جانے نہیں دونگی

کہانی

تاریخ    30 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


نذیر جوہر
بِلا ناغہ ہر صُبح نور کے تڑکے اپنی گہری مست و مُدھر نیند کو حرام کرتے ہوئے واک پر نکلنا یقینا" کمال کی بات ہوتی ہے ۔ کیونکر نہ ہو ؟ یہ اتنا آسان بھی نہیں  ہوتا ، کہ ہر کوئی ایرا گیرا نتھو خیرا صبح صبح گہری نیند سے جاگ جائے اور ٹھنڈی یا گرم ہواؤں کے سامنے سینہ سپر ہوتے ہوئے واک کےلیے اپنے لمبے لمبے  ڈگ بھر دے  ۔ بھلے ہی یہ سحری حُسن و جمال کے مزے لینے کی بات رہی ہو اور حفظانِ صحت کی قواعد میں شامل رہنے کا ذریعہ بھی، مگر گہری نیند سے جاگنا بڑا کٹھن ہوتا ہے اور کبھی کبھار لوگوں کو یہ نیند اپنی محبوبہ سے بھی زیادہ عزیز لگنے لگتی ہے ۔ اب اپنی اُفتاد طبع کا کیا کیجیے ۔ گھر اور گھر سے باہر لاکھ پند و نصایح و ملامت و کے متواتر دوار سے گزرنے کے بعد اور کلیجے پر پتھر رکھ کر جو ہم نےسگریٹ نوشی کی عادت ترک کر دی، تو اچانک جسم کا وزن بڑھنے لگا ۔ توند مائل بہ پیش قدمی نظر آنے لگی اور  جاذب نظری پر خطرات کے گہرے سیاہ گھنے بادل منڈلانے لگے ۔ اپنے حسن و جمال کی عافیت خطرے میں پاتے ہی تشویش لاحق ہوئی اور ہم نے کچھ کر گزرنے کی ٹھان ہی لی ۔ توبہ توبہ۔۔۔۔ اللہ غرور و تکبر سے بچائے ۔ ہم اپنے جمالِ یوسف ہونے کا دعوی تو نہیں کرتے مگر جس حساب سے حسینائیں اپنی نگاہِ کافرانہ سے خاکسار پر وار کرتی ہوئیں نظر آتی ہیں تو  ہم پر اپنے حسین ہونے کا  گُماں خوب گزرتا ہے ۔ یہ گماں ہمیں مسحور کردیتا  ہے  اور ہم عش عش کر اُٹھتے ہیں ۔ بہر کیف اپنے رقیبوں کی نگاہوں میں گئے گُزرے ہی سہی ، اپنی صورت کا بگڑنا یا بگاڑنا ہمیں پھر بھی گوارا نہیں۔۔۔۔ ۔ سو  ہم نے کچھ کر گزرنے کی اور  چند خطرات مول لیتے ہوئے صبح صبح واک پر جانے کی ضِد پکڑ ہی لی اور  پھر ایک لمبی اور گُداز سڑک پر لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے نظر بھی آئے ۔ بات ان دنوں کی ہے جب کچھ عرصہ قبل میری پوسٹنگ چنڈی گڈھ کے خوبصورت شہر میں نئی نئی ہوئی تھی اور جہاں میں بحثیت ایک سرکاری افسر کے نیا نیا تعینات ہوا  تھا ۔ تب میں گورا چِٹا تھا اور خاصا خوب رو بھی ۔
ایک لمبی اور کُشادہ سڑک جو تقریبا" دس کلو میٹر کے فاصلے تک سیدھے دور آگے تک نکل جاتی تھی اور شہر کو ایک نوآبادیاتی نواحی علاقے سے جوڑ دیتی تھی ہمہ وقت بڑا خوبصورت منظر پیش کرتی تھی ۔ سڑک کے دونوں متوازی کناروں پر پام اور دوسری اقسام  کے خوبصورت اونچے اونچے اور سرسبز ہم قطار درخت صبح کے ملگجے اندھیرے میں ایک پُرکیف سماں باندھ دیتے تھے ۔ ان درختوں کی شاخوں پر گھنے سرسبز پتوں میں چھُپے ان گنت بھانت بھانت کے پرندوں کی نخمہ سرائی بڑی پُر کیف ہوتی تھی اور من کی اتھاہ گہرائیوں تک اُترتی چلی جاتی تھی ۔ دائیں بائیں اور قُرب جوار میں ایک سے ایک بڑھ کر تعمیرات اور خوبصورت رہائشی بنگلے اپنی مثال آپ تھے جو اس علاقےکے متمول ترین ہونے کے غماز تھے اور اپنی حیثیت آپ بیان کرتے ہوئے نظر آتے تھے ۔ ان شاندار تعمیرات کی پیش گاہ میں پھولوں سے مالا مال اور خوشبو بکھیرتے  ہوئے  مختلف اقسام کے پھل اور پھولوں کی چھوٹی بڑی سرسبز جھاڈیوں سے بھرے پڑے خوبصورت لان پورے قُرب و جوار کو اپنی خوشبو سے معطر کر دیتے تھے اور صبح صبح سڑک پر جوگنگ یا چہل قدمی کرنے والوں کیلئے راحت کے سامان پیدا کردیتے  تھے ۔
میں آمدِ صبح سے ذرا کچھ قبل ہی گھر سے نکلنے اور بھاگ دوڑ کرنے میں دو قدم آگے تھا ۔شاید پو پھٹنے سے پہلے ہی واک پر نکل جاتا تھا اور ایک لمبی اور کُشادہ سڑک کے سینے پر مونگ دلتا ہوا دور پانچ کلو میٹر کی مسافت تک کے سفر تک چلا جاتا تھا ۔ پھر پسینے میں شرابور واپسی کرتا ہوا اور  گھر پہنچتا ہوا یہ سفر تقریبا" دس کلو میٹر کی مسافت تک کا ہوجاتا تھا ۔ سڑک پر واک کےلئے نکلے ہوئے مرد و زن کی زبردست ریل پیل لگی رہتی تھی اور رنگ برنگی پوشاکیں پہنے جوان و بزرگ سڑک پر بھاگتے پھرتے نظر آتے تھے ۔
جوگنگ کے دوران اکثر آوارہ کُتوں سے بھی مُلاقات ہوتی رہتی تھی جو ہر کلو میٹر کے بعد ایک کلومیٹر کے دائیرے میں چھوٹے چھوٹے جُھنڈوں میں رہتے تھے اور سڑک کےدونوں کناروں پر  ہڑبونگ مچاتے رہتے تھے ۔ اگر بھولےسے بھی ایک جُھنڈ کا کُتا دوسرے جھنڈ کے علاقے میں چلا جاتا تھا تو اُسے اس بھول کی بھاری قیمت چکانا پڑتی تھی اور اس لغزش کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا تھا ۔ اس قسم کی لڑجھگڑ اور نوک جھونک کے مناظر اکثر نگاہوں کے سامنے سے گذر ہی جاتے تھے۔
ایک بار ایک سیاہ و سفید ہمہ رنگی کُتے پر نہ جانے  کیا گراں گزری کہ اچانک وہ خشمناک ہوکر مجھ پر جھپٹ پڑا ۔ وہ تو خیر ہوئی کہ میں اُس کے تیکھے تیور دیکھ کر پہلے ہی سے چوکنا تھا ورنہ میرا کام تو تمام ہو ہی گیا ہوتا ۔ وہ اچانک بپھرتا  اور بھونکتا ہوا میرے قریب پہنچا تھا اور اب بس کاٹنے ہی والا تھا کہ میں نے کمال مہارت سے اُس کے منہ پر ایک زوردار فلائینگ کِک رسید کر دی تھی ۔ کِک اتنی شاندار اور زوردار تھی کہ کُتے کے ہوش اُڑ گئے اور وہ تھوڑی سی لڑجھگڑ کے بعد وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا ۔ اب جب بھی میں اُس کے سامنے سے گُزرتا تھا تو وہ کینہ توز نگاہوں سے مجھے گھورتا رہتا تھا ۔ ایسے،جیسے کہہ رہا ہو ۔ جاو گے کہاں ۔ بدلہ ضرور لوں گا ۔  سڑک پر چلتی پھرتی اور تھِرکتی ہوئی جاندار سنگ مرمر کی مورتیاں بھی نظر آتی تھیں جو قدرت کی کاریگری کا بیش بہا نمونہ تھیں اور جنہیں دیکھ کر اہلِ ایمان بھی ڈگمگانے لگتے تھے ۔ حسن و جمال کے یہ پری پیکر  نمونے ایک ادائے قاتلانہ کے ساتھ بل کھاتے اور لہراتے ہوئے نکل کر چلےجاتے تھے اور نہ جانے کتنے معصوم دلوں کو گھائل کرکے چلے جاتے تھے ۔ ایسی ہی ایک تھرکتی مورت سے میرا اکثر سامنا ہوتا تھا اور میرے اندر کے سارے جلترنگ جیسےایک ساتھ بج اُٹھتے تھے ۔ میں بڑا مضطرب ہوتا تھا کیونکہ اُس کی صورت جتنی سحر انگیز اور قیامت خیز تھی، وطیرہ اُتنا ہی بھدا اور بے ڈھنگا تھا ۔ وہ اکثر مخالف سمت سے آتی ہوئی جب میرے قریب پہنچ جاتی تھی تو اچانک اپنے للے ( چھاتیاں ) ڈھانپتی ہوئی اور اپنے تیور تیکھے اور سخت کرتی ہوئی بڑے غرور کے ساتھ تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئی آگے نکل کر چلی جاتی تھی ۔میں اسے اپنی توہین سمجھ کر بل کھا کے رہ جاتا تھا اور کچھ دیر اُس کے بارے میں سوچتا بھی رہتا تھا۔ اب دیگر لوگوں کے ساتھ اُس کا رویہ کیسا تھا، مجھے اس بابت کوئی علمیئت یا جانکاری نہیں تھی ۔ میں غیر ضروری توجہ رکھنا بھی نہیں چہتا تھا  ۔ جس قدر توجہ ضروری ہوتی تھی اس سے تجاوز بھی  نہیں کرتا تھا بلکہ میں تو اُس کی طرف اب دیکھتا بھی نہیں تھا ، کیونکہ خود دار تھا اور خود داری کا مظاہرہ بھی کرنا چہتا تھا ۔
ایک روز میں حسب معمول کی واک کے دوران اب واپسی کے پانچ کلومیٹر کے سفر کی مسافت طے کر رہا تھا کہ اچانک میرے پیچھے قدموں کی چاپ سنائی دینے لگی ۔ کوئی تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا چل رہا تھا ۔ میں نے توجہ نہیں دی اور اپنی دُھن میں آگے بڑھتا رہا ۔ جبھی اچانک ایک نسوانی آواز میرے پردئہ سماعت سے ٹکرا گئی ۔
" ایکسکیوز می پلیز ۔۔۔۔ زرا سُنئے تو ۔" کسی نے آواز لگائی تو میں نے اپنے قدم روکتے ہوئے مُڑ کر دیکھا ۔ جبھی میں حیران نظر آیا ۔ سامنے  وہی خوبصورت گھمنڈی دوشیزہ کھڑی تھی جو اکثر میرے سامنے سے اکڑا کر چلتی ہوئی گزر جاتی تھی ۔
" گڈ مورننگ ۔۔۔۔ ۔" وہ تکبر آمیز لہجے کے ساتھ بڑے سنجیدہ لہجے میں گویا ہوئی  ۔
" مورننگ ۔۔۔۔۔ ۔" میں نے بھی روکھے پن سے جواب دیا اور تیز نظروں سے اُسے گھُورتا رہا ۔
 " در اصل یہ رومال ۔۔۔۔۔۔ ۔" وہ اپنے ہاتھ میں تھما ہوا ایک رومال لہرانے لگی اور طنزیہ لہجے کے ساتھ اپنی بات جاری رکھتی ہوئی پھر بولی ۔
" یہ رومال ، جسے آپ نے جان بوجھ کر گرایا ہے ۔ آپ کو لوٹا رہی ہوں ۔" اُس کے لبوں پر ایک زہریلی سی مسکراہٹ دوڈ گئی ۔
"کی ۔۔۔ی۔۔۔۔۔ ا۔۔۔۔۔؟" میں ششدر سا رہ گیا ۔
"  جی ۔۔۔۔۔۔ میں جانتی ہوں ۔ آپ نے یہ رومال جان بوجھ کر گرایا ہے ۔ تاکہ میں اسے اُٹھا سکوں اور آپ کو تھما دوں ۔"
