بنتِ حوا کے ارمانوں کا یوں خون نہ کریں

شادی بیاہ کے مقدس رشتوں کو رسموں اور رواجوں کا یر غمال نہ بنائیں

تاریخ    12 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


بشیر اطہر
یوں تو نکاح کرنا سنت مؤکدہ ہے مگر ہمارے اعمال وافعال اور نظریات سے اب شادیاں بارگراں بن چکی ہیں اور جوان لڑکے و لڑکیاں اب شادی جیسے پاک رشتے سے منہ موڑ رہے ہیں۔ اس کے وجوہات رسومات بد کے علاوہ شادی بیاہ کے پروگراموں میں مغربی تہذیب وتمدن کی تقلید ہے ۔ہم اب شادیاں اسلامی حدود کے اندر انجام نہیں دیتے ہیں اور ہم اسلامی سادگی کے سارے اصولوں کو پھلانگتے ہوئے دوسری تہذیبوں اور تمدنوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب شادیوں پر ہزاروں روپے کے بجائے لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں جس کا اثر سیدھے غریب ،مفلوک الحال، یتیموں اور بیواؤں پر پڑتا ہے جن کی بیٹیاں اب مہندی رچنے کے انتظار میں یا تو بوڑھی ہوچکی ہیں یا کئی بیٹیوں نے رسومات بد سے تنگ آکر خود کو تختہ دار پر لٹکایا ہے۔ جن لوگوں کے پاس ذریعہ معاش نہیں ہے، ان کا رسموں رواجوں نے جینا حرام کردیا ہے اور جب تک نہ آج کی شادیوں میں لاکھوں روپے کا سامان گھر پہنچ جائے تب تک ہمیں چین نہیں آتا ہے اور ہمارے رشتہ دار منہ لٹکائے بیٹھے رہتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر تعداد عورتوں کی ہوتی ہے جو کہتی رہتی ہیں کہ فلاں کے رشتہ داروں کی شادی تھی ان کے ہاں اتنا مال آیا اور اتنے پکوان بنائے تھے اور بعد میں اتنے پکوان فلاں نالے میں بہا دئیے اور ایک یہ ہمارا رشتہ دار ہماری سنتا ہی نہیں ہے میں کیا منہ دکھاؤں گی اس ہمسایہ بھابھی کو جو کل ہی کہہ رہی تھی کہ اس کے رشتہ داروں نے اتنا مال شادی پر ضائع کیا ہے جتنا باقی لوگ خرچ کرتے ہیں۔ ان کی باتوں سے ایسا لگتا ہے جیسے ان کے رشتہ داروں نے کوئی قلعہ فتح کیا ہے یعنی دیکھا دیکھی اور فضول رسم و رواجوں نے ہماری شادیوں کو جہنم میں تبدیل کیا ہے۔
 شادیوں کی تباہی کا سلسلہ یہی سے شروع ہوتا ہے اور ختم تب ہوتا ہے جب یہی رشتے دار کہتے ہیں کہ ہماری بہو کچھ خاص نہیں ہے، اس نے نہ ہی کچھ جہیز لایا اور نہ ہی رشتہ داروں حتیٰ کہ محلے والوں کیلئے کفن لایا نہ ہی اپنے شوہر کیلئے گاڑی لائی اور نہ ہی اپنی ساس نند کیلئے تابوت کا انتظام کیا۔ان کی باتیں کچھ کڑوی ہوتی ہیں اور کچھ تیکھی ور کچھ شیخی جتاتی ہیں اور انسان!! جو واقعًا انسان ہوتا ہے اس کے دل کو ٹھیس پہنچتی اور جو شیطان کا پْجاری ہوتا ہے وہ ان باتوں کو مان کر اپنی پھول سی زوجہ کو ستانے لگتا ہے، ٹارچر کرتا ہے، گالی گلوچ کرتا ہے ،بار بار محلے میں بدنامی کرتا ہے۔ اس کار بد میں اس لڑکی کی ساس اور نند کا کردار بھی اہم ہوتا ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھریلو تنازعات جنم لیتے ہیں اور بات رشتوں کے توڑنے سے لیکر کورٹ کچہریوں تک پہنچتی ہے۔ کبھی کوئی لڑکی شرم کے مارے اپنے میکے تک یہ باتیں نہیں پہنچاتی اور ان کا دم اندر ہی اندر گْھٹ جاتا ہے اور وہ اپنے ہی سسرال میں خودکشی کرتی ہیں کسی زہریلی شے سے یا خود کو لٹکانے سے اور سوچتی ہیں کہ نہ رہے گی بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ مگر جن عورتوں کے ارادے مستحکم ہوتے ہیں وہ سب کچھ چپ چاپ سہ لیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ
ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
 بعد میں یہی عورتیں یا لڑکیاں ایک اچھا خاندان اور گھر بناتی ہیں۔ الغرض آج کی شادیوں میں زیادہ تر شیطان کی پیروی کی جارہی ہے۔ ہم دوسری تہذیبوں کی ظاہری چمک دمک سے اتنا متاثر ہوگئے کہ اپنے سنہری اصولوں کو چھوڑ کر پیتل کی بنی رسموں کو قبول کرلیا اوراب اس مصیبت سے نکلنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ جس منگنی میں فرشتے نور برساتے تھے، اُس منگنی سے لیکر شادی بیاہ تک اس مقدس فعل کو بدبختی اور بد فعلی کا زیور پہنایا ہے۔ اب ہمارے اس گندے معاشرے میں منگنی کے وقت سونے کے پانچ چھ کنگن کے جوڑوں سے بات پکی نہیں ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دلہن کا خوراک سونا ہی ہے اور اسی لئے سونے کے دس جوڑوں سے بات بنتی ہے اور مٹی کے بنے اس انسان کو گْماں تک نہیں ہوتا کہ یہ دنیا عارضی ہے اور دائمی دنیا الگ ہے۔ اسی لئے لڑکی والوں سے گاڑی، ریفریجریٹر، واشنگ مشین اور باقی جائیداد کا تقاضا ایسے کرتے ہیں کہ جیسے کوئی بھیک مانگ رہا ہے اور رسومات بد کو معاشرے میں ہوا دیتے ہیں۔ 
ہم شادیوں میں اتنا مال فضول میں برباد کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتے ہیں۔ اگر کفایت شعاری اور میانہ روی سے کام لیا جائے تو اللہ راضی ہوجاتا ہے۔ جتنا مال ہم ڈسپوزیبل کی صورت میں گندی نالیوں میں بہاتے ہیں، اگر اتنا ہم تنگ دست افراد کیلئے جمع کریں تو دسیوں ایسی غریب اور یتیم لڑکیوں کی شادی طے پائے گی جن کے والدین ان کی شادیاں انجام دینے سے قاصر ہیں ۔ کاش کہ ہمیںعقل آئے اور ہم بیدار ہو جائیں تاکہ فضول خرچی سے ہم بچ سکیں۔میری نظر میں اس کیلئے سخت قانون ہونا چاہیے تھا مگر قانون بنانے والے اس کو بڑھاوا ہی دیتے ہیں اور کرونا کی طرح یہ مرض بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے اور غریب مفلوک الحال عوام کو یہ وباآہستہ آہستہ اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ اسی لئے غریب گھروں میں پیدا شدہ لڑکیاں اپنی تقدیر کو کوس رہی ہیں کیونکہ ان کے والدین ایسی ڈیمانڈوں کو بھر لانے سے قاصر ہوتے ہیں۔ کئی والدین ایسے ہوتے ہیں جو یہ سب برداشت نہیں کرپاتے ہیں اور اپنے دل پر لینے سے وہ جوان مرگ ہوجاتے ہیں اور یتیم لڑکیوں کی تعداد کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی ہے ۔