انٹرنیٹ بحالی …وسعت قلبی کا مظاہرہ کیاجائے

تاریخ    18 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


 یہ امر اطمینان بخش ہے کہ برابر ایک سال کے وقفہ کے بعد جموںوکشمیر کے دو اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ آزمائشی بنیادوں پر مکمل طور بحال کیاگیا ۔جموں صوبہ کے ادہم پور اور کشمیر صوبہ کے گاندربل اضلاع کے نام قرہ فال جب نکلا تو ان دونوں اضلاع کے رہائشیوں کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ رہا کیونکہ یہ دو اضلاع آزمائشی بنیادوں پر ہی سہی،لیکن اب برق رفتار انٹرنیٹ سہولت کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ان دواضلاع میں موبائل انٹرنیٹ کی تجرباتی بنیادوں پر بحالی کے ضمن میں وزارت داخلہ کی جانب سے جو حکم نامہ جاری کیاگیاتھا ،اُس میں دو ٹوک الفاظ میں لکھاگیاتھا کہ ایسا فی الحال آزمائشی بنیادوں پر محدود مدت کیلئے کیاجارہا ہے جبکہ باقی جموںوکشمیر میں محدود رفتار کے ساتھ ہی انٹرنیٹ سروس جاری رہے گی۔
انٹرنیٹ رفتار پر قدغن کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے اکثر وبیشتر ایسے جواز پیش کئے جارہے ہیں ،جو غیر منطقی لگتے ہیں۔حکومت کا کہنا کہ تیز رفتار انٹرنیٹ اس وجہ سے بحال نہیں کیاجاسکتا ہے کیونکہ دراندازی میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کی جانب سے ملک دشمن سرگرمیوں کیلئے اس کا استعمال ہوسکتا ہے ،بالکل بے تُکا سا بیان لگتا ہے ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ چند مٹھی بھر لوگوں کیلئے آپ سوا کروڑ آبادی کو کیسے یرغمال رکھ سکتے ہیں۔مانا کہ کچھ لوگ انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرسکتے ہیں لیکن وہ محدود رفتار کے ساتھ بھی ویسا کرسکتے ہیں ۔اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ محض اندیشوں کی بنیاد پر کروڑوں لوگوں کوجدید دور کی اس بنیادی ضرورت سے محروم رکھیں۔سپریم کورٹ نے بھی کشمیر انٹرنیٹ بندش کیس میں حکومت سے کہا تھا کہ غیر معینہ مدت کیلئے انٹرنیٹ پر پابندی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے اور یہ ضوا بط کے منافی ہی نہیں بلکہ دورِ جدید میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن کے مترادف بھی ہے ۔گوکہ حکومت نے تب کہاتھا کہ انٹرنیٹ بحال کیاجارہا ہے لیکن اب جس طرح محض دو اضلاع میں آزمائشی بنیادوں پر انٹرنیٹ کی بحالی کے ساتھ ہی اس کیس کو نپٹایاگیا ،وہ حیرت میں ڈالنے والا تھا ۔ظاہر ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں انٹرنیٹ کی مکمل بحالی کے حوالے سے کوئی ٹھوس بیان نہیںدیاتھا تو ایسے میں کیس کو ہی داخل دفتر کرنے کرنا عجیب سا لگتا ہے ۔بہر حال عدالتی منطق کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہے اور یقینی طور پر حکومتی دلائل سے اتفاق کرکے ہی عدلیہ نے کیس نپٹایاہوگا لیکن حکومت کو عدلیہ کے سابق احکامات کی روشنی میں اب پورے جموںوکشمیر میں انٹرنیٹ کی مکمل بحالی میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔
پہلے ہی مفصل تحقیقی رپورٹوں سے واضح کیاجاچکا ہے کہ انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی وجہ سے جموںوکشمیر کی معیشت ہی نہیں بلکہ تعلیمی شعبہ کو بے پناہ نقصانات سے دوچار ہونا پرا،ایسے میں ارباب بست و کشاد کو اُن تحقیقی رپورٹوں کو خاطر میں لاتے ہوئے یہ آزمائشی بنیادوں پر 4جی انٹرنیٹ کی بحالی کا چکر ختم کرکے پورے جموںوکشمیر میں برق رفتار انٹرنیٹ بحال کرنا چاہئے ۔بلا شبہ سیکورٹی معاملات پر حکام ہی بہتر فیصلہ لے سکتے ہیں کیونکہ ان کی معاملات پر عقابی نگاہ ہوتی ہے تاہم اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ سیکورٹی خدشات کی آڑ لیکر لوگوں کو اس بنیادی سے مسلسل محروم کرتے رہیں ۔ٹیکنالوجی کے دور میں انٹرنیٹ بنیادی ضرورت بن چکا ہے اور آپ لوگوںکو اس ضرورت سے کب تک یونہی محروم رکھیں گے۔
کورونا عروج پر ہے ۔تجارت کی چال بے ڈھنگی سی ہے ۔درد و تدریس کا نظام مفلوج ہے ۔ای کامرس ٹھپ ہے کیونکہ انٹرنیٹ نہیں ہے ۔محدود رفتار کے انٹرنیٹ سے ہونے والے نقصانات کا اگر شمار کرنے بیٹھیں تو فہرست بہت طویل ہوجائے گی اور اس سہولت کو محدود کرنے کے عذرات محدود ہی ہونگے ۔اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی سے ہورہے نقصانات کو ملحوظ خاطر رکھ کر حکام بالا اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں۔ادہم پور اور گاندربل اضلاع میں یہ آزمائشی سلسلہ ختم کرکے انٹرنیٹ سروس کو مستقل بنیادوںپر چلانے کے علاوہ جموںوکشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی اس سروس کو بحال کیاجائے کیونکہ ٹیکنالوجی کے دور میں آپ سیکورٹی کے حوالے سے خدشات کو دیگرذرائع سے بھی ایڈرس کرسکتے ہیں۔
اس ضمن میں نئے لیفٹنٹ گورنر سے کچھ مثبت فیصلہ کی امید کی جاسکتی ہے کیونکہ تاحال اُن کا اپروچ مثبت ہی رہا ہے اور اُن کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ اُنہیں عوامی معا ملات کا فہم ہے اور وہ وسیع سیاسی تجربہ رکھتے ہوئے لوگوں کے مسائل سے بالکل غافل نہیں ہیں۔گزشتہ چند روز کے دوران ان کے بیانات سے ایسا ہی تاثر ملتا ہے کہ وہ عوامی بہتری کے فیصلوں میں کسی پس وپیش سے کام نہیں لیں گے ۔چونکہ انٹرنیٹ سروس کا معاملہ کورونا وبا کی وجہ سے بند پڑے تعلیمی اداروں کو دیکھتے ہوئے ہمارے مستقبل کے ساتھ براہ راست جڑا ہوا ہے ،تو امید راسخ ہے کہ لیفٹنٹ گورنر ترجیحی بنیادوں پر یہ آزمائشی بنیادوں پر انٹرنیٹ کی مکمل بحالی کا ورد کروانا بند کریں گے اور جموںوکشمیر کے عوام کو 4جی انٹرنیٹ سروس فراہم کروائیں گے جس سے وہ اب گزشتہ ایک برس سے محروم ہیں۔
 

تازہ ترین