تازہ ترین

راحت اندوریؔ کا مشاعرہ

’ ایک شام کشمیر کے نام ‘

تاریخ    18 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


سہیل سالمؔ
2013میں شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ہم اکثر دوست تمام ادبی پروگراموں میں شرکت کرتے تھیں۔اس اثناء میں ہم نے شعبہ ارد وکے آپ پاس ایسی خبریں سنی کہ ہماری وادی میں کل ہند مشاعر کا اہتمام کیا گیا ہے جس کی صدارت اردو دنیا کے ایک معتبر شاعر پروفیسر وسیم بریلویؔ کرنے والے ہیں ۔بس میرے تجسس کے پر پھڑکنے لگے کہ وہ دن کب آئے گا کہ میں بھی پروفیسر وسیم بریلوی ؔ کو آمنے سامنے دیکھ لو ۔ جن کی یہ مشہور غزل آج بھی لوگ اپنی سریلی آواز میں گنگناتے ہیں   ؎
 آتے آتے مرا نام سا رہ گیا 
اس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا 
رات مجرم تھی دامن بچا لے گئی 
دن گواہوں کی صف میں کھڑا رہ گیا 
وہ مرے سامنے ہی گیا اور میں 
راستے کی طرح دیکھتا رہ گیا 
جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے 
اور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا 
 کچھ مدت کے بعد ہی کشمیر یونیوسٹی کے سر سید گیٹ کی دیوار پر بینر ٹانکاگیا جس پر لکھا یہ تھا ’’کل ہند مشاعرہ۔۔ایک شام کشمیر کے نام ۔۔تاریخ 19نومبر2013بمقام آڈیٹوریم ،ایس کے آئی سی سی سرینگر،وقت ،تین بجے دن۔پھر میں 19تاریخ کو گھر سے د ن کے2 بجے نکلا وہاں پہنچ کر دیکھا کہ دس منٹ کے بعدآڈیٹوریم میں کوئی بھی جگہ خالی نہیں ہوگی ۔ میں نے چاہا کہ محترم سلیم سالکؔ کے پاس بیٹھ  جائوں لیکن انھوںنے کوئی اہمیت ہی نہیں دی۔مشاعرے کی ابتدا سے پہلے تمام شعراء کرام کی پروفیسر رحمن راہی کی موجودگی میںشال پوشی سے نوازا گیا۔ اس کے بعد مشاعرے کی شروعات کی گئی جس کی نظامت اردو کے ایک اور معرو ف شاعر عالی جناب منصور عثمانی ؔکر رہے تھے۔
اس قومی مشاعرے میں جن شعرام کرام نے اپنے کلام سے سامعین کے دل جیت لئے، ان کے اسمائے گرامی جناب راحت اندوری ؔ،جناب منور راناؔ،شبینہ ادیبؔ،منظر بھولیؔ،وسیم بریلویؔ،اقبال اشہر،ڈاکٹر نسیم نکہتؔ،چرن سنگھ بشرؔ،نعیم اختر برہانپوریؔ،پاپولر میرٹھیؔ،فاروق نازکیؔ،رفیق رازؔ،مظفر ایرجؔ،رخسانہ حبینؔ،شفق سوپوری ؔ اور لیاقت جعفری ؔوغیرہ قابل ذکر ہیں۔اسی مشاعرے کے توسط سے پہلی بار راحت اندوریؔ کومیں نے قریب سے دیکھا۔جو کلام راحت اندوری ؔنے اس مشاعر میں پیش کیا، ملاحظہ فرمائیں   ؎
 نئی ہوائوں کی صحبت بگاڑ دیتی ہے
 کبوتروں کو کھلی چھت بگاڑ دیتی ہے
 جو جرم کرتے ہیں اتنے برے نہیں ہوتے 
 سزا نہ دے کے عدالت بگاڑ دیتی ہے
 ہمارے مرتقی میر نے کہا  تھا کبھی
 میاں یہ عاشقی سب بگاڑ دیتی ہے