کئی لوگ اب اپنی بیٹیوں کو اْسی طرح کوکھ میں ہی مار دیتے ہیں جس طرح عرب کے جاہل اور گنوار لوگ رسول اکرم حضرت محمدؐ کے پیدا ہونے سے پہلے زندہ ہی درگور کرتے تھے۔ اْس زمانے اور اس زمانے میں کوئی فرق نہیں بلکہ مماثلت ہے۔ اْس وقت بھی لوگ بیٹیوں کو کمتر سمجھتے تھے، آج بھی لوگ ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ اْس وقت بھی لڑکیاں چیختی بلکتی مررہی تھیں، آج بھی لڑکیاں چیختی بلکتی ہی مررہی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اْس وقت لوگ اپنے ہاتھوں سے مارتے تھے اوراپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے، اپنی کانوں سے ان کی چیخیں سنتے تھے مگر آج ان کو میڈیکل سائنس مارتا ہے، معالج دیکھتے ہیں، مائیں محسوس کر رہی ہیں۔ اْس وقت وہ جاہل تھے اسلام سے آشنا نہیں تھے، آج ہم خود کوتعلیم یافتہ، باشعوراور اسلامی افکار سے آراستہ مسلمان سمجھتے ہیں۔
ہم کس طرف جارہے ہیں؟ کیا ہم جہالت کی وجہ سے چودہ سو سال پیچھے نہیں ہیں؟ کیا اسلام اس سب کی اجازت دے رہا ہے؟ جواب ہے نہیں! ہرگز نہیں۔ دین اسلام امن و بھائی چارے، سادگی، اخوت ، برادری اور مساوات کا دین ہے مگر ہم نے دین سے دوری اختیار کی ہے اور ہماری آنکھوں پر بے دینی کا پردہ پڑگیا ہے اور اسی وجہ سے دلہن کا سسرال کچھ ہی مدت بعد میدان جنگ میں تبدیل ہورہا ہے اور آس پاس کے لوگ خاص طور سے عورتیں اس آگ کو بجھانے کے بجائے اور بھڑکانے میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔ ہمارے آج کے زمانے کی شادیاں اب شادیاں نہیں رہی بلکہ غم کے خزانے ہیں ،ان میں محبت نہ ایثار اور نہ ہی اخوت ہے۔ آج کی شادیاں خلوص پر مبنی نہیں ہیں بلکہ دھن دولت اور منصب کو دیکھ کر ہی رشتے جوڑے جاتے ہیں ۔انسانیت کی قدروقیمت نہیں ہے ۔شریف النفس اور دیندار کو فیشن سے بعید سمجھا جارہا ہے۔ غریب کو سماج پر دھبہ سمجھا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے رشتوں میں وہ مٹھاس نہیں ہے جو پہلے تھی اور یہ رشتے زیادہ دیر تک نہیں رہتے ہیں بلکہ سورج کی کرنیں پڑتے ہی اوس کے قطروں کی طرح غائب ہوجاتے ہیں ۔
 اس لئے ہمیں اسلام کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اسلام کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کیا ہوتا تو ہماری شادیاں سادگی سے انجام پذیر ہوتیں۔ہم نے غیر خداؤں کی تقلید کرکے خود کو برباد کیا ۔اپنی نائو اس ناخدا کے حوالے کی جس کو نائو چلانا ہی نہیں آتی ہے ۔اس لیے ابھی بھی وقت ہے کہ ہم سدھر جائیں اور اپنے بھائیوں اور بہنوں کی زندگیاں برباد ہونے سے بچائیں اور یہ سمجھیں کہ جن کے گھروں میں ایک وقت کی روٹی تک میسر نہیں ہوتی ہے، بھلا اْن کے پاس شادی بیاہ کیلئے لاکھوں روپے کہاں سے آئیں گے۔ جو مزدوری پر اپنا گزارہ کرتے ہیں، ان کے پاس کہاں سے دولہے کے گھر والوں کے لئے اسباب فراہم ہوں گے۔ آئیںآج ہم مل کر یہ عہد کریں کہ ہم ان سب رسم و رواجوں کی ناپاک زنجیروں کو توڑ ڈالیں گے اور شادیاں سادگی سے انجام دیتے رہیں گے۔
