تازہ ترین

۔5اگست2019:وسیع تر پیغام کیاتھا؟

کارروائی جمہوریت ، سیکولرازم اور وفاقیت پر حملوں کا پیش خیمہ تھی

تاریخ    13 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


پرکاش کر أت
ریاست جموںوکشمیر کو خصوصی حیثیت فراہم کرنے والی آئین کی دفعہ370کو منسوخ کرنے کیلئے پارلیمنٹ کی جانب سے اٹھائے گئے بدنام زمانہ اقدامات اورریاست کو دو لخت کرکے دو مرکزی زیر انتظام اکائیوں جموںوکشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے والی تباہ کن قانون سازی کو5اگست 2020کو ایک سال ہوگیا۔
ایک ہی جھٹکے میںہندتوا حکمران اُس وعدے سے توڑگئے جو کشمیری عوام کے ساتھ الحاق کے وقت کیاگیاتھا کہ انہیں خود مختاری دی جائے گی جائے گی جو آئین کے ذریعے فراہم کردہ خصوصی درجہ پر منتج ہوئی تھی۔جموں و کشمیر کے لوگوں پر مزید ذلت و رسوائی کے لئے ہندوستانی وفاق کی ایک ریاست کے طور ان کا وجود ختم کیاگیا۔جس فاتحانہ تکبر اور غرور کے ساتھ وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں اس غیر قانونی آئینی ترمیم اورقانون سازی کو لایا ، وہ ہندوستان کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کا اقتدار ختم کرنے پر جشن منانے کا کھلم کھلا اظہار تھا۔
 اس سیاہ برسی پر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ گھناؤنی حرکت ریاست کو ایک وسیع جیل میں تبدیل کرکے کی گئی تھی۔ تقریباً 40 ہزارفوج تعینات کی گئی تھی ، ریاست بھر میں کرفیو نافذ کیا گیا تھا ، تمام مواصلاتی ذرائع (بشمول موبائل فون اور ٹیلی ویژن) منقطع کئے گئے تھے ، مکانوں کے باہر نقل وحرکت منع تھی اور میڈیامکمل طور بندکیاگیاتھا۔بی جے پی کو چھوڑ کرسیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنان ، اور دیگر عوامی شخصیات کو یا تو کٹھورپبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کیا گیا ، یا بغیرکسی تحریری حکم کے اپنے گھروں میں خانہ نظر بندکیاگیاتھا۔
 جمہوریت اور جمہوری حقوق کا گلہ گھونٹنے کے اس عمل میں مودی حکومت نے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ انٹرنیٹ مہینوںتک بند تھا۔ ایک سال گزر جانے کے بعد بھی کشمیر کو صرف 2G نیٹ ورک تک رسائی حاصل ہے نہ کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح 4 جی تک۔ اس فقید المثال محصوریت نے ریاست کی معیشت اور تجارت کو بری طرح متاثر کیا۔ وبائی مرض کی وجہ سے دوسرے لاک ڈاون کے ساتھ کسانوں اور عام لوگوں کی روزی روٹی کو معدومیت سے دوچارکیاگیاہے۔ اگرچہ کچھ رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کیا گیا ہے ، لیکن بہت سے افراد جیل میں ہی ہیں ، یا محبوبہ مفتی کی طرح نظربند ہیں۔ یہاں تک کہ جیل سے رہائی پانے والوں میں سے کچھ ا بھی نظربند ہی ہیں۔
 وبائی لاک ڈاؤن کو جموں وکشمیر کو ایک مرکزی علاقہ کے طور پر نئے سرے سے ڈیزائن کرنے کے اقدامات کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ محدود کی گئی اسمبلی کے لئے نشستوں کی تازہ حد بندی کا عمل شروع کیا گیا۔ ایک نئی ڈومیسائل پالیسی نافذ کی گئی ہے جس کے ذریعہ جموں و کشمیر کے باہر کے افراد کو رہائشی حیثیت مل سکتی ہے جس کی وجہ سے وہ ملازمت حاصل کرسکیں گے اور زمین بھی خرید سکیں گے۔ یہ وادی کی آبادی کو تبدیل کرنے کے منصوبے کا آغاز ہے۔ ایک میڈیا پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے جو میڈیا اور صحافیوں کو ڈھٹائی کے ساتھ ڈرانے اور ان کی آواز دبانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔
