شوپیان میں مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتیں

فورسز نہیںسیول انتظامیہ تحقیقات کرے: ایمنسٹی انٹر نیشنل

تاریخ    13 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//بشری حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شوپیان میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کی آزدانہ اور منصفانہ تحقیقات کو لازمی قرار دیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اویناش کمار نے 18 جولائی 2020 کو ضلع شوپیان میںفوج کی جانب سے مبینہ طور پر3مزدوروں کی ماورائے عدالت ہلاکت کی تحقیقات کے بارے میں رد عمل ظاہر کرتے کہا’’ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کا مطالبہ ہے کہ ان   ہلاکتوں کی تحقیقات کی جائے اور ایسا صرف آزاد سیول انتظامیہ کے ذریعہ ممکن ہے۔ سیول انتظامیہ کی جانب سے تحقیقات اور سماعت میں ایک حد تک شفافیت اور آزادی  ہے،جبکہ فوجی نظام انصاف سے محروم ہے۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی ، جو شہری اور سیاسی حقوق پر بین الاقوامی عہد نامہ پر عمل درآمد کی نگرانی کرتی ہے ،اور ہندوستان، جس میں ایک  پارٹی ہے ، نے کہا ہے کہ فورسز کے ذریعہ انسانی حقوق کی پامالی کے معاملات میں ، سیول انتظامیہ کے ذریعہ تحقیقات کی جانی چاہئے،تاکہ آزاد تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا’’اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ نے ججوں اور وکلا کی آزادی پر بھی اس کی تصدیق کی ہے،جبکہ سپریم کورٹ نے بھی فوجی نظام انصاف پر تنقید کی ہے اور متعدد مواقع پر اصلاحات کی سفارش کی ہے۔‘‘۔ان کا کہنا تھا ہندوستان میں فوجی قانون کے ماہرین نے ہندوستانی فوجی نظام انصاف میں موروثی نقائص بالخصوص آزادی کے فقدان کو تسلیم کیا ہے۔ اویناش کمار نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے اس سے قبل  فوج  کے ان رجحانا ت کی دستاویز بندی کی ہے،جس میں فوج نے اپنے اہلکاروں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کو تقریباً واضح طور پر مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر سے جاری اپنے تازہ ترین صورتحال اور تجزیہ میں ، ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے ریاستی انسانی حقوق کمیشن کو مقفل کرنے کی دستاویز بندی کی ہے ، جس میں خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ریاستی انسانی حقوق کمیشن سمیت چھ دیگر کمیشن شامل ہیں ،اور اس عمل سے جموں کشمیر کے عوام کو انسانی حقوق کی پامالیوں کا قطعی کوئی ازالہ نہیں ہے،اور یہ انکے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ایمنسٹی نے کہا ’’18 جولائی 2020 کو ، ہندوستانی فوج نے بتایا کہ جنوبی کشمیر میں شوپیاں کے  بالائی  علاقوں میںتین دہشت گرد مارے گئے، تاہم ، مزید تفصیلات کا اشتراک نہیں کیا گیا،جبکہ6 اگست 2020 کو جموں خطے کے راجوری میں کنبوں نے تحریری شکایات درج کی کہ اسی علاقے سے مزدوری کے  لئے گئے تین افراد  اسی علاقے سے لاپتہ ہیں‘‘۔بیان میں کہا گیا کہ19 اگست 2020 کو ، دفاعی ترجمان نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ فوج نے شوپیان میں کارروائیوں سے منسلک سماجی میڈیا پر اطلاعات کو نوٹ کیا ہے اور وہ ’’معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔‘‘ اویناش کمار نے مزید  رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بتایا’’جموں و کشمیر میں نافذ ’’افسپا‘‘‘( آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ) ایک سخت قانون ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لئے استثنیٰ کے دروازے کو کھولتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ قانون فورسز اہلکاروں کو انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزام میں کارروائی سے تفظ فراہم کرتا ہے۔ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ2018 میں ، پارلیمنٹ میں اپنے بیان میں ، وزارت دفاع نے بتایا کہ گذشتہ 26 سالوں میں جموں و کشمیر میں فوجیوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لئے کوئی اجازت نہیں دے دی گئی ہے اور ان میںوہ کیس بھی شامل ہیں جن میں فوجیوں پر غیر قانونی  ہلاکتوں ، تشدد اور عصمت دری کے مقدمات تھے۔انہوں نے کہا’’ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے بار بار افسپا کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو استثنیٰ کی سہولیات فراہم ہوتی ہے‘‘۔
 