رابطہ۔Atharbashir.mir3@gmail.com
 
 
 
تحفۂ علمدارِکشمیر
کلام شیخ نور الدین نورانی کشمیریؒ کا منظوم فارسی ترجمہ
کتابی جائزہ
 
  مرزابشیر احمد شاکرؔ
 
وادیٔ کشمیر کے معروف قلم کار‘ادیب اور اقبال شناس پروفیسر بشیر احمدنحوی صاحب اپنے ایک قلم برداشتہ مضمون بعنوان’’فارسی شیرین زبان‘‘ میںیوں رقم طراز ہیں کہ :’’اس بات پر ماہرین لسانیات میں سے اکثریت کا اتفاق ہے کہ دنیا میں جو زبانیں بولی جاتی ہیں‘ ان میں لسانی حلاوت‘ رنگ و آہنگ کی شیرنی اور فنی محاسن کے اعتبار سے زبان فارسی سہل الفہم ‘ سلیس سادہ او رملائم زبان ہے ‘مغلق الفاظ‘ پیچیدہ تراکیب‘ ثقیل محاورات سے آزاد فارسی اس دیس میںجنم لے چکی ہے ۔جسے ایران کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اپنے ابتدائی ایام سے ہی فارسی علم و آگہی‘ فصاحت و بلاغت‘نکتہ آفرینی اور سب سے بڑھ کر اخلاق آدمیت کا ترجما ن بھی او ربڑھ چڑھ کر علم بردار بھی رہی ہے‘‘۔(بحوالۂ سرحدِ ادراک)
 ایران کے علاوہ یہ شیرین زبان وسطِ اشیاء کے کئی اور بھی ممالک میں بولی او رلکھی جاتی ہے۔ہماری وادیٔ مینو نظیر میں بھی اس عظیم زبان کا بول بالا رہاہے او ر  خود مختار سلاطین کشمیر کے پُر شکوہ دور میں یہ زبان یہاں کی سرکاری زبان رہی ہے ۔ اس پُر حلاوت زبان نے سرزمین کشمیر میں بہت سارے شعرائے کرام اور سخنور پیدا کیے ہیں۔ان قادر الکلام بزرگوں او رشعراء میں حضرت شیخ یعقوب صرفی المعروف ایشان صاحبؒ اور غنی کشمیری قابل فخر ہیں کہ جنوں نے ادبیاتِ فارسی میں گنج ہائے گرانمایہ اپنے پیچھے چھوڑے ہیں۔دراصل تاریخ فارسی ادب کے حوالہ سے کشمیر کی علمی اورادبی تاریخ بہت ہی روشن رہی ہے اور اس پر وقتاً فوقتاً مورخین نے تواریخی دستاویزات منصہ شہود پر لائی ہیں۔اردو زبان کے بلند قامت شاعر مرزا اسد اللہ خان غالبؔ کو اپنی اردو زبان کے بجائے فارسی زبان پر ہی فخر او رناز تھا اس لیے انہوں نے کہا تھا ۔؎
فارسی بین تابہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ
بگذر از مجموعۂ اردو کہ بے رنگِ من است
درج بالا تمہیدی کلمات کے بعد راقم الحروف اپنے قارئین کی توجہ ترجمہ کاری کے حوالہ سے زیر تبصرہ کتاب تحفۂ علمدار کشمیر کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہے ۔یہ احسن کام وادی کشمیرکے معروف شاعر جناب اسد اللہ اسدؔ نے سر انجام دیا ہے۔اسد اللہ اسدؔ سرینگر سے دور قصبۂ چاڈورہ (ژوڈُر) میں سکونت پذیر ہیں۔آپ نے اردو میں بھی کئی کتابیں تصنیف کی ہیں او رترجمہ کاری میں سکھوں کی مذہبی کتاب جَپ جی صاحب کا بھی منظوم ترجمہ کیاہے۔
