تازہ ترین

شاہ فیصل کی قلا بازیاں

شورِ نشور

تاریخ    18 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


شاہ عباس
میرے ایک ہم پیشہ دوست کا ماننا ہے کہ سابق بیورو کریٹ اور سابق سیاست دان شاہ فیصل’ اتنی اہمیت‘ کا حامل شخص نہیں ہے کہ آئے دنوں اُن کی کارستانیوں پر قلم اٹھاکراظہار خیال کیا جائے۔ میرے معزز دوست کی رائے اپنی جگہ ،لیکن شاہ فیصل نے کم و بیش ایک سال کے کم عرصے کے اندر جس طرح قلا بازیوں کے جوہر دکھائے ہیں، اُن سے تو وہ خاص الخاص بن گئے ہیں۔شاہ فیصل جموں کشمیر کے پہلے آئی اے ایس آفیسر ہیں جنہوں نے اپنی پڑھائی اور اعلیٰ سرکاری عہدے تک پہنچنے کو کھلے عام ’’عوام کی خدمت ‘‘ کا نام دیا ۔ بعد ازاں انہوں نے ’’عوام کی خدمت کیلئے‘‘ ہی سرکاری عہدہ چھوڑ نے کا فیصلہ کیا۔اخلاقی دعویداری میں اپنا قد بہت اُونچائی تک پہنچانے کے بعد شاہ فیصل نے اب ’’عوام کی خدمت‘‘ کا یہ راستہ بھی محض ایک اعلان سے ترک کردیا۔
 اچھے خاصے پڑھے لکھے شاہ فیصل کیلئے الفاظ کا انتخاب کوئی مشکل کام نہیں ہے لیکن منتخب اصطلاحات کے استعمال کے باوجود جو بات عوامی حلقوں تک پہنچ گئی ہے وہ یہ ہے کہ شاہ فیصل ایک بار پھر اپنی زندگی جینا چاہتے ہیں ۔حالانکہ عام لوگوں کو پہلے بھی شاہ فیصل کی سرکاری افسری پر کوئی اعتراض نہیں تھا اور نہ اب ہے۔ شاہ فیصل کہتے ہیں کہ اُنہیں جیل ہونے پر لوگوں نے واویلا نہیں کیا، آنسو نہیں بہائے، اس لئے وہ اب’’ لوگوں کی خدمت‘‘ سے دستبردار ہوکر ’’اپنی دنیا‘‘ بسا نا چاہتے ہیں۔عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ وہ دہائیوں سے عذابِ مسلسل میں مبتلاء ہیں اور گذشتہ ایک سال کے دوران تو اُن پر ڈھائے جارہے عتاب میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔اس دوران کیا سرکاری افسر ان اور کیا سیاسی لیڈران، سب ہی یکساں طور پر متاثر رہے۔ مذکورہ حلقوںکا مزید کہنا ہے کہ اُنہیں تو ’’مسیحا‘‘ سے ہی بچائو اقدامات کی اُمید تھی۔ اُنہیں اُمید تھی کہ اُن کا ’’مسیحا‘‘ جب اُن کے درمیان آئے گا تو مرہم کرے گا۔لیکن اُنہیں کیا معلوم تھا کہ وہ اداکاری کو مسیحا ئی سمجھ بیٹھے تھے۔عوامی حلقے یہ بات اچھی طرح سمجھ گئے ہیں شاہ فیصل کا اعلیٰ امتحان پاس کرنا جس طرح اُن کا ایک’ ’ ذاتی‘‘ معاملہ تھا ٹھیک اسی  طرح اُن کا موجودہ اعلان بھی اُن کی ذات سے ہی تعلق رکھتا ہے ۔
 ایک سال کے زیادہ عرصہ پہلے شاہ فیصل کے خلاف سروس رولز کی مبینہ خلاف ورزی کو لیکرسرکاری تحقیقات جاری تھی کہ اُنہوں نے سیاست میں آنے کا اعلان کردیا۔ شاہ فیصل نے گذشتہ برس بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ایک ایسی سیاسی جماعت کا حصہ بنوں گا جس میں مجھے بھارت میں رہنے والے مسلمانوں، کشمیریوں اور اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر بات کرنے کی آزادی ملے گی۔ پہلے میں انتظامیہ کے ذریعہ لوگوں کی خدمت کرتا رہا اب سیاست کے ذریعہ بہتر انداز میں کر سکوں گا، سیاست پبلک سروس کا ایکسٹینشن ہے ۔ جو ہم آج تک کام کررہے تھے وہ سیاستدانوں کے ساتھ ملکر کرتے تھے ۔ اب سیاستدان بن کر کرسکتے ہیں۔ دو باتیں  ہیں، ایک عوام کی بات کرنا اور دوسرا عوام کے کام کرنا۔ یہ دونوں چیزیں سیاست میں ممکن ہیں۔ اس لئے سیاست میرے لئے ایک اچھا آپشن ہے ۔‘‘