 انتہائی شریف النفس اور مکرو فریب سے عاری مگر زمانے کی بدمعا شیاں اور فریب سہنے کا یار، منکسر المزاج اور ہنس مکھ لیکن دوسروں کی بد مزاجی اور ناراضی کو ہنستے ہنستے در گزر کرنے والا عظیم شاعر 11اگست 2020 کو دن کے تین بجے کووڈ19 سے زندگی کی جنگ ہار گیا۔پھرکیا دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر واٹس ایپ اور فیس بک پر پوسٹ کی گئی،ٹویٹر پر ٹویٹ کیا گیا اور موبائل فوں کی گھنٹیاں بجنی شروع ہوگئیں۔غرض کہ کشمیر یا کشمیر سے ہاہر ہی نہیں بلکہ پوری ادبی دنیا میں راحت اندوری ؔکی موت کی خبر پھیل گئی۔وہ ایسی منفرد ہمہ جہت شخصیت کا مالک تھا جس کا مکمل بیان ناممکن ہے۔وہ جس خانو ادے کے چشم وچراغ تھیں اور جن نامور ہستیوں کے زیرسایہ ان کی پرورش ہوئی اور جو کچھ انھیں ورثے میں ملا ،اس کے تمام اوصاف ان میں کوٹ کوٹ کربھرے ہوئے تھے۔لیکن ان کے اندر اس سب سے کچھ زائد بھی تھا جو ان کا اپنا،صرف اپنا تھا۔جو انھوں نے خود حاصل کیا تھا۔ان کا نڈر پن،بے باکانہ انداز گفتگو،ضد ،انصاف پسندی ،صاف گوئی کے علاوہ خوشامد ،منافرست،فرقہ پروری اور زمانہ سازی سے دور وہ نئی اور پرانی تہذیب کا ایسا سنگم تھا جن کے بہت سے مداح تھے۔ان کا وجو دایساگھنادرخت تھا جس کی شاخوں پر پرندے چہچہاتے اور تازہ دم ہو کر اڑان بھرنے کے لئے نکل جاتے ۔ان کی شخصیت ان کے اپنے خاندان میں بھی اور جہاں جہاں وہ وابستہ رہیں وہاں بھی منفرد ہی رہیں۔اب جب ہم ان کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہاںراحتؔزندہ دلی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے وہ اپنے رد عمل کو پوری شدت کے ساتھ نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کے مطابق غم جہاں اور غم بہاراں ہی دین میں سب کچھ نہیں ہوتا ،انسان کو غم جہاں سے بھی دل لگانے کی کوشش کرنی چاہیے۔جب زمین ایک  تو پھر وہ تمام سمتوں اور حدوں کی تقسیم کوبے معنی سمجھتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جہاں بھی روشنی کی کرن دکھائی دے ،ہمیں روشنی کا ساتھ دینا چاہیے ۔اگر چہار سمت ظلمتوں کی بدلیاںچھارہی ہیں تو ایسی صورت میں ہمیں سچائی کا ساتھ دینا چاہیے ۔وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگرہم اپنے دل نہیں بدلیں گے تو حالات بھی کسی طرح تبدیل نہیں ہوں گے اور اگر ہم نے اس مشکل مرحلے پر کامیابی حاصل کرلی تو دیکھتے ہی دیکھتے ہماری تقدیر بدل جائے گی۔لیکن یہ تمام تصورات ذہن تک محدود رہتے ہیں اور عملی طور پر جب حالات کے بہتر ہونے کی سبیل پیدا نہیں ہوپاتی تو پھر راحتؔ کے یہاں رد عمل کی شدت نمایاں ہونے لگتی ہے۔
 تمام شہر نے نیزوں پہ کیوں اچھالا مجھے
 یہ اتفاق تھا تم اس کو حاد ثہ نہ کہو
 میں واقعات کی رنجیر کا نہیں قائل
 مجھے بھی اپنے گناہوں کا سلسلہ نہ کہو
 یہ شہر وہ ہے جہاں راکشس بھی ہیں راحت
ہر ایک تراشے ہوئے بت کو دیوتا نہ کہو
الغرض راحت ؔ نے اس مشاعر ے میں شرکت کر کے اہل کشمیر کے دلوںمیںسچائی اور ایمان داری کو اجاگر کرنے کی حتی الامکان کوشش کر کے کشمیر کی ادبی تاریخ میں اپنا نام رقم کیا جس کا اعتراف آنے والی نسلیں اس یقین کے ساتھ ضرور کریں گی کہ  ؎
 اپنے ہونے کا ہم اس طرح پتہ دیتے تھے
 خاک مٹھی میں اٹھاتے تھے،اڑا دیتے تھے
   آنے والی نسلیں ہم کو بھول سکیں ناممکن ہے
نقش قدم کے مٹتے مٹتے راہ گزر بن جائیں گے 
رابطہ ۔رعناواری سرینگر۔9103654553 
������