شیخ العالم حضرت شیخ نور الدین ریشی کشمیر کے بلند پایہ او رباکمال اولیاء کرام میں سے ہیں جن کی مرقد مبارک چرار شریف میںواقع ہے ۔آپ کا آستانہ مرجعٔ خاص وعام ہے او رعقیدت مند حضرات اس آستانہ پر ادب اور احترام کے ساتھ حاضری دے کر  ان کے توسل سے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں۔شیخ العالمؒ ریشی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کے بہت سارے خلفاء تھے۔
آپ کی ساری زندگی عبادت او رریا ضت میں گذری ہے ۔ دنیاوی زندگی پرآپ نے اُخروی زندگی کو ترجیح دی ہے۔پرہیز گاری‘ صبر و قناعت اور نفس کشی آپ کی بامقصد زندگی کا طرۂ امتیاز تھا ۔خلوت پسندی اور غار نشینی کی ریاضتوں سے حضرت شیخ نے نفس امارہ کی سرکشی کو زیر کرکے رضا ئے مولا کی حصول یابی میںکامیابی حاصل کی تھی۔آپ نے اپنے خلفاء والدہ محترمہ اوریہاں کے بود و باش کرنے والے لوگوں سے اپنی منظوم شاعری کے پیرائے میں خدا ترسی‘ پرہیز گاری اور عقبیٰ طلبی کا در س دیا تھا۔ آپ کی ساری شعر و شاعری قرآن وحدیث کی تعلیمات پر مشتمل ہے۔ عشقِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حب خلفائے راشدین و اولیائے کاملین سے آپ کا منظوم کلام مزین ہے او رآپ کا کلام دنیا کی بے ثباتی کا در س دیتا ہے ۔آپ کے کلام کو وادیٔ کشمیر میں ’’کاشُر قرآن‘‘ یعنی قرآن بزبان کشمیری کے نام سے جانا جاتاہے۔ اکثر وبیشتر او رایام متبرکہ کے موقعوں پر یہاں کی مساجد او رخانقاہوں میں تبرکا او ربطور دلیل واعظین کرام او رمبلغین کی طرف سے یہ کلام دل نشین گوش گذار کیاجاتاہے۔ اسی  پُر حکمت‘زود اثر او روعظ و نصیحت سے لبریز حضرت شیخ کے دلنشین کلام کو کشمیری سے  فارسی میں منتقل کرنے کی سعادت ہمارے ہم وطن او ردینی برادر شاعر گرامی جناب اسد اللہ اسدؔ کے حصے میں آئی ہے ۔؎
ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
اگرچہ ہمارے اس روحانی مرشد کامل حضرت شیخ نور الدین ریشی کے کلام  کو وادی کے اور بھی کئی شعراء کرام نے اردو کے منظوم انداز میں ترجمہ کرکے اپنے نامۂ اعمال میں بہت ساری نیکیوں اور سعادت مندیوں کااضافہ کیاہے جن میں پروفیسر غلام محمد شادؔ مرحوم کانام لینا ناگزیر ہے جنہوں نے کشمیر کے اس ولیٔ کامل کے تین سو عارفانہ شلوکوں پر مشتمل گلدستۂ کلام شیخ العالم شائع کیاہے۔ چار سو آٹھ صفحات پرپھیلی ہوئی ترجمہ کاری کی یہ شاندار تحریر شاد صاحب کی محنت شاقہ کی جیتی جاگتی  تصویر ہے۔
 اسی طرح یہاں رہنے والے ایک او رنامور شاعر اور ترجمہ کار جناب سلطان الحق شہیدی نے بھی کلام شیخ العالم کااردو میںمنظوم ترجمہ کرکے’’ نور علی نور‘‘ کے نام سے ضخیم کتاب چھپوا کر منظر عام پر لائی ہے او ربھی کئی حضرات ہیں جنہوں نے یہ کام کرکے پیغام شیخ کو عام کرنے کی کوشش کی ہے اور ان سبھی محسنین کا ذکر کرنا طوالت کاباعث ہوگا۔
