تازہ ترین

شہیدِ مصلائے رسول ؐ

خلیفۂ ثانی حضرت سیدنا عمر فاروق ؓ

تاریخ    21 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


اشرف بن سلام
مرادِ رسول رحمت ؐ شہید محراب ومنبر خلیفہ دوم حضرت سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمات اسلام، جرات و بہادری، عدل و انصاف پر مبنی فیصلوں، فتوحات اور شاندار کردار اور کارناموں سے اسلام کا چہرہ روشن ہے، اورتاریخ عالم میں بہت کم شخصیات ایسی ملتی ہیں جن کی ذات میں اس قدر صلاحیتیں اور خوبیاں ایک ساتھ ہوں کہ ایک طرف فتوحات اور نظام حکومت میں مساوات، عدل و انصاف، مذہبی رواداری اپنی انتہا ء پر ہو،اورتاریخ اسلام کی اتنی ولولہ انگیز اور ہمہ جہت شخصیت تھے کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی سیرت ،اوصاف ، کردار ،بلند حوصلے ،خداداد شجاعت ،غیر معمولی فراست اور کارناموں کو اختصار سے بیان کرنا ممکن نہیں۔
 اسم مبارک عمر، لقب فاروق اور کنیت ابو حفص ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نسب نویں پشت میںحضرت نبی اکرمؐسے جا ملتا ہے۔حضرت عمر بن خطاب ؐسے قبل چالیس مرد اور گیارہ عورتیں نور ایمان سے منور ہوچکی تھیں۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ عظیم المرتبت شخصیت ہیں کہ جن کے لئے رسول اللہؐنے اللہ تعالیٰ سے خصوصی طور پر دعا مانگی تھی۔(جامع ترمذی، کتاب المناقب، 3681)’’اے اللہ! تو ابوجہل یا عمر بن خطابؐدونوں میں سے اپنے ایک پسندیدہ بندے کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا فرما‘‘۔حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے نہ صرف اسلامی تاریخ میں انقلابی تبدیلی آئی بلکہ مسلمانوں کی قوت و عظمت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا۔ وہ مسلمان جو پہلے اپنے اسلام کو ظاہر کرتے ہوئے شدید خطرات محسوس کرتے تھے، اب اعلانیہ خانہ کعبہ میں عبادت انجام دینے لگے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام ہمارے لئے ایک فتح تھی اور ان کی امارت ایک رحمت تھی۔ خدا کی قسم ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے یہاں تک کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام لائے۔ پس جب وہ اسلام لائے تو آپ نے مشرکین مکہ کا سامنا کیا یہاں تک کہ انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا۔ تب ہم نے خانہ کعبہ میں نماز پڑھی۔حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا:اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتا۔(جامع ترمذی)
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 24 جمادی الثانی سن 13ھ کو سنبھالا، تو اس وقت فوجیں فارس اور روم کی سرحدوں پر اسلام کے مخالف لشکروں سے نبرد آزما تھیں اسلامی فتوحات کا آغاز ہو چکا تھا لیکن دور فاروقی میں ان مشرکوں میں مزید جوش وخروش پیدا ہوا۔ ایران کا فتوحات کا سر چشمہ یہی عہد آفرین دور ہے جنگ قادسیہ کے تین دن خصوصیت سے قابل ذکر ہیںرومیوں سے مقابلے میں دمشق کی فتح کو شہرت حاصل ہے۔ جسے شام و فلسطین کی فتوحات کا پیش خیمہ قرار دیا جا سکتا ہے جنگ قادسیہ میں لشکر اسلامی کے 30 ہزار مجاہدین نے ایک لاکھ بیس ہزار کے ایرانی لشکر کو شکست فاش دیکر شجاعت کی نئی تاریخ رقم کی تھی۔ تاریخ انسانی میں امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓسے پہلے کوئی ایسی شخصیت نہیں ملتی جس نے باقاعدہ سرکاری سطح پر اصول وضوابط کے تحت یہ محکمہ قائم فرمایا ہو۔آپؓنے اپنے دور خلافت میں بہتر نظم و ضبط، بیت المال، ڈاک رسانی، بوڑھے اور معذور شہیدوں کی مستقل امداد، زراعت، آبپاشی اور تعلیم کے محکمہ جات کا قیام ہوا۔ اس سے پیشتر یہ محکمے موجود نہ تھے۔ ان محکموں کے قیام سے یکسر نظام خلافت، نظام حکومت میں بدل گیا۔ تمام محکموں کے افسران اور ملازمین کی تنخواہیں مقرر کی گئیں۔ باقاعدہ فوج اور پولیس ، نہری اور زرعی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ترتیب دیا گیا۔ ڈیم اور نہریں بنائی گئیں۔ زمینوں کو مزارعین میں تقسیم کردیا گیا۔ باقاعدہ حساب کتاب کے لئے حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مختلف شعبوں کا سربراہ مقرر کیا۔حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب سے پہلے ’’جریب‘‘ کے ذریعے زمین کی پیمائش کی اور اجناس پر ٹیکس مقرر کیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیت المال کے شعبہ کو بہتر بنایا،اور اس کے علاوہ سن ہجری کا آغاز۔ باجماعت نماز تراویح۔ تمام محکمہ جات کے لئے دفاتر کا قیام۔ حرم اور مسجد نبوی کی توسیع۔ نہرابوموسیٰ، نہر معقل، نہر سعد۔ جہاد کے لئے باقاعدہ گھوڑوں کی پرورش کا اہتمام۔ محکمہ عدالت اور قاضیوں کا تقرر۔ امیرالمومنین کا لقب اختیار کرنا جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا۔ مردم شماری۔ نئے شہروں اور صوبوں کا قیام۔ محصول اور لگان۔ حربی تاجروں کو تجارت کی اجازت۔ راتوں کا گشت۔ فوجی چھائونیوں کی تعمیر۔ پرچہ نویسوں کا تقرر۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان مسافروں کے آرام کے لئے سرائیں اور چوکیوں کا قیام۔ بچوں کے وظائف۔ مفلوک الحال، یہودیوں اور عیسائیوں کے لئے وظائف۔ مکاتب و مدارس کا قیام اور اساتذہ کی تنخواہیں۔ قیاس کا اصول رائج کیا۔ فرائض میں عدل کا مسئلہ ایجاد کیا۔ فجر کی اذان میں الصلوٰۃ خیر من النوم کا اضافہ۔ تجارتی گھوڑوں پر زکوٰۃ کا اجراء۔ امام اور موذن کی تنخواہ مقرر کی۔ مساجد میں وعظ کا طریقہ جاری کیا۔ مساجد میں روشنی کا اہتمام۔ اور عشر اور زکوٰۃ کے علاوہ عشور کی اصطلاح آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے متعارف کرائی۔عہد فاروقیؓ میں اسلامی ریاست کی حدود 22لاکھ مربع میل تک فتوحات کے باعث وسیع ہوگئیں۔خلیفہ عادلؓ ساڑھے10 سال منصب ِ خلافت پر رہے۔ 
 سیدنا فاروق اعظمؓ پر 26 ذوالحجہ 23 ہجری میں مسجد نبوی شریف میں نماز فجر کی امامت کرتے ہوئے ابو لولو پارسی نے حملہ کیاتھا۔ آپؓ شدید زخمی ہوئے اور یکم محرم الحرام 24ہجری کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ (ماخوذ)سیدنا عمر وبن میمون رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں’’جس دن سیدنا فاروقِ اعظمؓپر حملہ کیا گیا اس دن میں وہیں موجود تھا۔ سیدنا عمرفاروقِؓ نمازِ فجر کے لئے صفیں درست کرو ارہے تھے۔ میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بالکل قریب کھڑا تھا، ہمارے درمیان صرف حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حائل تھے۔ حضرت سیدنا عمرؓ صفوں کے درمیان سے گزرتے اور فرماتے ،اپنی صفیں درست کرلو۔جب آپ ؓنے دیکھاکہ صفیں بالکل سیدھی ہوچکی ہیں، نمازیوں کے درمیان بالکل خلا نہیں رہااورسب کے کندھے ملے ہوئے ہیں تو آپؓ آگے بڑھے ا ور تکبیرتحریمہ کہی۔سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی عادتِ کریمہ تھی کہ صبح کی نماز میں اکثر سورہ یوسف اور سورہ نحل میں سے قرا َت فرماتے، آپ ؓپہلی رکعت میں کچھ زیادہ تلاوت فرماتے تاکہ بعدمیں آنے والے بھی جماعت میں شامل ہو سکیں، ابھی آپؓنے نمازشروع ہی کی تھی کہ ایک مجوسی غلام جو پہلی صف میں چھپ کر کھڑا تھا،اس نے موقع پاتے ہی ایک دودھاری تیز خنجرسے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کردیا۔سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی آواز سنائی دی کہ مجھے کسی کتے نے کاٹ لیا ہے ابو لولو غلام حملہ کرنے کے بعد پیچھے پلٹا اور بھاگتے ہوئے تیرہ نماز یوں پر حملہ کیا جن میں سے سات شہید ہوگئے ،ایک نمازی نے آگے بڑھ کر اس پرکمبل ڈالا اور اسے پکڑ لیا، جب اس بدبخت نے دیکھا کہ اب میں پکڑا جاچکاہوں ،تو اپنے ہی خنجرسے اپنی شہ رگ کاٹ کر خود کشی کر لی، اس دوران حضرت سیدناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیٹ میں زخم لگے تھے، اس کے باوجود انہوں نے حضرت سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بازو سے پکڑ کر امامت کے لیے آگے کیا ،آپؓ نے آگے بڑھ کر نماز فجر پڑھائی ، چھوٹی چھوٹی سی صورتیں تلاوت کر کے جلدی سے نماز ختم کی۔ اکثر لوگو ں کونماز کے بعد واقعہ کا علم ہوا۔ نماز کے بعد حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدناابن عباس رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے فرمایا:’’اے  ابن عباس رضی اللہ تعا لیٰ عنہ!معلوم کرو کہ مجھے کس نے زخمی کیا ہے؟ ابن عباس ؓ باہر گئے ،کچھ دیر بعد واپس آکر بتایا، (ابولولوہ فیروز) نے آپؓ پر حملہ کیا ہے۔ حدیث میں آیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے صاحبزادے سیدناعبداللہ کو بلایا۔اور ان سے سے فرمایا:حساب لگا کر بتا ئو، ہم پر کتناقرض ہے ؟ انہوں نے حساب لگا کر بتایا: تقریباً چھیاسی ہزار(86,000) درہم۔آپؓ نے فرمایاکہ اگر یہ قرض میرے مال سے ادا ہوجائے تو ادا کردینا اور اگر میرا مال کافی نہ ہو توبنی عدی بن کعب کے مال سے ادا کرنا اگر پھر بھی ناکافی ہو توقریش سے سوال کرنا،ان کے علاوہ اور کسی سے سوال نہ کرنا۔
 روایت میںآیا ہے کہ سیدنافاروق اعظمؓنے اپنے صاحبزادے سے فرمایا۔ تم ا م المومنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بارگاہ میں چلے جائو اور ان سے عرض کر و کہ عمر بن خطابؓ اس بات کی اجازت چاہتا ہے کہ اسے اس کے ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا جائے او آقائے دوجہاںؐکے قرب میں جگہ عطا فرمائی جائے۔ سیدناعبداللہ بن عمر ؓ، سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور سلام عرض کیا۔ آپ ؓ رور ہی تھیں، آپؓ نے کہا ’’ سیدنا عمر بن خطابؓ آپؓکو سلام عرض کرر ہے ہیں اور اس بات کی اجازت چاہتے ہیں کہ انہیں ان کے ساتھیوں کے قرب میں دفن کیا جائے۔’’ آپؓ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا:’’ یہ جگہ تومیں نے اپنے لئے رکھی تھی لیکن اب میں یہ جگہ عمر بن خطاب ؓ کو ایثار کر تی ہوں، انہیں جاکر یہ خوشخبری سنا دو۔’’چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمرؓاجازت لے کر واپس تشریف لائے۔
 جب سیدنا عمر بن خطابؓکو بتایا گیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرؓآگئے ہیں توآپؓنے فرمایا: ’’مجھے بٹھا دو۔’’ آپؓ کوسہارا دے کر بٹھا دیا گیا۔آپ ؓ نے فرمایا: ’’اے میرے بیٹے کیا خبر لائے ہو؟ ’’آپ ؓنے عرض کی:’’ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہا نے آپؓ کو اجازت عطا فرمادی ہے، آپ ؓخوش ہو جائیں ،جس چیز کو آپ ؓ پسند کیا کرتے تھے وہ آپ ؓ کو عطا کردی گئی ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ ، آقائے دوجہاں ؐ کا وصال مبارک ہوا،اس وقت آپ کی عمر مبارک ترسٹھ (63) برس تھی، اورسیدناابوبکرصدیقؓ نے وفات پائی تو آپؓ کی عمر ترسٹھ (63) برس تھی اورسیدنا عمر فاروقؓ شہید ہوئے تو عمر مبارک بھی ترسٹھ( 63) برس تھی۔(صحیح مسلم )
جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رو ح خالقِ حقیقی عزوجل سے جا ملی توسیدنا عبداللہ بن عمر ؓ ایک بار پھر عمر رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق ایک بار پھر مسجد نبو ی شریف حضرت عائشہ ؓکے پاس گئے ،اور ابن عمرؓنے حجرہ مبارکہ سے باہر کھڑے ہو کر ا م المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوسیدنا عمر فاروقؓ کا سلام عرض کیا ،اور سیدنا عمرؓ کو حجرہ مبارکہ میں دفن کرنے کی اجازت طلب کی۔ آپؓنے کہا بھتیجے دوبارہ کیوں سوال کرتے ہو میں نے بخوشی اجازت دے رکھی ہے۔ام المو منین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی اجازت کے بعد ، حضرت سیدناعمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آقائے دوجہاں نبی رحمت ؐکے قدموں میں اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں آسودہ خواب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ وہ ہمیں سیدنا عمر فاروقؓکی سیرت پر چلنے کی تو فیق عطافرمائے ۔آمین
رابطہ۔اوم پورہ بڈگام،9419500008