تازہ ترین

کووڈ…بھیانک طوفان سے بچیں

تاریخ    15 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


 کل یعنی16اگست سے کشمیر کے بیشتر حصوں میں جاری جزوی یا مکمل لاک ڈائون ختم کئے جانے کا امکان ہے اور عین ممکن ہے کہ کل سے ہی معمول کی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوں۔ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر نے اس ضمن میں گزشتہ روز ہی کہا کہ اگر لوگوںنے کووڈ رہنما خطوط کی پاسداری کی تو لاک ڈائون دوبارہ نافذ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔یہ امر اطمینان بخش ہے کہ کل سے ہی تمام مذہبی مقامات اور عبادتگاہیں بھی کھل جائیں گی اور لوگوں کو مذہبی رسوم کی ادائیگی کی اجازت ہوگی ۔
بلا شبہ اس حکومتی اقدام سے لوگوںکو راحت ملے گی کیونکہ نہ صرف تجارتی و کاروباری سرگرمیاں بحال ہونگیں بلکہ ٹرانسپورٹ بھی کافی حد تک چلے گا اور یوں کم و بیش سماج کے سبھی طبقوں سے وابستہ افراد کو دو وقت کی روٹی کمانے کا موقعہ مل جائے گاتاہم یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ بھلے ہی بندشوں میں نرمی کی جارہی ہو لیکن کورونا کہیں گیا نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے درمیان ہی موجود ہے اور مسلسل ہمارا تعاقب کررہا ہے۔گزشتہ روز ایک نیوز پورٹل کی وساطت سے کورونا سے متاثرہ ڈاکٹر س ایسو سی ایشن کشمیر کے سربراہ ڈاکٹرنثار الحسن کی جو باتیں بیماری کی حالت میں بھی عوام تک پہنچائیں گئیں،وہ ہمارے رونگٹے کھڑے کردینے کیلئے کافی ہیں۔ڈاکٹر نثار چونکہ انفلیونزا کے علاج کے ماہر بھی ہیں اور کورونا کے حوالے سے اُن کے کافی تحقیقی مضامین بھی طبی جرائد میں حالیہ ایام میں شائع ہوچکے ہیں تو اُن کی باتوں کو سرسری نہیں لیاجاسکتا ہے ۔ڈاکٹر صاحب نے جس طرح ہسپتالوں کی حالت بیان کی ،وہ پریشان کن تھی اور یقینی طور پر اس بحرانی صورتحال کی جانب اشارہ کررہی تھی جس کا فی الوقت ہمیں سامنا ہے لیکن اس سے سنگین مسئلہ وہ ہے جس کی جانب انہوںنے مستقبل کے حوالے سے اشارہ کیا ۔اُن کا کہناتھا کہ اکتوبر کے بعد صورتحال انتہائی سنگین ہوسکتی ہے اور ہمیں آج ہی ضلعی و سب ضلعی ہسپتالوں کو اس کیلئے تیار کرنا ہوگا کیونکہ وہ مانتے ہیں کہ سردیوںکے آغاز کے ساتھ ہی کووڈ یہاں بھیانک رخ اختیار کرسکتا ہے اور اُس وقت تک اگر ہم نے ضلعی اور سب ضلعی سطح پر ہسپتالوں کو انتہائی طبی نگہداشت والے وارڈوں کے علاوہ وینٹی لینٹروں سے لیس نہ کیا تو ہمارا پورا طبی نظام ہی مفلوج ہوسکتا ہے کیونکہ پھر شہر کے بڑے ہسپتال مریضوں کا بڑھتا ہوا رش برداشت نہیں کرپائیں گے ۔