اب کم و بیش ایک سال کا عرصہ گذرنے کے بعد شاہ فیصل کا کیا کہنا تھا۔ ملاحظہ کیجئے۔ــ’’گذشتہ ایک سال کے دوران یہ تاثر پیداکیا گیا کہ میں ایک قوم دشمن ہوں، ایسا میرے کچھ بیانات کی وجہ سے ہوا،میں نے اُن لوگوں کو مایوس کیا جو میرا اچھا چاہتے تھے ، میں اُس کو کالعدم کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے احساس ہوگیا ہے کہ عوام کو سچ بتانا بہت مشکل تھا ،میںکشمیری عوام کو باغوں کے راستے سے چلاکر اُن کی توقعات نہیں برھانا چاہتا۔ میری اپنی ایک زندگی ہے اور میں کچھ پروڈکٹیو کرنا چاہتا ہوں‘‘۔(بحوالہ انڈین ایکسپریس) 
در اصل کشمیری عوام کو کسی سیاست کار کی نہیں سیاست دان کی ضرورت ہے ۔ ماہرین سیاست کے مطابق شورش میں ہر شہری اپنی جگہ ایک سیاست دان ہوتا ہے کیونکہ اُسے ہر وقت ایسے فیصلے لینے پڑتے ہیں جن کی نوعیت سیاسی ہوتی ہے۔ایسا کرتے ہوئے اُس کے پاس وقت بھی کافی کم ہوتا ہے اور اُسے محض اپنے ہی اندازے اور سوچ کا سہارا لیکر فیصلے لینے پڑتے ہیں۔ہاں،قوم میں پڑھے لکھے بیدار مغز لوگوں کی رائے سے وہ ضرور استفادہ کرتا ہے لیکن ایسے پڑھے لکھے افراد اپنی دنیا تک محدود نہیں ہونے چاہیں اور ہاں،وہ تکلیف کے وقت لوگوں کی خاموشی سے بھی دلبرداشتہ ہونے کی بچگانہ حرکات سے مبرا ہونے چاہیں۔ایسے ہی تعلیم یافتہ افراد کی تعلیم سماج کو فائدہ دلاتی ہے اور ایسے ہی افراد کیلئے سیاست محض اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں ہوتا ہے۔ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ سیاست ایک علم ہے جو انتخابات اور حصول اقتدار تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد عام لوگوں کے اندر بیداری پیدا کرنا ہوتا ہے۔اس بیداری میں بے شک سیاسی بیداری بھی شامل ہے، جو ایک دشوار گذار راستہ ہے اور جس پرکامیابی سے سفر جاری رکھنا اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ آپ کے اندرقائدانہ صلاحیت موجود ہے۔ 
 گذشتہ برس جب شاہ فیصل کے نوکری چھوڑ کر سیاست میں آنے کا چرچا تھا تو فیس بک استعمال کرنے والے کسی شخص نے لکھا تھا’’ مجھے تو شاہ فیصل کے مستعفی ہونے کے بعد اقتدار کی سیاست میں آنے سے مایوسی ہی ہوئی۔ میں چاہتا تھا کہ شاہ فیصل سیاست میں آکر قوم کو سیاسی اسباق دیں گے لیکن وہ تو انتخابات میں حصہ لینے کی باتیں کررہے ہیں‘‘۔اس پوسٹ کے جواب میں ایک مبصر نے لکھاتھا’’ یعنی شاہ فیصل سرکاری افسری چھوڑ کر ایم ایل اے، یا زیادہ سے زیادہ ممبر پارلیمنٹ بننے کی تگ و دو میں ہیں۔ افسوس!‘‘۔
 مطلب یہ کہ کشمیری عوام میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو ’’سیاست‘‘ کے معنی سے باخبر ہیں۔ ایسے لوگوںکے سامنے بھی سیاست کا مطلب محض انتخابات میں حصہ لینے تک ہی محدود نہیں ہے۔باالفاظ دیگر دنیا کے بڑے بڑے مفکرین، جنہوں نے کبھی انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لیا ہے ،لیکن لوگوں کی سیاسی بیداری کیلئے دن رات ایک کیا ہے، عظیم سیاست دان کہلائے جاسکتے ہیں۔ بعد ازاں اگر حالات نے کسی کسی کو مسند اقتدار تک بھی پہنچایا تو اُس کو محض تقدیر کا کھیل ہی قرار دیا جاسکتا ہے، البتہ حقیقت میں ایسی شخصیات کا مقصد کبھی بھی حصول اقتدار نہیں رہا ہے۔