تازہ ترین

روحانی مراکز پر عبادت کی اجازت

جامع مسجد اور درگاہ حضرت بل میں ’نمازیوں ‘ میں خوشی کی لہر

تاریخ    22 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//پائین شہر کے نور باغ سے تعلق رکھنے والے75برس کے عبدالعزیز ریشی جمعہ کو صبح سے ہی کسی خاص چیز کے انتظار میں بار بار گھڑیوں کی سوئیوں کو حرکت کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے،مگر شائد انکی انتظار کی گھڑیاں ہی ختم نہیں ہو رہی تھیں۔اسی اثناء میں اپنے فرزند کو انہوں نے موٹر سائیکل نکالنے کو کہا اور آخر کار انکی منزل آہی گئی اور انکی آنکھوں سے آنسوئوں کی لڑیاں بہنے لگیں۔سامنے جامع مسجد سرینگر کا دلکش منظر تھااور ریشی ٹکٹکی لگا کر اس روحانی مرکز کو دیکھ رہا تھا۔ عبدالعزیز ریشی کے فرزند محمد یعقوب نے بتایا کہ اس کے والد نے انہیں گھر میں شائد اس لئے  یہ نہیں بتایا کہ انہیں جامع مسجد جانا ہے،کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ گھر والے اس کی اجازت نہیں دینگے۔یعقوب نے کہا کہ انکے والد گزشتہ22 ہفتوں سے گھر میں ہی نماز جمعہ کی ادائیگی کرتے ہیںاور اہل خانہ نے انہیںمقامی مسجد میں جانے سے بھی روکا تھا،تاہم آج صبح سے ہی وہ بے چین تھے اور بار بار اپنی گھڑی کی سوئیوں کو دیکھ رہاتھا۔بزرگ ریشی نے بتایا کہ کم و بیش گزشتہ50برسوں سے انکا معمول ہے کہ وہ نماز جمعہ جامع مسجد سرینگر میں ادا کرتے ہیں،مگر اچانک اس روحانی مرکز سے دورہنے سے انہیں یوں لگا کہ شاید انکی بے تحاشہ قیمتی چیز ان سے چھین لی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے میں اب انکے بہت سارے دوست بھی بن گئے ہیں جنہیں وہ’’ جمعہ یار‘‘ کہہ کر پکارتے ہیںاور انکی دوری اور کرب بھی انہیں ستا رہا تھا۔اس دوران درگاہ حضرت بل بھی قریب5ماہ کے بعد نماز کیلئے کھول دیا گیا،جہاں پر عقیدتمندوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔غلام حسن کرنائی نامی ایک شہری نے بتایا کہ وہ5ماہ کے بعد آثار شریف درگاہ حضرت بل میں نماز کی ادائیگی کیلئے پہنچ گئے۔انہوں نے کہا کہ وہ ہر ہفتے نماز جمعہ ادا کرنے کیلئے درگاہ آتے ہیں تاہم لاک ڈائون کے نتیجے میں اس عرصے میں اس روحانی مرکز سے دور رہے۔کرنائی نے کہا کہ ان کیلئے حضرت بل میں نماز جمعہ ادا کرنا روحانی سکون کا باعث ہے اور وہ اس مرکز سے دور نہیں رہ سکتا ۔