تازہ ترین

گوشہ اطفال|15اگست 2020

تاریخ    15 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


لطیفے…!!!

فقیر فون پہ : ’’ہیلو پیزا ہٹ ‘‘
آپریٹر: ’’یس سر ‘‘
فقیر: ’’31 بڑے پزا، 6 چکن اور 2 پیپسی بھیج دو۔‘‘
آپریٹر: ’’ کس کے نام پہ ؟‘‘
فقیر: ’’اللہ کے نام پہ۔‘‘

ڈاکٹر (مریض سے):جناب اگر آپ میری دوائی سے ٹھیک ہو گئے تو مجھے کیا تحفہ دو گے؟
مریض (خوش ہو کر): جناب میں تو قبریں کھودتا ہوں، آپ کی فری میں کھود دوں گا!

ڈاکٹر: طبیعت کیسی ہے
مریض: پہلے سے زیادہ خراب ہے
ڈاکٹر: دوا کھالی تھی
مریض: نہیں دوا کی شیشی تو بھری ہوئی تھی
ڈاکٹر: میرا مطلب دوا لے لی تھی
مریض: جی آپ نے دی تھی تو میں نے لے لی تھی
ڈاکٹر: بیوقوف دوا پی لی تھی
مریض: نہیں ڈاکٹر صاحب دوا تو لال تھی
ڈاکٹر: ابے گدھے دوا کو پی لیا تھا
مریض: ڈاکٹر صاحب پیلیا تو مجھے تھا
ڈاکٹر: الو کیکان دوا کو منہ سے لگا کے پیٹ میں ڈالا تھا
مریض: نہیں
ڈاکٹر: کیوں
مریض: آپ نے ہی تو کہا تھا کہ شیشی کو ڈھکن لگا کہ رکھنا
ویسے ڈاکٹر صاحب میں ٹھیک تو ہو جاؤنگا نا
 

گفتگو کے آداب

 محمد اسلم 
 
بچو! اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بول چال اور گفتگو کے آداب بھی بتائے ہیں، ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ اپنی آواز کو نیچا رکھو۔ اسی طرح ایک اور جگہ پر ہے کہ نہایت خوبصورت انداز سے، میانہ روی اور اعتدال کے ساتھ باتیں کرو اور ایسی باتیں کرو جو اچھی ہوں۔ یاد رکھیں جب کوئی بات کررہا ہو تو اس کی بات نہیں کاٹو بلکہ انتظار کرو، جب وہ اپنی بات مکمل کرلے تو پھر اپنی بات کرو۔
اس کی بات نہایت توجہ سے سننی چاہئے اسی طرح اگر کسی کو بولنے میں کوئی مشکل ہو یا وہ صحیح طرح نہ بول سکے تو اس پر ہنسنا نہیں چاہئے اور نہ ہی اس کی نقل اْتارنی چاہئے، یہ بہت بْری بات ہے۔ مکرو فریب، تصنع اور بناوٹ، چال بازی اور فریب کاری کی باتیں کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اسی طرح بے انصافی کی بات کبھی نہ کرو، جب بھی بات کرو عدل و انصاف کی بات کرو۔ شائستہ اور مہذب گفتگو کرو۔ وہی بات کرو جس کا مقصد خیر ہو۔ اگر مخاطب کو کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو ضرورت کے تحت دہرائیں۔ حق و صداقت اور سچائی کو اپنا شیوہ بنائیں۔ دل اور زبان انسانی جسم کے سب سے اہم حصے ہیں۔ زبان ‘ دل کا ترجمان ہے اس لئے اس کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ آدمی کی گفتگو اس کا عیب و ہنر ظاہر کرتی ہے۔
 

بوجھو تو جانیں…!!!