یہ انتباہ انتہائی پریشان کن ہے اور یقینی طور پر جہاں حکومت کیلئے نوشتہ دیوار ہونا چاہئے وہیں عوام کیلئے بھی اس میں کئی اسباق موجود تھے ۔ اب ہمیں یہ مان کر چلنا ہے کہ ہمیں بہت دیر تک اس وائرس کا سامنا رہے گا اور ہمیں یونہی اپنا طرز زندگی اس کے ساتھ ہم آنگ کرتے رہنا ہے ۔اب ہم قطعی اُس طرح کا طرز ِ زندگی اختیار نہیں کرسکتے جو کورونا وبا سے پہلے ہمارا معمول تھا ۔اب حالات یکسر تبدیل ہوچکے ہیں۔فیس ماسک ہماری زندگی کا بالکل اُسی طرح حصہ بننا چاہئے جس طرح خوراک اور پوشاک ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔اسی طرح جسمانی دوریوںکے چلن کو بھی ہمیں بالکل اُسی طرح اپنا نا ہوگا جس طرح ہم عبادات کو فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ذاتی صفائی ویسے بھی مستحسن عمل ہے اور اسلام میں اس پر خاصا زور دیاگیا ہے کیونکہ اسلام کا ماننا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے لیکن موجودہ حالات میں اب ذاتی صفائی کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے اور ہمیں ذاتی حفظان صحت کا بھرپور خیال رکھنا پڑے گا۔
بے شک سردیوں کا موسم ہمارے لئے ویسے بھی پریشانی کا باعث ہوتا ہے کیونکہ سردیوں میں کھانسی ،نزلہ زکام اور بخار معمولات کا حصہ ہوتے ہیں ۔موجودہ حالات میں اس طرح کے امراض اس لئے بحرانی صورتحال کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ کورونا کے بھی ایسے ہی علائم ہیں اور ویسے بھی کہاجاتاہے کہ سرد ی میں یہ وائرس پورے شباب پر ہوگا کیونکہ سردی کا سیزن اس کا اپنا سیزن ہے ۔اس لئے ہمیں آج سے ہی اس کیلئے تیار رہنا پڑے گا۔وائرس کمیو نٹی میں موجود ہے ۔اب تو اس کی نئی نئی صورتیں سامنے آرہی ہیں اور یہاں تک حرکت قلب بند ہونے والے مریضوںمیں بھی اس وائرس کی تشخیص ہورہی ہے اور طبیبوںکا ماننا ہے کہ دراصل آکسیجن کی کمی کی وجہ سے نظام تنفس ٹھپ ہوجاتا ہے جو اچانک حرکت قلب بند ہونے کا مؤجب بن جاتا ہے اور اس کو بھی کورونا سے جوڑا جارہا ہے ۔
مختصراً یہی کہاجاسکتا ہے کہ کورونا وائرس اب بھیانک رخ اختیار کرچکا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم خود کو گھر کی چاردیواری تک محدود کردیں ۔بے شک عوام کودو وقت کی روٹی کا بندو بست کرنے کیلئے باہر نکلنا ہے لیکن روزی روٹی کمانے کے دوران عوام کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ کہیںوہ اپنے اور اہل خانہ کیلئے دو وقت کی روٹی کا بندو بست کرنے کے دوران اپنے یا اُن کیلئے کسی بڑی پریشانی کا مؤجب تو نہیں بن رہے ہیں۔جب مکمل حفاظتی بندو بست سے لیس ڈاکٹر حضرات کووڈ کی زد میں آسکتے ہیں تو عام لوگوں کا بچنا محال ہی نظر آرہا ہے ۔اسی لئے عقلمندی اسی میں ہے کہ ہم کووڈ پروٹوکول پر سختی سے عمل کریں اور اپنی طر ف سے حتی المقدور کوشش کریں کہ اس وائرس سے محفوظ رہیں کیونکہ جب ہم خود محفوظ رہیں گے تو بحیثیت مجموعی سماج بھی محفوظ رہے گا اور اگر ہم خود خطرے میں پڑ گئے تو سماج کا بچنا پھر محال ہی ہے ۔اس لئے امید کی جاسکتی ہے کہ کل سے معمولات ِ زندگی بحال کرنے کے دوران لاپرواہی کی بجائے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی اور اپنے سماج کی حفاظت یقینی بنائیں گے۔