تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    23 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


لِکھے ہیں مقدر میں مرے درد و الم اور
سہنے ہیں ابھی مجھکو ترے ہِجر کے غم اور
 
گویا مُجھے درپیش قیامت کی گھڑی ہے
اب کے تو ستمگر کا ہے اندازِ ستم اور
 
لازم نہیں تُم نے جو سُنا ہے وہی سچ ہو
واعظ کی زباں اور کہ رودادِ قلم اور
 
دریا ہوں مگر ایک سمندر سے جدا ہوں
لوٹوں گا تو ہو جاؤں گا پہلے سے بھی ضم اور
 
سجدوں نے اُٹھا رکھا ہے محشر مرے سر پر
کعبہ کا خدا اور کہ پتھر کا صنم اور
 
مُمکن ہے اِسی جھیل میں اُتریں یہ شناور
کر لیجئے آنکھوں کو ابھی تھوڑا سا نم اور
 
اک شاخ سے ٹُوٹی ہُوئی ٹہنی کو گِلہ ہے
یزداں نے بڑھا رکھا ہے جاویدؔ کا غم اور
 
سردارجاویدخان
مینڈھر پونچھ،موبائل نمبر؛9697440404
 
یہ دور نیا ، دستور نیا ، اقوال نئے ، کردار نئے
انسان نئے ، انداز نئے ، دنیا بھی نئی ، سردار نئے
ہر چیز نئی اس دنیا کی ، جینے کا طریقہ بھی ہے نیا
اُلفت بھی نئی ، رشتے بھی نئے ، احباب نئے ، گھر بار نئے
انصاف اٹھا اس دنیا سے نا انصافی کا دور ہے یہ
منصف ہے نیا ، شاہد ہے نیا ، حاکم ہے نیا ، دربار نئے
بیمارِ محبت کوئی نہیں بیماریٔ دل کا دور ہے یہ
دکتور نئے ہیں دوائیں نئی ، نسخے بھی نئے ، بیمار نئے
اخلاص و وفا ، ایثار یہ سب ، پہلے کی پرانی باتیں ہیں
اغراض کی ماری دنیا میں ، ہمدرد نئے ، غمخوار نئے
کیوں رسم کہن کی بات کریں ، وہ دور پرانا بیت گیا
اب رسمِ تجارت بھی ہے نئی ، سامان نیا ، بازار نئے
دنیائے ادب بھی اب ہے نئی ، تصنیف نئی ، تحقیق نئی
غزلیں بھی نئی ، نظمیں بھی نئی ، شاعر بھی نئے ، اشعار نئے
اس دور کے میخانے ہیں نئے ، ساقی بھی نیا ، بادہ بھی نیا
اب ساغر و مینا بھی ہیں نئے اور خُم بھی نیا میخوار نئے
بے وقت کی ہے یہ شہنائی ، صارمؔ نے بھی چھیڑا راگ نیا
اسلاف سے رشتہ ٹوٹ چکا ، ہے طرز نئی ، آثار نئے
 
ابونصر فاروق صارمؔ
موبائل نمبر؛8298104514
 
دہشت رہے گی کب تک شمرِلعین کی
دنیا تلاش میں  ہے  اپنے حُسینؑ کی
ممکن نہیں کہ دب کر وہ رہ سکے گا جو
تاریخ سے ہو واقف  بدرو حنین کی
روٹھا خدا ہے ہم سے ناراض مسجدیںہیں
آ ئے گی کیا  اعانت ہم کو معین کی
محزون لوگ سارے افسردہ اور حرماں
خلقت ہے سب پریشاں، خالق زمین کی
دشمن بھی جاں کے لیکن کتنے عجیب بھی
دیتے ہیں خود گواہی صادق امین کی
آ کاش سے فرشتے اتریں گے اب بھی لیکن
ہے بات اے مسلماں! کامل یقین کی
 
مبارک لون 
کھادنیار، بارہمولہ،رسیرچ اسکالر شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی
موبائل نمبر 7006760284:
 