 " کیا کہہ رہی ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔۔ ؟" میں سٹپٹا گیا ۔
" ظاہر ہے ۔ اب میں یہ رومال آپ کو تھما دوں گی اور آپ پلان کے عین مطابق شکریہ ادا کرتے ہوئے میرا تعارف حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور پھر وغیرہ ۔۔ وغیرہ ۔۔۔۔ وغیرہ ۔۔۔ ۔"
" محترمہ، کیا بکواس ہے یہ سب ۔۔۔۔۔ ؟ آپ حد سے زیادہ بڑھ رہی ہیں ۔" میں نے اسے تنبیہہ کی ۔
" اجی چھوڑئیے صاحب ۔ تعارف حاصل کرنے کا یہ بڑا ہی واہئیات اور گھٹیا طریقہ ہے اور خاصا پُرانا بھی ۔" وہ میری تضحیک پر پھر سے اُتر آئی ۔
" اچھ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چھا ۔۔۔۔۔۔ ۔" میں سر سے پیر تک جل بُھن گیا ۔
" جی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمدردی کی بُنیاد پر آپ کا رومال لوٹا رہی ہوں اور احساس دلانے کے لیے بھی ۔" وہ تمسخر اڑاتی ہوئی اپنا سر کئی زاویوں سے ہلانے لگی ۔
" اور اگر یہی سوال میں آپ کےلئے دہراوں محترمہ اور یہ کہوں کہ آپ کا نیاز حاصل کرنے کا یہ طریقہ بڑا گھٹیا اور بے ڈھنگا  ہے ۔۔۔ تو آپ کیا کہیں گی ۔؟" میں نے بڑے اعتماد سے سوال کیا ۔
" شٹ اپ ۔۔۔۔۔ کیا مطلب ہے آپ کا ؟" وہ بپھرتی ہوئی چلائی ۔
" مطلب یہ کہ ۔۔۔ یہ رومال میرا نہیں ہے اور میں اپنا رومال ایرے غیرے نتھو خیروں کےلئے سڑک پر نہیں پھینکتا ۔ رومال شاید آپ کا اپنا ہی ہو ۔" کہتے ہوے میں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور اپنا خوبصورت رومال نکالتے ہوئے اسے اس کے منہ کے قریب لیتے ہوئے ہوا میں لہرانے لگا ۔ اچانک اُس کا منہ فق ہوگیا اور چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں ۔ اب وہ کھسیانی ہو کر بغلیں جھانکنے لگی۔
" مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔" جبھی اُس نے کُچھ کہنا چاہا مگر کہہ نہ سکی ۔ شاید الفاظ مل نہیں رہے تھے ۔
" اب اگر واقعی یہ رومال آپ کو سرِ راہ پڑا ہوا ملا ہے تو پلیز جایئے اور رومال کے مالک کو ڈھونڈ نکالئیے ۔"  اب کی بار میں نے اُس کا خوب مذاق اُڑایا ۔ " بس کیجئے ۔۔۔۔ جاتی ہوں۔" وہ نہایت ہی تُرش روئی سے بولی اور تیز تیز قدموں کے ساتھ پیر پٹختی ہوئی میرے آگے آگے چلنے لگی ۔ وہ شدید غصے میں تھی اور اُس کا پارہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا ۔
اب وہ تیز تیز قدموں کے ساتھ میرے آگے آگے جا رہی تھی اور میں اُسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔ خود میں بھی خراماں خراماں اُس کے پیچھے پیچھے جا  رہا تھا ۔ ڈر تھا کہ کہیں اس بلائے بے درماں کا پھر سے سامنا نہ ہوجائے۔ اب وہ تقریبا" دو سو قدم میرے آگے تھی اور سڑک کے کنارے اُس بڑے کوڈے دان کے قریب پہنچ گئی تھی،جہاں اکثر آوارہ کُتوں کا جماوڑا لگا رہتا تھا اور جہاں کُتے آپس میں خوب لڑتے جھگڑتے بھی نظر آتے تھے ۔ میری نظریں متواتر اُس کا پیچھا کر رہی تھیں اور پیٹھ پیچھے اُس کے قیامت خیز سراپا کا جائزہ بھی لے رہی تھیں ۔