راقم السطور کی رائے میں اپنے قلمی او رادبی دوست جناب اسدا للہ اسد ؔ نے سبھی ترجمہ کاروں پر سبقت لے لی ہے۔ کیونکہ اردو کی نسبت فارسی زبان میںکلام  شیخ العالمؒ کا ترجمہ کرنا کارے دارد والا معاملہ ہے ۔کیونکہ پہلے ہی عرض کیا جاچکا ہے کہ تقدس مآب زبان یعنی عربی کے بعدمشرقی ممالک میں فارسی زبان کی جڑیں بہت گہری ہیں اور اس زبان نے بہت سی وسعتوں کو اپنے اندر سمیٹ لیاہے۔
یہ بات بھی ملحوظِ نظر رہنی چاہیے کہ تخلیقی صلاحیت ہوتے ہوئے بھی کسی ادبی شاہکار کامنظوم ترجمہ اوروہ بھی زبان پہلوی میں انجام دینا کوئی معمولی کام نہیںہے۔ کیونکہ ترجمہ کرتے وقت اصل تخلیق کے معنی ومفہوم کواپنی جگہ برقرار رکھنا ایک بہت ہی باریک فن ہے ۔ مترجم کو الفاظ جملوں یا اشعار کے صحیح مفہوم کو سمجھنا او راس کے مقابل برمحل او رموزون الفاظ کاتلاش کرنا بہت ہی مشکل ہوتاہے اور اس دشوار گذار راستے پرگامزن ہونا گویا سنگلاخ کو کھودنے کے مترادف ہوتاہے۔
موجودہ زمانے میں فارسی زبان اگرچہ ہمارے سماج سے کب کی رخصت ہوچکی ہے اور زمانے کی چیرہ دستیوں کاشکار ہوگئی ہے او رعا م لوگ اس کے بول چال اور سمجھ سے بالکل نابلد ہیں مگر ان ستم ظریفوں کے باوجود بھی یہاں ہمارے کشمیر میں اس عظیم سرمایہ دار زبان کی خوشبوئیں او ربھینی بھینی ہوائیں کہیں نہ کہیں چلتی ہیں اور اس کی آواز ہماری سماعتوں سے ٹکراتی ہیں۔چاہے یہ دانش گاہ کشمیر (یونیورسٹی آف کشمیر) کاشعبۂ فارسی ہو یا دیگر دانش گاہیں یا کالجز وغیرہ اس لطیف او رپُر بہار زبان کی صدائے باز گشت آتی رہتی ہے۔اکثر دینی محافل‘ خانقاہوں اور بقعہ جات میں بزرگانِ دین کا فارسی کلام پیش کیا جاتاہے۔
جہاں تک زیر تبصرہ کتاب یعنی تحفۂ علمدار کشمیر کاتعلق ہے ۔یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ یہ کتاب ایک روحانی تحفہ ہے جوکہ ہمارے کرم فرما محترم اسد ؔ نے اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کی ہے۔ کتاب صوری او رمعنوی دونوں صورتوں میں جاذب نظر ہے۔یہ نادر تحفہ۵۲۸ صفحات پر مشتمل ہے ۔کتاب کو ہاتھوں میں لیتے ہی باذوق قاری اس کی گرفت میں آسکتا ہے ۔کیونکہ اس کی جلد بندی ہی جاذب نظر خوب صورت اور خوش نمائی کی تصویر پیش کرتی ہے۔اس کا ٹائٹل رنگین  ہے جس پر جلی حروف میں تحفۂ علمدار کشمیرؒ منظوم وترجمہ فارسی کلام حضرت شیخ العالم شیخ نور الدین نورانی ؒدرج ہے۔زیرین حصے میں علمدار کشمیر کے آستانہ جدید کی تصویر چھاپی گئی ہے اور مترجم اسد اللہ اسدؔ درج ہے۔جلد کے آخری صفحے پر مترجم کی خوبصورت تصویر دی گئی ہے اور اس کے نیچے ان کا یہ فارسی کلام بھی درج ہے۔
اے زِ کبر و آزو نخوت دور شو
وز ریاضت شاد دل مسرور شو
خاک پائے عارفان را سرمہ ساز
پس اسد اللہ اسدؔ مخمور شو
اس صفحے کے بالائی حصے میں کتاب سے متعلق بزبان انگریزی بھی ایک مختصر تعارف درج ہے۔راقم تبصرہ نگارروایت سے ہٹ کر کتاب کے بارے میں اب اندرونی صفحات کے بار ے میں مختصراً اپنے ناچیز تاثرات درج کرتاہے۔کتاب گرانمایہ کے صفحہ پر تحفۂ علمدار کشمیر کے عنوان کے تحت مترجم نے فارسی میں اس طرح تحریر کیاہے۔
