پی ایچ ڈی چیمبرآف کامرس کے اہتمام سے ویب نار

کشمیرکیلئے معاشی پیکیج کا مطالبہ

تاریخ    14 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس کی  طرف سے منعقدہ وئب نار کے دوران مقامی کاروباریوں سے لیکر بین الاقوامی کاروباریوں  تک نے اس بات کو تسلیم کیا کہ گزشتہ ایک برس سے کشمیر کی معیشت کو ایک بڑا دھچکہ لگا ہے،جس سے باہر نکلنے کیلئے  خطے کیلئے معاشی پیکیج کا اعلان کیا جانا چاہے۔درمیانی اور چھوٹی صنعتوں کیلئے سرکاری اسکیموں قرضوں کے متبادل ذرائع  کے تحت فوائد کی حصولیابی کیلئے پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے جمعرات کو ایک وئب نار منعقد ہوا،جبکہ اس ویب نار کا مقصد سرکاری و دیگر متبادل اسکیموں سے کس طرح استفادہ حاصل کیا جاسکے۔ وئب نار کا ایک اور مقصد یہ بھی تھا کہ شرکاء کو پی ایچ ڈی چیمبر کی طرف سے چھوٹی و درمیانہ  درجے کی صنعتوں کے رہنمائی مرکز کی جانب سے’’ایم ایس ایم ای‘‘ کی رہنمائی اور دستیاب مالی اسکیموں سے متعلق جانکاری و سہولیات فراہم کرنے میں ادا کئے جانے والے کردار کو اجاگر کرنا تھا۔وئب نار سے خطاب کرتے ہوئے پی ایچ ڈی چیمبر ،کشمیر چیپٹر کے چیئرمین  بلدیو سنگھ رینہ نے موجود تمام شرکا کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ ویب نار ایک بہترین پلیٹ فارم ہے جہاں حکومت کی طرف سے پیش کی جانے والی پالیسیوں کے امدادی اقدامات پر تبادلہ خیال کرسکتے ہیں بلکہ ایم ایس ایم ای سیکٹر اور جموں و کشمیر کے کاروباریوں کے لئے بھی مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے  انیل کھیتان اور ڈاکٹر ایچ پی کمار کی سربراہی میں پی ایچ ڈی چیمبرکی ٹیم کو سراہاتے ہوئے کہا کہ وہ خواہش مند امیدواروں اور موجودہ کاروباری افراد کا ہاتھ تھامتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں جموں و کشمیر کے ایم ایس ایم ای کے لئے ایک خصوصی معاشی پیکیج کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہئے کیونکہ ہم 2019 سے لاک ڈاون کی حالت میں ہیں۔رینہ نے یہ بھی تجویز کیا کہ اس وبائی صورتحال کے دوران ایم ایس ایم ای سیکٹر کو فروغ دینے اور ہاتھ تھامنے کا انعقاد کشمیر کی سماجی و معاشی ترقی کے لئے بہت مددگار ثابت ہوگا۔اس موقعہ پر مشتاق احمد  چایہ نے سیاحتی صنعت بالخصوص تواضع کے شعبے کو درپیش شعبہ جاتی مشکلات پرروشنی ڈالتے ہوئے ’’ ایم ایس ایم ایز ‘‘کے تحت ہوٹلوں کی رجسٹریشن کے لئے مختلف سرکاری مراعات حاصل کرنے کی جانکاری دی  ۔ چایہ نے کہا کہ اتمانربھربھارت(خود کفیل بھارت) کے تحت اعلان کی گئی اسکیموں یا ایم ایس ایم ای کے لئے 3 لاکھ کروڑ منصوبے ،سیاحت کے شعبے کے لئے کسی مقصد کے کام نہیں آئیں گے جبکہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطہ کشمیر کے لئے خصوصی معاشی پیکیج کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے مسائل کرونا وائرس سے منسلک نہیں ہیں۔ چایہ نے مزید کہا کہ ہم پچھلے کئی سالوں سے معاشی بدحالی کا شکار ہیں اور جموں و کشمیر کی معیشت کو زندہ کرنے کے لئے  ہاتھ تھامنے کی ضرورت ہے۔ سابق صدر ، پی ایچ ڈی  چیمبر آف انڈیا ا انیل کھیتان ، نے صنعتی شعبے کا تناظر پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آج کل ’’ایم ایس ایم ایز ‘‘اور کاروباری منصوبوں کے لئے مالی وسائل کے، دوسرے وسائل کی تلاش کرتے ہیں اور مالی اعانت تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے وسیع پیمانے پران میں رکاوٹ  پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ لہذا ہمیں رعایت والے سود کی شرح ، کریڈٹ انشورنس ، نقصان سے مستثنیٰ قرضوں سے متعلق قرضوں پر غور کرنا چاہئے۔ انہوں نے اس کے بارے میں کچھ اہم نکات کا بھی ذکر کیا  جن میںایم ایس ایم ایز کے لئے ایمرجنسی کریڈٹ لائن کے تحت 3 لاکھ کروڑ روپے کے تحت بینک کریڈٹ ، جس کے لئے ہوٹل مالکان اور دیگر کاروباری بھی اہل ہیں۔انہوں نے ممبروں کو آگاہ کیا گیا کہ اگر بینک اس ایمرجنسی کریڈٹ کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ پیدا کردیں گے اس کو  وزارت خزانہ کے پاس فوری طور پر پی ایچ ڈی سی سی آئی کے توسط سے نوٹس میں لایا جاسکتا ہے۔ کھیتان نے یہ حقیقت تسلیم کرتے ہوئے کہ گذشتہ ایک سال سے کشمیر لاک ڈاؤن کی حالت میں ہے اور اس کے لئے حکومت ہند سے جموں و کشمیر کے لئے خصوصی اقتصادی بحالی پیکیج کی فوری ضرورت ہے۔ کھیتان نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے مالیاتی اداروں کو  واضح ہدایت ہے کہ جموں کشمیر  کے حوالے سے وہ فرخدلانہ روایہ اختیار کریں۔ ڈائریکٹر انڈسٹرئز نے کہا ملک میں لاک ڈائون نے معیشتی نظام کو دھچکہ پہنچادیا ہے،جہاں ضرورت اور پیداوار دونوں متاثر ہوئی ہیں،تاہم ایسے بھی شعبے ہیں جہاں سے معیشت کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔
 

تازہ ترین