تازہ ترین

آواز کی کہانی

افسانہ

تاریخ    30 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


نور شاہ
ریڈیو کے ایک پروگرام کے لئے میری کہانی کی ریکاڈنگ تھی اس لئے ریڈیواسٹیشن جانا پڑا اس کام سے فارغ ہونے کے بعدشاہد نے کنٹین میں گرم گرم چائے پینے کی دعوت دی میں انکار نہ کرسکا۔کنٹین جاتے جاتے کئی نئے پرانے چہرے دکھائی  دئیے۔
’’یہ نازیہ ہے آپ کی فرمائش کا پروگرام پیش کرتی ہیں‘‘
’’ ارے بھائی ان کی آواز سے کون واقف نہیں۔۔جادوئی آواز ہے ان کی۔۔۔ اور پھر ان کا انداز بیان ۔۔بہت خوب۔۔
بہت بہتر۔۔آ پ سے مل کر خوشی ہوئی۔‘‘
’’شکریہ ۔۔جلدی میں ہوں اسٹوڈیو میں میرا انتظاہو رہا ہے‘‘
ابھی ہم دو ہی قدم آگے بڑھے تھے کہ ایک اور سندر سندر سا سراپا سامنے کھڑا ہوگیا ۔
’’شاہد کیا حال ہے۔کنٹین جارے ہو۔‘‘
’’ہاں ہاں آپ بھی چلئے نا۔۔یہ فلک ہے فلک ملک۔۔ان کی آواز سے بھی آپ واقف ہوں گے۔‘‘
’’کمال کرتے ہو ۔بخوبی واقف ہوں ان کی آواز سے۔۔بہت مٹھاس ہے ان کی آواز میں اور اگر یہ کہہ دوں کو جب بھی ان کی آواز سنتا ہوں تو لگتا ہے کہ کانوں میں جیسے قطرہ قطرہ شہد ٹپک رہا ہے  اور پھر ان کا تلفظ ۔۔جملوں کی ادائیگی۔۔۔! ‘‘
شاہد نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔فلک چائے پیوگی ہمارے ساتھ۔۔
’’اس وقت ممکن نہیں ہے پھر کبھی۔۔۔‘‘
اب ہم کنٹین کے قریب پہنچ چکے تھے کہ ایک اور خوبصورت سا ہنستا مسکراتا سراپا آہستہ قدموں سے چلتے ہوئے ہمارے سامنے کھڑا ہوگیا۔
’’یہ ہے زلیخا۔‘‘
   ’’اچھا تو آپ ہی زلیخا ہیں۔جاتناہوں زلیخا  جی کو ان کی آواز کی بدولت۔۔سنطور کی تہہ سے ابھر تی ہوئی آواز۔۔۔‘‘
’’آپ ان کوبھی جانتے ہیں اور پہچانتے ہیں۔۔شاہد نے پوچھا۔۔
جانتا اور پہچانتا بھی  ہوں صورت سے نہ سہی لیکن ان کی آواز ہی انکی پہچان کی بنیاد ہے۔ ان کی آواز کا شیدائی ہوں۔
  آپ خواہ مخواہ مجھے شرمندہ کر رہے  ہیں حالانکہ میں آپ کو بالکل نہیں جانتی اور میں آپ کی تعریف کے قابل بھی نہیں۔۔کیونکہ مجھ میں ایسی کوئی قابلیت اورصلاحیت نہیں ہے‘‘
زلیخا نے شرماتے ہوئے کہا۔۔
’’نہیں مجھے کہنے دیجئے ۔۔شاہد جب بھی ان کی آواز ۔۔۔مدھر مدھر سی آواز میرے ریڈیو سٹ سے ابھرتی ہے تو۔۔تو۔۔اب کیا کہوں  اپنے آپ میں کھو جاتا ہوں۔‘‘
’’میں چلتی ہوں  اور وہ میری پوری بات سنے بغیر ہی چلی گئی۔‘‘
’’آپ بھی کمال کرتے ہیں؟۔‘‘
’’کیا کمال۔۔‘‘
   ’’آپ کا کمال یہ ہے۔۔۔بلکہ جادوائی کمال کہ زلیخا کو ٹیبل سے اٹھا کر مائک کے سامنے کھڑا کیا۔دفتر سے اسٹوڈیو میں منتقل کیا اور ان کے تعلق سے کچھ نہ جانتے ہوئے بھی آواز کے شیدائی بن گئے۔‘‘
’’کیامطلب۔۔؟‘‘
’’میرے بھائی کہانی کار دوست۔۔زلیخا کا نہ تو پرواگرموں سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی مائک سے۔۔دفتر میں کام کرتی ہیں،قلم چلاتی ہیں اور فائلوں میں سر کھپاتی ہیں پھر بھی آپ ان کی آوازکے شیدائی ہیں۔۔اب جانے بھی دیجئے بہت ہوچکا ۔کنٹین آچکا ہے اور یہاںجانے کتنے اور چہرے نظر آئینگے جن کی آواز کے شیدائی بننے میں آپ کو دیر نہیں لگے گی۔اس لئے خاموشی سے چائے  پیتے ہیں اور آپ کی آواز کی کہانی کو کسی اور ریکاڈنگ کے لئے ذہن میں محفوظ کرلیتے ہیں۔۔۔! ‘‘
 
���
14لل دید کالونی،غوری پورہ لنک روڑ
رولپور سرینگر190005 کشمیر
موبائل نمبر؛9906771363