تازہ ترین

صنف نازک کے تخیل کی پرواز

لاک ڈائون میں پیش کئے شہکار

تاریخ    27 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


طارق علی میر
عمومی طور جنگ ذدہ خطوں کا سماجی اور معاشرتی تانا بانا بکھر کر رہ جاتا ہے۔ لیکن تین دہائیوں سے مسلسل پر تشدد حالات کے تھپیڑوں کا شکارکشمیریوں نے اپنے اجتماعی اقدار اور اْن روایت کو دم توڑنے نہیں دیا، جن کی آبیاری اْن کے آبا و اجداد صدیوں سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ آج بھی جب کسی فرد،کنبے یا کسی علاقے کی آبادی پر ناسازگار حالات کی وجہ سے کوئی اْفتاد نازل ہوجاتی ہے، تو یہاں کے لوگوں کا دل اجتماعی طور پر دھڑکنے لگتا ہے۔
یہی وجہ ہے جب وسط مارچ میں کورونا نامی جان لیوا وبا نے باقی دنیا کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر پر بھی اپنے مہیب سائے پھیلانا شروع کردیئے تو لوگ اپنے ساتھ ساتھ سماج کی ہمت افزائی کیلئے اْٹھ کھڑے ہوگئے۔ اس ضمن میں جموںکشمیر کی مائوں ، بہنوں اور بیٹیوں نے یکساں طور پر ایک کلیدی کردار ادار کیا اور کررہی ہیں۔ طبی سیکٹرسے لیکر تعلیمی سیکٹر تک اورمعیشت سے جڑے اداروں سے لیکر فن وثقافت کے شعبوںتک ہر جگہ خواتین نے وبا کے اس عالم میں اپنی سماجی ذمہ داریاں نبھانے کی بھر پور کوششیں کیں۔ اس ضمن میں درجنوں مثالیں سامنے آچکی ہیں۔
 وسطی کشمیر سے تعلق رکھنے والی 31 سالہ نادیہ مشتاق میر کو خطاطی کے فن پر عبور ہے۔ حالانکہ یہ فن اُن کا درسی نہیں ہے۔ انہوں نے ہیومینی ٹیز (Humanities)میں گریجویشن کے بعد اکنامکس میں ماسٹرس کیا اور ساتھ ہی فیشن ڈیزائننگ میں ڈپلوما بھی۔لیکن انہوں نے اپنی لگن اور مسلسل محنت کے نتیجے میں خطاطی کے فن پر عبور حاصل کرلیا ہے۔دلچسپ بات ہے کہ کورونا وائرس پھیلنے سے کچھ ہی عرصہ پہلے نادیہ کو آرٹ، نقاشی، خاکہ نگاری اور خطوط اندازی کے فن کی بدولت عزت، شہرت اور پیسہ نصیب ہونے لگا تھا۔اُنہیں اپنی فنی صلاحیتوں کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی سطحوں پر کام ملنا شروع ہوگیا تھا۔ وہ کئی تجارتی کمپنیوں کے لئے لوگوز (Logo) بھی بناچکی ہیں اور اب وہ رفتہ رفتہ اپنے آرٹ کو بین الاقوامی سطح پر پراموٹ کرنے میں کامیاب ہورہی تھیں۔ لیکن جب پوری دْنیا کی طرح اس خطے میں بھی کورونا وائرس نے اپنی منحوس دستک دی اور معمولات زندگی تہہ و بالا ہونے لگے تو نادیہ نے اپنی فنی صلاحیتوں کو پیسے اور شہرت کے حصول کے بجائے اپنے سماج کے حوصلے بلند کرنے کیلئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
 اْن کا کہنا ہے ، ’’ مجھے لگا کہ جو کچھ بھی مجھے آتا ہے ، اس فن کو مجھے اپنے سماج کی حوصلہ افزائی کے لئے استعمال کرنا چاہیے۔میں اس اجتماعی مصیبت کے وقت اپنی مقدور کے مطابق اپنا کردار اداچاہتی ہوں۔‘‘ 
نادیہ نے قران حکیم کی بعض مخصوص آیات کی خطاطی کی اور اسے سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے فن کے ذریعے لوگوں کو حوصلہ افزا پیغامات دینے کی کوشش کی۔خاتون خطاط کہتی ہیں، ’’ ناسازگار حالات یا مصیبت کے دنوں میں ہماری ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ کورونا وائرس کے پھیلائو سے پہلے میں اپنے فن اور پیشے کے بل پر اپنے کیرئر کو پروان چڑھانے کے منصوبوں پر غور کرتی رہتی تھی۔ لیکن اب اپنے کنبے اور گرد نواح کے انسانی سماج کی ڈھارس بندھانا اور زندگی جینے کی امنگ کو قائم رکھنا میری ترجیح ہے۔ ‘‘ اسی جذبے کے تحت نادیہ نے کورونا لاک ڈاون کے دوران بھی ’’ورلڈ ورچیول میوزیم ‘‘ نمائش میں اپنے آرٹ کی نمائش کی اور یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ اس جان لیوا وبا میں بھی ہمیں زندگی کے معمولات کوجاری رکھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا ، ’’خطاطی اور ڈیزائنگ میرا پیشہ ہے۔ اس سے میرا کیرئیر جڑا ہوا ہے اور یہ میری آمدن کا ذریعہ بھی ہے۔ لیکن اس وقت مجھے نہ ہی اپنے کیرئیر کی فکر ہے اور نہ ہی آمدن کی۔ میں صرف اپنے کام کے ذریعے اپنی مقدور کے مطابق اپنا، اپنے افراد خانہ کا اور سماج کا حوصلہ بلند رکھنے کی کوشش کررہی ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ اس اجتماعی مصیبت کے دور میں ہمیں جینے کا حوصلہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔‘‘ نادیہ نے اسی سال 23 جون اور 16 جولائی کو آن لائن نمائش میں اپنے کام کے ذریعے ماحولیات کی تباہی کی عکاسی کی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے لگتا ہے کہ ہمت اور بہادری کا تقاضا ہے کہ ہمیں اس وبا کے دوران بھی زندگی کے تمام شعبوں کی بہتری پر اپنی توجہ مرکوز کرنے ہوگی۔‘‘
دیگر مختلف فنون سے وابستہ خواتین کے کام میں کورونا وائرس سے پیدا شدہ حالات کی عکاسی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس ضمن میں راجوری سے تعلق رکھنے والی شاعرہ روبینہ میر کی مثال دی جاسکتی ہے۔ روبینہ نے اپنے شعری کلام میں کرونا وبا کو قہر الٰہی یا عذاب الٰہی سے تعبیر کیا ہے۔حالانکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ قدیم انسانی تہذیبوں میں ہمیشہ آفات ناگہانی کو قہر الٰہی سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے۔ شاید اس کرۂ ارض پر یہ تصور اتنا ہی قدیم ہے، جتنی قدیم بنی نوع انسان کی تاریخ۔ روبینہ کہتی ہیں، ’’ میں سمجھتی ہوں کہ انسانوں کو رب کے تئیں اپنی روگردانیوں کی مار جھیلنی پڑرہی ہے۔ ‘‘ اْن کے شعروں میں خود فطرت انسانوں سے مخاطب ہوتے اور اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتی ہے۔ کرونا کے دوران ان کی ایک نظم کا ایک چھوٹا سا حصہ ملاحظہ کریں:
تخلیقِ آدم سے لے کر…آج تک…
ہر دور کے انسانوں نے
جب،جب میرے احکامات سے
روگردانی کی…
علمِ حقیقی سے منہ موڑا…
تب، تب وہ حیوانیت کی تاریکیوں میں گْم ہوگئے۔
روبینہ نے اپنی اس نظم میںقومِ عاد، قومِ ثمود، قومِ لوط اور قومِ نوح کا تذکرہ کیا ہے، جنہیں اپنی روگردانیوں کی وجہ سے عذاب الٰہی جھیلنا پڑا ہے۔ ساتھ ہی وہ جدید علوم پر نازاں اور اترانے والے لوگوں کوہدف طنز بناتے بھی نظر آتی ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
تمہیں جس مقصد کیلئے پیدا کیا
تم وہی بھول گئے…
تم اپنے علم و دانائی پر
فخر کرنے لگے…
تم نے مشاہدات اور معلومات کی 
نئی نئی مشینیں ایجاد کیں
اور خود کو ترقی یافتہ انسان کہلانے لگے…
اور میں تمہیں ایک معمولی جرثومے کے آگے بے بس کردیا!!
روبینہ کوورونا وائرس کو برا کہنے کے حق میںبھی نہیں ہے۔ ان کی ایک نظم کا عنوان ہی’ ’’کورونا کو برا مت کہو‘‘ ہے۔
ایک مفصل بات چیت میں روبینہ نے کہا کہ وہ اپنی شاعری کے ذریعے دراصل اس وبا سے متعلق اْس پہلو کو اجاگر کرنا چاہتی ہیں، جس پر عام طور سے سماج میں کوئی بات نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ یہ وبا خدا نے نازل کی ہے اور اگر ایسا ہے تو اس کی کوئی وجہ بھی ہوگی۔ ہمارا مذہب ہمیں صاف صاف بتاتا ہے کہ خدا نافرمانی اور روگردانی کی سزا دیتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ یہ وبا ہمارے لئے ایک اجتماعی سزا ہے۔‘‘ وبا کے دوران روبینہ جو شعری تخلیقات میں زندگی کے وہ مختلف رنگ منعکس دکھائی نہیں دیتے ہیں، جو عمومی طور پر شاعری کی جان ہوا کرتے ہیں۔