رہبر کشمیریاں در راہ دین
آن ولٔی پاک باطن نورالدین
ازکلام او اسدؔ زمزم چکد
گفتۂ او ‘ رمزِ قرآنِ مبین
اس رباعی کے دوسرے شعر کے پہلے لفظ آن کے بجائے آں‘ نونِ غنہ ہونا چاہیے تھا۔کتاب کا انتساب موصوف نے اپنی والدۂ محترمہ کے بعد ابوالفقراء حضرت بابا نصیب الدین غازی‘ بابا داؤد خاکیؒ‘ بابا زین الدین ولی‘ بابا نصر الدین ریشی‘ بابا بام الدین او ردیگر خلفائے شیخ العالم او ران کی والدہ وغیرہ کے نام کیاہے اور معتقدانِ و عاشقان شیخ نور الدین کی خدمت میںاس ترجمہ کو ہدیہ کیاہے۔کتاب زیر تبصرہ کے صفحہ نمبر ۴ پر شاعر اسداللہ اسدؔ کی ایک کشمیری نظم نظر آتی ہے ۔’’یہِ چھُے پانہ مبارک‘‘ اور اس کے بائیں صفحے پر اس نظم کا فارسی ترجمہ دلا باد مبارک کے عنوان سے درج ہے۔
 اس بیش قیمت کتاب کا پیش گفتار فارسی میں لکھا گیاہے جوکہ تفصیل سے لکھا گیا ہے او ریہ تعارف نامہ اور حالات مصنفِ کتاب نے چوالیس صفحات پر قلمبند کیے ہیں۔ یہ پیش گفتار پڑھ کر مترجم کا فارسی زبان پر عبور رکھنا بالکل واضح ہوجاتاہے۔ ایک انمول تحفہ عنوان کے تحت جناب بشیر منگوالپوری نے اردو زبان میںکتاب کے بار ے میں اپنے قیمتی تاثرات درج کیے ہیں۔ تبرک عشق از ستیش ومل سرینگر‘ خوشنودی از عبدالرحمن لطیفؔ‘علمدارس کن از ہلال دلنوی عنوانات کے تحت کتاب میں بہت ہی قابل قدر علمی باتیں درج کی گئی ہیں۔
تحفۂ علمدار کشمیر میں فاضل مترجم نے کلام شیخ سے چار سو(۴۰۰) شلوک کاانتخاب کیاہے۔ جن میں حضرت شیخ نور الدینؒ کے بصیرت افروز اور عارفانہ کلام کے ذریعہ رہنمایانہ رول ادا کیاہے۔اس انتخاب کی تفصیل او رکلام کی معنویت کے بارے میں کچھ لکھنا طوالت کاتقاضہ کرتاہے جس کی اس تبصرے میںگنجائش نہیںہے۔ کتاب کے صفحات کے دائیں طرف حضرت شیخ کا یہ منظوم کلام کشمیری میں دو دو شلوکوں پر مشتمل ہے اور اس کا دلآویز فارسی ترجمہ کتاب کے صفحات کے بائیں جانب دودو شلوکوں میںلکھاگیا ہے۔
 قدیم اورمتروک کشمیری الفاظ جن کا شیخ العالم کے کلام میں استعمال کیاگیا ہے کو آج کل کے کشمیری عوام کے لیے سمجھنا خاصا مشکل ہے ۔مگر جناب اسداللہ نے اس پیچیدہ اور مشکل منزل کو بھی کامیابی کے ساتھ طے کیا ہے او رایسے مشکل الفاظ کے معنیٰ اور مفہوم کو سمجھنے کے لیے حتی المقدور متبادل فارسی الفاظ کاسہارا دیاہے۔ترجمہ کتاب کے اختتام پر مترجم نے آرزوئے شوق کے عنوان کے تحت فارسی میںایک نظم تحریر کی ہے جو کہ کتاب کی زینت کو بڑھاتی ہے اس میں نظم نگار نے اپنی عاجزی کااظہار کیاہے او راللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگی ہیں۔اللہ تعالیٰ مترجم کی اس مناجات کو قبول فرمائے۔