دیکھی ہڈی اور نہ بال کھال کے اوپر نیچے کھال
جوبھی اس کو کام میںلائے اس کو اپنی چال دکھائے
مٹھی میں وہ لاکھوں آئیں گن کر ہم کیسے سمجھائیں
منہ ہے چھوٹا ،بڑی ہے بات سن لو دنیا کے حالات
سونے کا بن کر آتا ہے سونے کا بن کر جاتا ہے
لیکن ہے یہ بات نرالی ہرسو چاندی بکھراتا ہے
گوری ہے یا کالی ہے چھپ کررہنے والی ہے
جب بھی پکڑی جاتی ہے اپنی جان گنواتی ہے
جوابات: 1۔ چمڑے کا جوتا،2۔ریت کے ذرے،3۔لائوڈ سپیکر،4۔سورج،5۔جُوں
 

ذہن آزمایئے

 ذیل میں دی گئی خالی جگہوں میں درست جواب منتخب کر کے لکھیں:
1۔مسلمان سال میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تہوار مناتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔پانچ ، تین، دو
2۔عیدالفطر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلامی مہینے میں آتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ربیع الاول ، رجب ، شوال
3۔عید کی نماز میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رکعت پڑھی جاتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔چار، دو ، تین
4۔فطرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کی نماز سے پہلے ادا کیا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔عیدالاضحٰی ،عیدالفطر
5۔اسلامی مہینے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔پندرہ، دس ، بارہ
 

کہاوتیں مکمل کریں

 1۔ کو ا چلا ہنس کی چال اپنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھول گیا۔
2۔دال میں کچھ۔۔۔۔۔۔ ہے۔
3۔یک نہ شد۔۔۔۔۔۔۔۔شد۔
4۔دودھ کا دودھ پانی کا۔۔۔۔۔۔۔۔
5۔تگنی کا ناچ۔۔۔۔۔۔۔۔دیا۔
6۔تیل دیکھو تیل کی۔۔۔۔۔۔۔دیکھو۔
7۔جیسی کرنی ویسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
8۔جان بچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔پائے۔
جوابات :1۔چال، 2۔ کالا، 3۔ دو، 4۔ پانی،5۔ نچا، 6۔دھار، 7۔بھرنی، 8۔لاکھوں
 

مسلمانوں کی وہ ایجادات جنہوںنے دنیا بدل دی

 وانیہ حبیب
 
دنیا میں مسلمانوں نے سائنسی ایجادات اور انسانی خدمت کی وجہ سے بہت نام بنایا ہے اور ان ایجادات نے دنیا کا رہن سہن ہی بدل دیا۔اس بات کا اقرار مغربی دنیا بھی کرتی ہے۔ آج ہم آپ کو مسلمانوں کی چند ایسی ایجادات کے بارے میں بتائیں گے، جن کے بارے میں جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔
ہسپتال
دنیا کا پہلااسپتال بنانے کا سہرا مسلمانوں کے سر جاتا ہے۔یہ ہسپتال 872ء میں مصر کے شہر قاہرہ میں احمد بن طالون کے نام سے قائم کیا گیا،اس میں طبیب اورنرسز ،مریضوں کے لئے موجود ہوتی تھیں، جبکہ ساتھ ہی طالبعلموں کی ٹریننگ کے لئے ایک سینٹر بھی قائم تھا۔ یہاں مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا تھا۔
 یونیورسٹی
ڈگری دینے والی دنیا کی پہلی یونیورسٹی بنانے کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر ہے۔859ء میں مراکش میں دنیا کی پہلی یونیورسٹی ’القراویون‘نے پہلی ڈگری دی۔یہ یونیورسٹی شہزادی فاطمہ الفرہی نے قائم کی تھی اور آج بھی یہاں تدریس کا عمل جاری ہے۔
 سرجری
مسلم سائنسدان الزہراوی کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ وہ جدید سرجری کا بانی ہے۔انہوں نے ہی سرجری کے آلات بھی ایجاد کئے اور آپریشن کوممکن بنایا۔
 ویکسی نیشن
یورپ میں اس ایجاد سے 50سال قبل بھی ترکی کے لوگ خسرہ کے لئے اس کا استعمال کرتے تھے۔ روایت ہے کہ ترک ایمبیسیڈر کی بیوی 1724ء میں یورپ میں ویکسینیشن اپنے ساتھ لائی اور یورپ کو اس کے بارے میں علم ہوا۔
 

شکاری خود شکار ہوگیا !