کورونا وائرس سے پیدا شدہ حالات کا اثر صرف روبینہ کی شاعری میں نہیں ہے بلکہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے کئی شعرا اور شاعرائوں کے کلام میں ان حالات کے مختلف پہلوئوں کی عکاسی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس طرح کی کئی غزلوں اور کئی گیتوں کو گلوکارہ پروین آزاد نے اپنی سریلی آواز کی بدولت مزید موثر بنادیا ہے۔
پروین آزاد کشمیر میں ایک جانا پہچانا نام ہے۔ یہ خاتون اپنی فنی صلاحیتوں اور گائیگی کی وجہ سے اپنے شیدائیوں کے دلوں پر راج کرتی ہیں۔تاہم کورونا کی اس وبا کے دوران انہوں نے زیادہ تر گیت اور نغمے اسی وبا کے حوالے سے گائے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’پوری دنیا میں پھیلی اس وبا کا اثر ہماری زندگی کے ہر شعبے پر پڑ گیا ہے، تو بھلا فن اس سے مبرا کیسے رہ سکتا تھا۔ مجھے اس وبا کے حوالے سے گانا اپنی ذمہ داری محسوس ہونے لگاتھا۔‘‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ پروین آزاد کی کورونا پر گائیکی واقعتاًعام لوگوں کے لئے حوصلہ افزا ثابت ہوئی۔ شاید اسی لئے ان کی اس گائیکی کو سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر بہت تشہیر ملی۔ یہاں تک کہ لوگ ان کی گائیکی پر مبنی ویڈیو اور آڈیو کلپس کو واٹس ایپ پر ایک دوسرے کو فارورڈ کرتے دکھائی دیئے۔وبا کے دوران پروین کے اس کنٹری بیوشن پر انہیں اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ انہیں حال ہی میں’’اینجلز کلچرل اکیڈیمی‘‘ کی جانب سے ایک سند سے بھی نوازا گیا۔
انسانی تاریخ کے ان مایوس کن دِنوں میں دنیا بھر میں تھیٹر کی دنیا سے وابستہ خواتین ٹیکنالوجی سے مستفید ہوتے ہوئے اپنے گھروں میں رہ کر ہی اپنے فن کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔ اس کی کئی مثالیں وادی کشمیر میں بھی دیکھنے کو ملیں۔سرکردہ کشمیری فلمساز، ہدایات کار اور تھیٹر آرٹسٹ مشتاق علی احمد خان کی سربراہی میں قائم ’’ایکٹرز کریٹیو تھیٹر‘‘ سے جڑی کئی کشمیری لڑکیوں نے کورونا وبا پھیلنے کے بعد لاک ڈائون میں نہ صرف خود اپنے لئے بلکہ عام لوگوں کے لئے بھی اپنے فن سے جڑی پرفارمنس کو انٹرنیٹ کی وساطت سے  جاری رکھا۔ آرٹ، کلچر، فلم اور لٹریچر سے جڑی ان کشمیری لڑکیوں میں تمثیل خان، شاہینہ مہاجن، اْلفت لون اور رابعیہ چودھری سمیت درجنوں فن کارائیں شامل ہیں۔
رابعیہ چودھری کا کہنا ہے، ’’لاک ڈائون کے ابتدائی دنوں میں ہی ہمیں اندازہ ہونے لگا کہ گھروں میں بیٹھے رہنے کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ اس سوچ نے ہمیں ذہنی تنائو کا شکار بنا دیا۔ پھر ہم نے ویبنارز کے ذریعے تھیٹر سے جڑی سرگرمیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ‘‘ 
رابعیہ چودھری نے مزید بتایا، ’’ہم نے زوم ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑنے اور فنی پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے کی شروعات کیں۔ اس عمل کے نتیجے میں ہم سب کا ذہنی تنائو دور ہونے لگا اور پھر تھیٹر کی دْنیا سے باہر کی بعض لڑکیوں نے بھی ہماری ورچیول محفلوں میں شمولیت کی گزارش کی۔‘‘ آج فن سے جڑی نئی نسل کے یہ لوگ اپنے آن لائن تھیٹر پروگرامز کے ذریعے ایک مثبت سرگرمی میں محو ہیں۔
یہ وبا کے اس عالم میں آرٹ ، شاعری ،گلوکاری اور تھیٹر کے شعبوں میں خواتین فنکاراوں کی اعانت کی چند مثالیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وبا کے اس دور میں جب انسانی زندگیاں دائو پر لگی ہوئی ہیں، زندگی کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی کشمیری خواتین اپنی مقدور کے مطابق سماجی ذمہ داریاں ہمت و حوصلے کے ساتھ ادا کررہی ہیں۔
(مضمون نویس لاڈلی میڈیا فیلو ہیں۔
آراء اُن کی خالصتاً اپنی ہیں۔لاڈلی اورUNFPAکا ان سے متفق ہونا لازمی نہیں ہے)

تازہ ترین