تازہ ترین

کورونا عذاب ہے یا ثواب

سرحدِ ادراک

تاریخ    22 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


نعیمہ احمد مہجور
چند روز پہلے برطانیہ میں ایک غیر سرکاری تنظیم نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے لاک ڈاؤن کے دوران بعض لوگوں سے دریافت کرنے کی کوشش کی کہ ان کی زندگی میں کورونا(کرونا) سے کیا تبدیلی آنی، ان دو ماہ کی سخت بندشوں کے باوجود انہوں نے کیا کچھ کھویا اور کیا کچھ سیکھنے کو ملا۔
جمیز کی عمر تقریباً 75سال ہے، اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ رہتے ہیں، پندرہ مارچ کو اولڈ ہوم میں تبدیل ہونا تھا جس کی خواہش خود جمیز نے اپنے بیٹے اور بہو سے کی تھی کیونکہ میاں بیوی کے بیچ میں شدید تناؤ کے باعث جیمز انتہائی افسردہ ہوجاتے تھے۔ڈاکٹر نے بھی مشورہ دیا تھا کہ وہ اولڈ ہوم میں رہ کر زندگی کے بقیہ دن آرام سے گزاریں اور بہو بیٹے کے درمیان موجود کشیدگی سے خود کو دور رکھے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ اولڈ ہوم نہیں جاسکے۔
مارتھا مانچسٹر میں اپنے دو بیڈ روم فلیٹ میں تب سے اکیلی رہ رہی ہیں جب گیارہ برس قبل ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا۔تین شادی شدہ بچے دوسرے شہروں میں رہتے ہیں۔ ایسٹر اور کرسمس کے دوران سارا خاندان ماں کے فلیٹ میں جمع ہوتا ہے۔ اس سال مارتھا نے ایسٹر پر اپنی دو بہنوں کو بھی بلانے کی خواہش ظاہر کی تھی جو جرمنی میں رہتی ہیں۔تین برس کے بعد ایک دوسرے سے میل ملاپ کا بڑا منصوبہ بنا تھا مگر کرونا نے اس منصوبے پر پانی پھیر دیا۔
ٹریسی نے نرسنگ کی ٹریننگ گزشتہ برس مکمل کرلیں تھی،لندن کے ایک بڑے ہسپتال میں فورا ًملازمت ملی اور وہ دوسری فلورینس نایٹنگیل بننے کا خواب پورا کرنے کی کوشش میں تھی کہ ہسپتال میں مارچ کے اوائل سے کرونا وائرس میں مبتلا مریضوں کا داخلہ بڑی تعداد میں شروع ہوگیا۔ وہ مریضوں کی ابتر حالت دیکھ کر ذہنی دبائو کا شکار ہوگئی اور جسمانی تھکاوٹ کا اندازہ ہی نہیں رہا تاہم اپنی ملازمت روزانہ آٹھ گھنٹے کے بجاے چودہ گھنٹے کرنے لگ گئی۔ٹریسی کہتی ہیں کہ مجھے خدمت خلق کا یہ بہترین موقع نصیب ہوا۔
برمنگھم میں رہایش پذیر پیٹرسن بریگزٹ کے کٹرحامی رہے ہیں۔انکا خیال ہے کہ ملک میں لاکھوں تارکین وطن کو واپس اپنے ملکوں میں بھیج کر برطانیہ میں نہ صرف پشتینی باشندوں کے لئے ملازمتیں فراہم ہوسکتی ہیں بلکہ مسلم ملکوں کے بیشتر تارکین وطن میں پاے جانے والی انتہا پسندی کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک بڑی مہم شروع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا کہ کرونا کی وبا پھیلی اور منصوبہ ترک کرنا پڑا.
کرسٹین نے دو سال پہلے شادی کرنے کا فیصلہ کیا تھا کہ ایک بڑی آفت نے گھیر لیا۔ڈاکٹروں نے کافی جانچ کے بعد بدن میں کینسر کے مرض کی تشخیص کی۔علاج و معالجے کے بعد کرسٹین کو بتایا گیا کہ وہ صرف دوسال تک زندہ رہ سکتی ہیں۔ رواں ماہ کا اپریل کرسٹین کی زندگی کا آخری ماہ تھا اور اس نے یہ آخری ماہ کروز یعنی آبی جہاز میں گزارنے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنی آخری خواہش مرنے سے پہلے پوری کرسکیں۔کرونا نے ان کی خواہش کو پورا نہیں ہونے دیا۔
ان سب لوگوں نے کہا کہ کرونا نے ان کی زندگی مکمل طور پر بدل دی ہے۔جیمز نے کہا کہ جس اولڈ ہوم میں وہ بقیہ زندگی گزارنے والے تھے وہاں موجود پچیس بزرگوں میں صرف دس کرونا سے محفوظ رہے باقی سب انتقال کر چکے ہیں؛ "چونکہ میں دمے کے مرض میں مبتلا ہوں تو کرونا کا وائرس میرے لئے موت کا سبب بن سکتا تھا۔گھر میں قید رہنے کے سبب میں بچ گیا. لاک ڈاؤن کے دوران میں نے کئی بار بہو اور بیٹے کو سمجھایا اور باہمی تناو کو دور کرنے کی سخت تلقین کی۔ معجزاتی طور پر دونوں میں صلح ہوگئی اور اب دوبارہ ازدواجی زندگی بسر کر رہے ہیں۔اب میں نے سرے سے ہی اولڈ ہوم جانے کا خیال چھوڑ دیا اور بچوں نے مرتے دم تک میری دیکھ بھال کرنے کی قسم کھانی".