 
کہانی
 
رئیس صدیقی
 
ایک دن کی بات ہے کہ ایک بھیڑئیے کو دن بھر جب کوئی شکار نہ ملا تو وہ مارے بھوک کے اتنا نڈھال ہو گیا کہ وہ شام ہوتے ہی ایک جگہ چھپ کر شکار کی تاک میں بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد بھیڑیئے کی نظر ایک لومڑی پر پڑی ۔ لومڑی بھیڑئیے کو دیکھ کر بھاگی۔ بھیڑئیے نے بڑی تیزی سے اسکا پیچھا کیا اور پکڑلیا۔
 ہوں… آپ کا خیال تھا کہ آپ بہت چالاک ہیں۔ آپ بھاگ رہی تھیں۔یہ سوچ کر کہ آپ مجھ سے زیادہ تیز بھاگ سکتی ہیں۔ آخر کارآپ میری گرفت میں آ ہی گئیں… چہ چہ چہ… افسوس صد افسوس!  بھیڑئیے صاحب نے اپنی کامیابی پر مسکراتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا ۔
 میرے مہربا ن او ر رحم دل بھائی… میں موت سے قطعی نہیں ڈرتی ہوں… مجھے معلوم ہے کہ ہم سب کو ایک دن مرنا ہے ۔ یہ خدا کا نظام ہے ۔ مگر… مگر مجھے ایک بات کا دکھ ضرور رہے گا ۔ لومڑی  صاحبہ نے بڑی  عاجزی کے ساتھ کہا۔
 کس بات کا دکھ…؟ ۔ بھیڑئیے نے سوال کیا۔اس وقت ، اگر آپ اس ناچیز کو اپنے خوبصورت پنجوں سے مارڈالیںگے تو میرے معصوم بچے بھوکے رہ جائیں گے۔ میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ میں ان کے کھانے کے لئے آج  پنیر ضرور لائوںگی۔ وہ کس قدر روئیںگے !لومڑی صاحبہ  نے اپنا دکھ جتایا۔
 پنیر…… ؟ میں تو اس کا بڑا شوقین ہوں۔ تم کہاں سے پنیر لائوگی؟، بھیڑئیے صاحب نے دریافت فرمایا۔جناب ،ڈیری والے لوگ اسے کنویں کے اندر رکھتے ہیں تاکہ خراب نہ ہو جائے ۔ لومڑی نے عرض کیا۔ کیا…؟ کنویں کے اندر ؟ بڑی مضحکہ خیز، عجیب و غریب بات  ہے… لیکن تم کیسے اسے کنویں سے نکال لیتی ہو…؟ بھیڑئیے صاحب نے بڑی بے چینی سے معلوم کرنا چاہا۔
حضور، میں بالٹی میں بیٹھ کر کنویں کے اندر جاتی ہوں اور بہت آسانی سے اپنے ساتھ پنیر کا بڑا سا ٹکڑا باہر لے آتی ہوں ۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں کچھ ہی دیر میں پنیر کے ساتھ حاضر ہوجائوںگی۔لومڑی صاحبہ نے فرار ہونے کی ترکیب سوچی ۔
کیا؟ ہم تم کو اجازت دیں؟ نہیں محترمہ،  میں بیوقوف نہیں ہوں۔ میں بھی تمہارے ساتھ چلوںگا۔بھیڑئیے صاحب نے اپنی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا ۔ضرور …ضرور… یہ تو میری خوش قسمتی ہوگی۔لومڑی نے دل میں اسے کوستے ہوئے ، مگر چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا۔