راجوری کے لاپتہ مزدوروں کے لواحقین کو 

شوپیان آنے کیلئے اجازت  نامہ ملنا ہنوزباقی

سرینگر// راجوری کے تین لاپتہ مزدوروں کے اہل خانہ کو ابھی تک ضلعی انتظامیہ سے شوپیان جانے کی اجازت نہیں مل پائی ہے جہاں انہیں شبہ ہے کہ ان کے عزیز مبینہ فرضی مقابلے میں مارے گئے ہیں۔ گمشدہ مزدور امتیاز کے والد محمد یوسف سرکاسی نے کہا ’’ہمیں آج ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری سے سفری اجازت نامہ حاصل کرنا تھا ، لیکن ہمیںبتایا گیا کہ وہ (ڈی سی) ایک میٹنگ کے لئے سری نگر میں ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ انتظامیہ پاس جاری کرے گی تاکہ وہ شوپیان جاسکیں۔سرکاسی نے کہا’’ہم ڈی این اے نمونے لینے اور قبر کشائی کے لئے ضلع ترقیاتی کمشنرشوپیان سے اجازت حاصل کریں گے‘‘۔انہوں نے کہا ، وہ متعلقہ تھانے کا بھی دورہ کریں گے جہاں جھڑپ کا ایف آئی آر درج ہے۔ایک مقامی کارکن ، عاقب احمد نے بھی کہا کہ ابھی تک اس کنبہ کو سفری اجازت حاصل نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا ’’انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وجہ سے ان راستوں کو تلاش کر رہی ہے جس سے کنبہ کے افراد کے سفر کو آسان بنایا جاسکتا ہے۔‘‘عاقب نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ  متاثرہ کنبے کو انسانی بنیادوں پر فوری طور پر جانے کیلئے اجازت دیں۔امتیاز احمد (25)، ابرار احمد (20) اور ابرار احمد (17) کا، 18 جولائی کو اپنے اہل خانہ سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا جبکہ ، اسی دن فوج اور پولیس نے دعوی کیا تھا کہ آمشی پورہ گاؤں کے ایک باغ میں جھڑپ میں تین نامعلوم عسکریت پسندوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔انہیں شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں سپرد خاک کردیا گیا کیونکہ علاقے میں سرگرم عسکریت پسندوں کے کسی بھی خاندان نے ان کا دعوی نہیں کیا۔حالیہ مہینوں کے دوران؎پولیس عسکریت پسندوں کی لاشوں کو اہل خانہ کو سپردکرنے سے انکار کر رہی ہے کیونکہ جنگجوئوں کی نعشوں کو لواحقین کے سپرد کرنے کے بعد  جنازوں میں بڑے پیمانے پر لوگ جمع ہوجاتے ہیں،اس لئے انہیں دور دراز مقامات پر دفن کیا جاتا ہے جس دوران کنبہ کے  چندافرادکو آخری رسوم میں شرکت کی اجازت دی جاتی ہے۔آپریشن کرنے والی فوج نے پہلے ہی الزامات کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔کنبہ کے افراد نے راجوری میں پولیس کے اعلی عہدیداروں سے ملاقات کی ہے اور 18 جولائی کو جھڑپ میں ہلاک ہونے والے تینوں افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ اہل خانہ کو شبہ  ہے کہ نامعلوم عسکریت پسندوں جنہیں فورسز نے ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے  وہ دراصل ان کے رشتے دار ہیں،جو کووِڈ - 19 وبائی مرض کے درمیان کام کیلئے کشمیر آئے تھے۔اہل خانہ اور میڈیا رپورٹس کے دعوے پر دھیان دیتے ہوئے ، جموں و کشمیر پولیس نے بتایا کہ وہ دعویداروں کی ڈی این اے جانچ کرے گی ۔

تازہ ترین