 جموں و کشمیر پر حملہ ، جو ایک سال پہلے شروع کیا گیا تھا ، تنہائی میں نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ یہ مودی سرکار کے دوسرے دور میں شروع کردہ جمہوریت ، سیکولرازم اور وفاقیت پر زوردار حملوں کا پیش خیمہ تھا۔ جموں وکشمیر کو بطور ریاست ختم کرنے کے بعد اگلی قانون سازی کا اقدام پارلیمنٹ میں سی اے اے کو اپنانا اور ملک بھر میں سی اے اے-این آر سی مخالف مظاہروں کے خلاف جبر کو ہونے دینا تھا۔غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد سے متعلق قانون( یو اے پی اے) اور بغاوت سے متعلق قانون کے بے دریغ استعمال کے ذریعہ آمرانہ حکومت کو تقویت بخشی گئی ۔ جموں و کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے استعمال نے اس کی پیش گوئی کی تھی۔ صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کرنااُس منظم عمل کا ماحصل تھا جو جموںوکشمیر میں دہرایاگیاتھا تھا جہاں دو صحافی ابھی بھی یو اے پی اے کے تحت جیل میں ہیں۔
 انتباہ واضح ہے کہ باقی ہندوستان میں سیکولر اور جمہوری قوتیں ، ریاستوں کے حقوق اور سیکولرازم کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو جموںوکشمیر کے ساتھ ہوا ہے۔
 5 اگست کو ایودھیا میں رام مندر کی تقریب میں "بھومی پوجن" کی تاریخ کے طور پر منتخب کیا گیا۔ اس تاریخ کا جان بوجھ کر انتخاب کیا گیا۔بابری مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر اور جموںوکشمیر کا انہدام ،دونوں ہندتوا قوتوں کے بنیادی ایجنڈے کا حصہ تھے۔ وزیر اعظم نے ایک مذہبی عبادت گاہ کی سنگ بنیاد تقریب میں پہلی اینٹ رکھ کر ریاست کے سیکولر اصول کی خلاف ورزی کی ہے۔ مشکوک بنیادوں پر مبنی سپریم کورٹ کے فیصلے کا شکریہ کہ ایودھیا میں مندر کی عمارت کو قانونی حیثیت دی گئی ہے۔ عدالت ، جس نے مسجد کے انہدام کو "قانون کی سنگین خلاف ورزی" قرار دیاتھا ، نے اکثریت کے عقیدے کو اولین ترجیح دیتے ہوئے مندر تعمیرکرنے کی منظوری دے دی۔
 اسی سپریم کورٹ کو اُس آئینی ترمیم اور قانون سازی کے بارے میں فیصلہ سنانے کا وقت نہیں ملا جس نے غیر قانونی طور آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے ریاست کو ختم کردیا۔ یہ عدالتی احتراز اور اجتناب کی ایک اور مثال ہے۔
 ہندتوا طاقتوں کی یلغار کا مقابلہ پوری طرح سے ہونا چاہئے۔ جموں و کشمیر کے معاملے میں ہم نے سیکولر حزب اختلاف کی متعدد جماعتوں کو یہ موقف اختیار کرنے پر راضی نہیں دیکھا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور ریاستی درجہ کو بحال کیا جانا چاہئے۔ وہ اس معاملے کو صرف سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جمہوری حقوق کی بحالی تک کم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک سمجھوتہ کرنے والا موقف ہے۔ جمہوریت ، سیکولرازم اور وفاقیت کی جنگ کے لئے واضح موقف کی ضرورت ہے۔خصوصی حیثیت کے ساتھ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنا ہوگا۔ ایسانہ کرنے سے ہندوستان کا سیکولر جمہوریت کی حیثیت سے قد مزید کم ہوجائے گا۔
(پرکاش کرأت سی پی آئی (ایم) کے پولیٹ بیورو ممبر ہیں۔)
مترجم :ریاض ملک