مارتھا نے ایسٹر تنہا گزارہ اور جو ایسٹر پر اخراجات کا بجٹ تھا وہ ایک خیراتی ادارے کو بطور عطیہ دے دیا جو بے گھر افراد کی بہبود کے لئے کام کر رہا ہے۔مارتھا کی ایک بہن جرمنی میں کرونا وائرس سے انتقال کرچکی ہیں۔بچے اپنی ماں سے روزانہ ؤیڈیو کے ذریعے حال چال پوچھتے ہیں جو کرونا سے پہلے کبھی کبھار ہی ہوا کرتا تھا. مارتھا کہتی ہیں کہ لاک ڈاؤن نے ہمیں ایک دوسرے سے ملنے نہیں دیا مگر اس کے کارن میں اپنے بچوں کے قریب ہوگئی،ان کا چہرہ روز ؤیڈیو کے ذریعے دیکھتی ہوں جو معمولی حالات میں نہیں ہوتا۔"میں تنہا نہیں ہوں بلکہ میرے بچے فون کے ذریعے مجھ سے ساتوں پہر جڑے رہتے ہیں۔"
ٹریسی کی زندگی اس وقت بلکل بدل گئی جب ہسپتال میں فرائض انجام دیتے دیتے وہ بخار میں مبتلا ہوگی اور پتہ چلا کہ وہ کرونا وائرس سے خود متاثر ہویی ہیں۔دو ہفتے انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں رہنے کے بعد اب گھر میں قرنطینہ میں ہے۔ٹریسی کو مزید ایک ماہ قرنطینہ میں رہنے کا مشورہ دیا گیا۔ٹریسی کہتی ہیں کہ اگر وہ ابھی فلورینس بننے کا خواب پورا نہیں کر سکی مگر اس نے اپنی آنکھوں سے ایسی درجنوں فلورینسز کو دیکھا جو کرونا وائرس میں مبتلا مریضوں کی خدمات کر رہی تھیں۔ ان فرشتوں کی بے لوث خدمت دیکھ کر اس کا عزم پختہ ہوگیا کہ صحت یاب ہونے کے بعد وہ اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گی چاہے اس میں جاں کا صدقہ کیوں نہ دینا پڑے۔ وہ فلورینس کا خطاب ضرور حاصل کریں گی…
پیٹر کو جب پتہ چلا کہ وہ وائرس کا شکار ہوگیے ہیں  تو وہ انتہائی افسردہ ہوگئے۔ گھر میں اشیا خوردنی موجود نہیں تھی، اوپر سے گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عاید ہوئی تھی ۔پیٹر نے علاقے میں سر گرم عمل رضاکار تنظیم سے رابطہ قائم کیا اور ان سے اشیا اور ادویات فراہم کرنے کی درخواست کی۔ دوسرے روز پہلے ایک باریش شخص کھانے کی اشیا لے کر آیا پھر شام کو سیاہ فام نوجوان ادویات چھوڑ کے گیا... یہ سلسلہ چھ ہفتوں تک جاری رہا اور لاک ڈاؤن میں تارکینِ وطن رضاکاروں نے ان کے لئے ہر اشیا کو فراہم کیا۔پیٹر نے ایک ریڈیو اسٹیشن پر اس بات کا اعتراف کرتے ہوے کہا کہ جن کو تارکین وطن کہہ کر وہ ملک سے نکالنے کی مہم شروع کرنے والے تھے، انہوں نے انسانیت کا درس دے کر انہیں نئی زندگی عطا کی ہے،ان کی سوچ کافی بدل گئی ہے اور وہ اس پالیسی پر کام شروع کر نے کا منصوبہ بنا رہے ہیں جو برطانیہ میں تارکین وطن کے مساوی حقوق کیلئے کام کرے گا۔ آجکل وہ اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کرنے لگے ہیں۔
کرسٹین کہتی ہیں کہ وہ کروز پر نہیں جاسکی اور زندگی کا آخری ماہ نہ صرف قید میں گزارا بلکہ اپنے محبوب سے بھی دور رہی جس کے ساتھ وہ شادی کے بندھن میں بندھنے والی تھی۔شدید ذہنی دباو کی وجہ سے وہ ہسپتال واپس پہنچ گئی جہاں بدن میں کینسر کے پھیلنے کی تشخیص دوبارہ شروع کی گئی۔ چند روز سے ہسپتال میں وہ ذہنی طور پر خود کو مرنے کے لئے تیار کر رہی تھی کہ ڈاکٹروں کی ٹیم اس کے پاس آکر کہتی ہے کہ اس کے بدن میں کینسر ختم ہوگیا ہے،وہ تصدیق کے لئے ڈاکٹروں سے بار بار پوچھتی ہے مگر ڈاکٹر اس کو ہسپتال سے فارغ کرکے نارمل زندگی گزارنے کا مشورہ دیتے ہیں۔کرسٹین کی شادی جولائی میں اب طے پاگئی ہے اور میری طرف سے سب کو دعوت ہے کہ ان کی شادی میں ضرور آنے گا۔آخر میں ایک بات گوش گزار کرنا چاہتی ہوں کہ زندگی کے ہزاروں منصوبے ضرور بنائے مگر منصوبوں کی کامیابی کے لئے اللہ تعالی سے مدد بھی مانگتے رہے کیونکہ اس کی مرضی کے بغیر کوئی بھی منصوبہ روبہ عمل نہیں ہوتا ہے۔
(کالم نویس فی الوقت برطانیہ میں مقیم ہیں۔وہ مصنفہ ہونے کے علاوہ اور بی بی سی اردو سروس کی سابق ایڈیٹر ہیں)