اچانک ڈسٹ بِن کے قریب سے کتوں کے زور زور سے بھونکنے کی آوازوں نے مجھے چوکنا کردیا ۔ میں نے ان آوازوں کی طرف دھیان دیا، جبھی میرا دل دھک سے رہ گیا ۔ اچانک ڈسٹ بِن کے قریب مجتمع کتوں میں سے کئی ایک نے اس خوبصورت گھمنڈی دوشیزہ پر ہلہ بول دیا تھا ۔ دوشیزہ اس غیر متوقع حملے سے کافی گھبرا گئی تھی اور پلٹ کر مُڑتی ہوئی اب  بے تحاشا میری طرف بھاگی چلی آرہی تھی۔ "بچائو ۔۔۔۔۔ بچائو ۔۔۔۔۔ بچائو ۔۔۔۔ ۔" وہ چیخے چلائے جا رہی تھی اور سرپٹ بھاگتی چلی جارہی تھی  ۔ میں نے اپنی مُتحیر آنکھوں سے غور سے دیکھا ۔ دو فیلِ مست کُتے بھونکتے ہوئے بڑی تیزی کے ساتھ اُس کے پیچھے پیچھے بھاگے چلے آرہے تھے ۔ اچانک کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر میں نے بھی اُسی سمت بھاگنا شروع کردیا ۔ جبھی خوبصورت حسینہ تیز بھاگتی ہوئی میرے قریب پہنچ گئی اور پلک جھپکتے ہی میرے ساتھ لپٹ گئی ۔ اُس نے بڑی مضبوطی کے ساتھ مجھے اپنی باہوں میں جکڑلیا۔ وہ قریب تر ہوتی گئی اور اب ایک جونک کی طرح مجھ سے لپٹی ہوئی تھی ۔ 
" ہش۔۔۔  ہش ۔۔۔۔ ہٹ ۔۔۔ ہٹ ۔۔۔ ۔" میں نے بپھرے ہوئے کُتوں کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا، جبھی میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔ اِن میں سے ایک وہی سیاہ و سفید ہمہ رنگی کُتا تھا کہ جس نے ایک بار مجھ پر حملہ کیا تھا اور اُسے منہ کی کھانی پڑی تھی ۔ مجھے دیکھتے ہی وہ رُک گیا اور اُس کا جوش ٹھنڈا پڑنے لگا۔ اُس کا ساتھی کتا بھی اب رُک گیا تھا ۔ اب دونوں دُور دوُر سے ہی بھونک رہے تھےاور متواتر ہماری طرف دیکھ رہے تھے ۔
 اب دونوں وقفے وقفے سے بھونک رہے تھے اور اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش کر رہے تھے ۔ گھمنڈی دوشیزہ ایک خوفزدہ ہرنی کی طرح مجھ سے چُست چپکی ہوئی تھی۔ اُس کی سانسیں اُکھڑی ہوئی تھیں اور دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔ وہ بڑی نادم تھی اور خاصی گھبرائی ہوئی اب ندامت اور انکساری سے مجھے دیکھ رہی تھی جبھی میں نے ایک بھر پور نگاہ سے اُسے دیکھا اور اُس کے شانے تھپتھپانے لگا ۔ وہ نادم اور پشیمان، مجھے اک ٹک دیکھ رہی تھی ۔
" سوری ۔۔۔۔۔ سوری پلیز  ۔" وہ بدقّت بولی اور اک دم زور سے مجھ سے چمٹ گئی ۔ ایسے، جیسے کہہ رہی ہو ۔ " لو میں نے اب تمہیں تھام ہی لیا ۔ جانے نہیں دوں گی ۔ ۔۔۔
���
فرینڈس اینکلیو سری نگر کشمیر
موبائل نمبر؛9622900678