 
جو آج بزم سیاست سجائے بیٹھے ہیں
وہ اہلِ شہر کو پیہم ستائے بیٹھے ہیں 
یہاں جو صبر و تحمل کی بات کرتے ہیں
یہ لوگ وہ ہیں جو بستی جلائے بیٹھے ہیں
اُمڈتے دل میں ہیں، طوفان اقتداری کا
ہزاروں خواب دلوں میں چُھپائے بیٹھے ہیں
سکون و چین دلوں کا قرار اے ہمدم
بزار عشق میں سب کچھ گنوائے بیٹھےہیں
تمہارے شہر نے چھینا ہے ہم سفر ہم سے
یہی تو غم ہے جو دل میں دبائے بیٹھے ہیں
یہ آرزو ہے خدا ان کو اب ہدایت دے
جو اپنے فرض کو بالکل بُھلائے بیٹھے ہیں 
ہماری پلکوں پہ اے جگنؤو! ٹھہر جاؤ 
کسی کی یاد میں پلکیں بچھائیں بیٹھے ہیں
 
سکندر علی شکن ؔ
بہرائچ ، اتر پردیش
موبائل نمبر؛9519902612
 
 
لوگ کچھ بھی بولتے ہیں،ہر کسی کو گیان ہے کیا
لڑکیوں کا دکھ سمجھ لینا کوئی آسان ہے کیا
جھوٹی تعریفوں کے جھانسے میں نہیں میں آنے والی
میں کوئی ملکہ نہیں ہوں،تو کوئی سلطان ہے کیا
دیکھنے میں لگ رہا ہے آدمی تو آدمی ہی
جا ننا ہے آدمی وہ واقعی انسان ہے کیا
سن کے میری آپ بیتی آپ کی آنکھیں بھی نم ہیں
آپ کے سینے میں بھی کوئی چھپا طوفان ہے کیا
آدمی ہے تو نظر آئے مجھے انسان جیسا
پُر ہوس آنکھوں کے پیچھے کیا کوئی شیطان ہے کیا
میں نے تو طے کر لیا تھا آج قِصّہ ختم کر دوں
کہہ رہا تھا سوچ لیجیے،سوچنا آسان ہے کیا
باتوں ہی باتوں میں خوشبوؔ وقت کتنا کٹ چُکا ہے
مُجھکو بھی جانا ہے جلدی آپ کو کچھ دھیان ہے کیا
 
خوشبو ؔپروین
ایم،فل اردو،سینٹرل یونیورسٹی آف حیدرآباد
 
 
مجھے فخر ہے میری بات پر کہ ستمگروں کو ڈرا دیا
کبھی آس قائم کرکے دی کبھی فاصلوں کو مٹا دیا
پُر عزم وہ جو تھے عشق‌میں کبھی گود تک کبھی گور تک
مجھے اَزیتوں میں ہی چھوڑ کر دمِ صُبح مجھکو بُھلا دیا
کرو نفرتوں میں شمار اب میرے نام کو، مجھے بھول جاؤ
یہی لفظ تھے کچھ رقیب کے مجھے وصل میں جب رُلا‌ دیا
بڑے مطلبی سے وہ لوگ تھے جنھیں سمجھا تھا ہم نے حق نما
وہی ایک بس دستگیر ہے مجھے مشکلوں نے سکھا دیا
مجھے چھوڑنے کے بعد بھی میری جنبشیں تیرے حق میں ہیں
تری بے وفائی کا شکریہ مجھے میرے دل سے ملا دیا
میں وفا نبھاؤں گا عمر بھر میں اسی تخیل میں قید ہوں
تیری تہمتوں پہ ہوں مطمئن، ترے سامنے سر جُھکا دیا
کبھی تیرے دل کی ترنگ پر مجھے مل گئیں کیسی سبقتیں
کبھی فریفتوں کے شمار سے مرے نام کو ہی ہٹادیا
 
معصوم فرمان ؔ
طالب‌علم،موبائل نمبر؛6005809201
 
 
ساتھی ملے نہ ملے تُو خدا تلاش کر
دکھ درد مٹیں جس سے وہ دعاء تلاش کر
 
رستے میں شام ہونے سے رُکتا نہیں سفر 
تاریکیوں میں صبح سحر کا اُجالا تلاش کر
 
ماضی میں گم جو ہوگئے لمحے، وہ بھول جا 
امروز کے لمحوں میں اب فردا تلاش کر 
 
کیوں ہونگے پریشان مستقبل کو سوچ کر 
اس زندگی میں دل سے تو جینا تلاش کر 
 
مشکل سے ڈر کے بیٹھنا کیا حل ہوا کوئی؟
ہمت کے راستوں پہ تو چلنا تلاش کر
 
مل جائے گا مبشرہؔ ایماںِ مکمل
تو دل سے اپنے رب کا ہی رستہ تلاش کر
 
مُبشرہ مسعود
جانی پور ،جموں
 

تازہ ترین