چنانچہ دونوں ایک کنوئیں کے پاس  پہنچے۔اس وقت پورا چاند آسمان پرچمک رہا تھا۔ لومڑی نے کنویں میں جھانک کر دیکھا تو اس کو کنوئیں کے اندر پانی کی سطح پر پورے چاند کا گول گول عکس بالکل صاف نظر آرہا تھا۔ ارے ، وہ دیکھئے… کس قدر بڑا سا ، گول گول د پنیر ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنا بڑا پنیر کبھی نہیں دیکھا!لومڑی صاحبہ نے حیرت ظاہر کی۔
 تم بالکل صحیح کہہ رہی ہو۔بھیڑئیے صاحب نے کنویں میں جھانکتے ہوئے تصدیق فرمائی۔ دیکھئے جناب ، میں خود غرض نہیں ہوں۔ آپ خود بالٹی کے اندر بیٹھ کر کنویں سے پنیر لائیں اور آپ آدھے سے زیادہ اپنا حصہ بھی خود ہی  لے لیں۔لومڑی  نے بڑی انکساری سے اپنی پیش کش رکھی ۔
 سنئے محترمہ ! میںبے وقوف نہیں ہوں کہ آپ کی باتوں میں آجائوں۔ آپ جلدی سے کنویں کے اندر جائیں اور پورے کا پور ا پنیر اوپر لیکر آئیں۔ جلدی کیجیے۔ نہیں تو میںآپ کو کھانے میں تاخیر نہیں کروں گا ۔ بھیڑئیے  صاحب نے دھمکاتے ہوئے فرمان جاری کیا۔لومڑی مجبوراً رسّی کے ایک سرے سے بندھی بالٹی کے اندر بیٹھ کر کنویںکے اندر جانے لگی۔سنئے سنئے ، بھائی صاحب۔ یہ بہت بڑاپنیر ہے ۔ یقین مانئے، میں نے اپنی زندگی میں اتنا بڑا پنیرکبھی نہیں دیکھا۔لومڑی نے چلاتے ہوئے کہا ۔
 اچھا… اچھا… جلدی کرو ۔ بھیڑئیے  صاحب نے حکم دیا۔یہ بہت بھاری ہے۔ میں اس کو اکیلے نہیں لا پائوںگی۔ آپ میری مدد فرمائیے۔لومڑی صاحبہ نے مجبوری ظاہر کرتے ہوئے مدد کی فر یاد کی۔ اچھا تو میں کیسے آئوں؟  بھیڑئیے صاحب نے دریافت فرمایا۔اس رسّی کے دوسرے سِرے سے ایک بالٹی بندھی ہوئی ہے۔ اس میں آپ بیٹھ جائیں۔ آپ حفاظت سے نیچے آجائیں گے ۔لومڑی صاحبہ نے ترکیب بتائی۔
 بھیڑئیے صاحب بالٹی کے اندر کود کر بیٹھ گئے۔ چونکہ بھیڑئیے صاحب بھاری تھے اور لومڑی صاحبہ ہلکی تھیں، اس لئے ، جیسے ہی بھیڑیابالٹی میں بیٹھتا ہے ، لومڑی کی بالٹی اوپر آجاتی ہے اور بھیڑئیے کی بالٹی نیچے پہنچ جاتی ہے۔لومڑی صاحبہ جب اوپر آجاتی ہیں تو بھیڑئیے سے   طنز کرتے ہوئے فرماتی ہیں۔اجی عقلمند قبلہ… خوب پنیر کھائیے اور ہمیشہ کے لئے وہیں سوجائیے!میں چلتی ہوں۔ خدا حافظ!!
اس طرح لا لچ میںآکر ، شکاری خود شکار ہو گیا  !!!
( کہانی کار ساہتیہ اکادمی قومی ایوارڈ یافتہ ادیبِ اطفال، پندرہ کتابوں کے مصنف، مولف، مترجم،افسانہ نگار و شاعر اور ڈی ڈی اردوو آل انڈیا ریڈیو کے سابق آئی بی ایس افسر ، واٹس ایپ گروپ  بچوں کا کیفے کے بانی ایڈمن ہیں) 
ای میل۔rais.siddiqui.ibs@gmail.com