تازہ ترین

قابل اعتراض پوسٹ پربنگلورو میں تشدد

پولیس فائرنگ سے3 افراد ہلاک،150 افراد گرفتار

تاریخ    13 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


بنگلور//کرناٹک کے شہربنگلورومیں ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر قابل اعتراض پوسٹ پرتشدد بھڑکنے کے بعد پولیس پر پتھراؤ اورآتشزنی کرنے والے مظاہرین پر پولیس فائرنگ سے تین افراد ہلاک ہوگئے ۔سرکاری ذرائع نے بدھ کے روز بتایا کہ منگل کی شب ایک خاص فرقہ کے لوگ سوشل میڈیا پر پیغمبراسلام ﷺکے بارے میں اشتعال انگیز پوسٹ ڈالنے پرکانگریس کے ایم ایل اے پلکیشی ناگر کے رشتے دار کی گرفتاری کا مطالبہ کے حوالہ سے کے جی ہلا تھانہ کے قریب جمع ہوئے ۔ وہ اپنے مطالبہ کے کیلئے احتجاج و مظاہرہ کر رہے تھے ۔ مظاہرین پرالزام ہے کہ انہوں نے ایم ایل اے کے گھر پر پتھراؤ کیا اور قریب کھڑی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔پرتشدد مظاہرین کو روکنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس کے فائر کئے ۔ مظاہرین پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ پولیس اسٹیشن میں داخل ہوئے اور پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کرنا شروع کردیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سینئر پولیس افسران بھیڑ کو پرسکون کرنے کے لئے جائے وقوع پر پہنچے لیکن وہ بھی بھیڑ کا نشانہ بن گئے ۔ اس کے بعد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پولیس کو فائرنگ کرنا پڑی ، جس میں تین افراد ہلاک ہوگئے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے ممبر اسمبلی کے رشتہ دار کو قابل اعتراض پوسٹ کرنے کی پاداش میں گرفتارکر لیا ہے اورسماج میں امن و ہم آہنگی کو خراب کرنے پر ڈیڑھ سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے ۔یواین آئی
 
 

مندر کو بچاتے نظر آے مسلم نوجوان 

بنگلورو//بنگلورو میں تشدد کی تصویروں کے بیچ سماجی اتحاد کی ایک الگ تصویر بھی دیکھنے کو ملی۔ وہاں مشتعل ہجوم سے ایک مندر کو بچانے کے لئے مسلم نوجوانوں نے ہیومن چین بنائی اور شرپسندوں کو وہاں پاس آنے سے روک دیا۔ سوشل میڈیا پر ان لوگوں کی خوب تعریف ہو رہی ہے۔ اس ویڈیو اور پورے واقعہ پر کانگریس لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا ہے کہ جو لوگ قصوروار ہیں انہیں بخشا نہ جائے لیکن بنگلورو میں کچھ ایسا بھی ہوا ہے جسے دیکھا جانا چاہئے۔
 

میرٹھ میں بگڑتے بگڑتے سنبھلے حالات

نئی دلی //میرٹھ کا سسولی گاؤںمیں حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب گاؤں کے ہندوؤں کے ایک طبقے نے خالی سرکاری زمین پر رادھا کرشنن کی مورتی استھاپت کر دی اور رادھا کشن کا مندر تعمیر کرنے کے لیے چبوترا بھی بنا دیا۔ غیر قانونی اور ناجائز طریقہ سے مندر تعمیر کے لیے مورتی نصب کیے جانے کی جانکاری پولیس تک پہنچنے کے بعد گاؤں میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے پیش آنے سے پہلے ہی پولیس نے فوری طور پر کاروائی کی۔پولیس نے گاؤں پہنچ کر لوگوں سے بات کی اور اس تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے مندر تعمیر کے لیے ضد پر اڑے نوجوانوں سے سخت لہجے میں بات کرتے ہوئے مورتی کو فوراً ہٹانے کا حکم دیا۔کچھ مقامی سیاسی لیڈران نے اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جیسے پولیس نے ناکام بنا دیا۔