر شلنگ کی گئی تو وہ کئی مقامات پر مشتعل ہوئے اور یوں طرفین کے درمیان تشدد آمیز جھڑپیں ہوئیں۔پتھرائو کے نتیجے میں کم سے کم 3پولیس ایکار بری طرح زخمی ہوئے جنہیں اسپتال میں داخل کیا گیا جبکہ جوابی کارروائی میں پولیس نے پیلٹ کا استعمال کیا جس سے 11عزارادوں کو پیلٹ لگے جن میں 5کو اسپتال میں داخل کیا گیا۔ادھر وادی میں یوم عاشورہ پر سب سے بڑا جلوس میر گنڈ سے بڈگام تک نکالا گیا جس میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی جو مرثیہ اور نوحہ خوانی کررہے تھے۔علم شریف کا یہ جلوس پہلی بار کسی ایک شعیہ دھڑے کی جانب سے نہیں ناکالا گیا ، بلکہ جلوس میں صرف شہدائے کربلاءؓ کے بینر دکھائی دے رہے تھے۔ شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ،بارہمولہ اور کپوارہ بھی ماتمی جلوس برآمد ہوئے۔ بارہمولہ کے دلنہ علاقہ میں عاشورہ کا ماتمی جلوس انجمنِ حْسینی دلنہ کے زیرِ اہتمام امام باڑہ قدیم سے برآمد ہوا اور اندرونی گلیوں سے ہوتے ہوئے بارگاہِ زینبیہؓ پہنچا جہاں تعزیہ شریف برآمد ہوا ۔اس دوران پٹن میں بھی ماتمی جلوس برآمد کیا گیا،جس میں عزا داروں کی کثیر تعداد نے شرکت کرکے نواحہ خوانی کی۔بڈگام کے متعدد علاقوں میں اتوار کو عاشورہ کے جلوس برآمد ہوئے اور عزاداروں نے نوحہ خوانی کی۔پلوامہ اور اننت ناگ میں بھی کئی جگہوں پر ماتمی جلوس برآمد ہوئے۔اس دوران وادی میں اتوار کو تمام سرگرمیاں بند رہیں۔بندشیں عائد کرنے کے نتیجے میں سرینگر میں کاروباری ادارے،تجارتی مراکز،مصروف بازار اور دکانیں بند رہیں،جبکہ سڑکوں پرکم و بیش صرف نجی گاڑیاں ہی نظر آئیں۔
 

ہم نے صبر سے کام لیا:پولیس 

نیوز ڈیسک

سرینگر// پولیس کا کہنا ہے کہ محرم کے جلوسوں کے دوران اہلکاروں پر سنگباری اور انہیں مشتعل کرنے کے باوجود پولیس نے صبر و تحمل سے کام لیا۔پولیس بیان میں کہا گیا کہ درجنوں مقامات پر محرم کے جلوس برآمد کئے گئے،اور کچھ جگہوں پر انہوں نے سنگباری کی۔ ترجمان کے مطابق بیشتر جلوس پرامن طور پر انجام کو پہنچے۔ترجمان کے مطابق سنگبازی کے دوران15پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے،جنہیں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا۔پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ شرپسندوں کی وجہ سے مشتعل بنانے کے باوجود پولیس نے صبر و تحمل سے کام لیا۔بیان میں کہا گیا کہ کورونا ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی جگہوں پر عزاداروں نے سرینگر میں جمع ہوکر جلوس برآمد کرنے کی کوشش کی۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ10دنوں سے پولیس امام باڑوں کی حفاظت کر رہی ہے،اور چوبیسوں گھنٹے وہاں پر اہلکاروں کی تعیناتی کرکے مجالسوں کے پرامن طور پر اختتام ہونے کو یقینی بنا رہی ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود بھی پولیس کو تشدد اور سنگبقازی کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس بیان کے مطابق اس سلسلے میں ایک کیس زیر نمبر58/2020 پولیس تھانہ جڈی بل میں درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے۔
 
 

کرگل میں عاشورہ کا جلوس برآمد

غلام نبی رینہ

سرینگر//حضرت امام حسین ؑ اوراُن کے جانثاروں کوشاندارخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اتوار کوکرگل میں یوم عاشورہ کا جلوس نکالاگیا،اس دوران کووِڈ- 19 قواعدوضوابط کا بھرپور خیال رکھا گیا۔انجمن جمعیت علماء اثنائے عشریہ کرگل،اسلامیہ ہائی اسکول اور امام خمینی ٹرسٹ کے بینر تلے نکالاگیاجلوس، کرگل کے مرکزی  بازارسے گزر کرقتل گاہ اورحسینی پارک میں اختتام پذیر ہواجہاں علماء نے حضرت امام حسینؑ کی شہادت پر مفصل روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ بدی پرنیکی کی فتح ہے ۔ ماتم کناں لوگ سینہ کوبی کررہے تھے ۔کووڈ19کی وجہ سے اس سال کرگل میں صرف دو جلوس برآمد کئے گئے ۔اس موقعہ پر کووِڈ سے خلاصی کیلئے دعائیں بھی مانگی گئیں ۔عاشورہ کے جلوس سب ڈویژن دراس ،سانکو،شکرچٹکن اور دیگر مقامات پر بھی برآمد کئے گئے ۔ چیف ایگزیکیٹو کونسلر لداخ خودمختار ترقیاتی کونسل کرگل نے عاشورہ جلوس کے احسن انعقاد پراطمینان کااظہار کیا۔