 کتاب کے آخری صفحات پر باریک حروف میں کشمیری الفاظ کاایک اچھا خاصا ذخیرہ درج کرکے ان کے مطالب بھی درج کیے ہیں جوکہ قارئین کلام حضرت شیخ کے لیے بہت ہی سودمند رہیں گے ۔کتاب کا سال اشاعت۲۰۱۹ء ہے او راس کا ہدیہ مبلغ۷۰۰ روپیہ  ہفت سر ہندی رکھا گیا ہے جو کہ کتاب کی چھپائی اور عمدہ ورنگین کاغذ کے لحاظ سے کچھ زیادہ نہیںہے۔صاحبانِ علم اوراہل ذوق وفارسی دان حضرات کے لیے یہ کتاب بہت اہمیت کی حامل ہے او رعلمی اداروں اور لائبریریوں میںاس کا موجود ہونا بہت ہی سود مند رہے گا۔
رابطہ ۔نوشہر ہ سرینگر ،فون نمبر۔9419674210
 
 
 
ایشیا پیسفک؛ اپ 10ٹیکنالوجی کمپنیاں 
کامرس
 
فاروق احمدانصاری
 
ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہر کمپنی کو، چاہے وہ مقامی ہو یا ملٹی نیشنل، اسے کہیں نہ کہیں اور کبھی نہ کبھی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی ضرور ت پڑہی جاتی ہے۔ ٹیکنالوجی کو فروغ دینے والی کمپنیوں کے نہ صرف حجم میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ان میں سرمایہ کاری بھی بڑھ رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ ان کی تیز تر ترقی ہے۔ اس ضمن میں ایشیا پیسفک کا خطہ بھی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مالا مال ہے۔
ڈیلائیٹ(Deloitte Touche Tohmatsu Limited) نامی گلوبل مینجمنٹ کنسلٹنگ فرم دنیا کی چار بڑی اکائونٹنگ آرگنائزیشنز میں سے ایک ہے جبکہ ریونیو اور پیشہ ورانہ افراد کی تعداد کے لحاظ سے یہ دنیا میں سب سے بڑا پروفیشنل سروس نیٹ ورک ہے۔ ڈیلائیٹ کی ’’2018 Technology Fast 500 Asia Pacific‘‘رپورٹ کے مطابق اس خطیمیں چین کی ’Ke.com‘ تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سر فہرست ہے۔ بیجنگ میں موجود یہ کمپنی نئی، استعمال شدہ اور کرائے پر موجود زمینوں پر موجود لوگوںکو ایک ایکو سسٹم کی پیشکش کرتی ہے۔ 
اس کمپنی کے مالک لیانجیا (ہوم لنک کے نام سے مشہور) چین کے سب سے بڑے ریئل اسٹیٹ بروکرز میںسے ایک ہیں، ان کے پاس ٹیکنالوجی پر بنیاد کردہ پلیٹ فارم ہے، جو مختلف تخلیق کردہ ٹیکنالوجیز جیسے کہ VR viewing functionتشکیل دیتاہے ، جوفہرست میں شامل گھروں کو انٹر ایکٹو تھری ڈی ویوئنگ فراہم کرتاہے۔ کے ای ڈاٹ کام کے علاوہ دیگر ٹاپ ٹین کمپنیوں میں دو بھارتی فرمز اور ایک کیوی کمپنی ہے۔ ان دس میں سے نو کمپنیاں پرائیویٹ ہیں۔
2018 Technology Fast 500 Asia Pacific کی درجہ بندی میں علاقائی سطح پر تیزی سے پھلتی پھولتی کمپنیاں سوفٹ ویئراور ہارڈ ویئر ٹیکنالوجی، کلین ٹیکنالوجی، میڈیا، کمیونیکیشنز اور لائف سائنسز میں نت نئے شاہکا رسامنے لا رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کو تین برس پر مشتمل سالانہ ریونیو گروتھ کی بنیاد پر منتخب کیا گیا تھا۔ سرفہرست چینی کمپنی کے علاوہ ٹاپ500میں ا س کی مزید30کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
ڈیلائیٹ کے مطابق ٹاپ ٹین کمپنیوں کی اوسط گروتھ17سال میں سب سے اوپر پہنچ گئی ہے جبکہ یہ رینکنگ17314فیصد پر شروع ہوئی تھی۔ ان تمام 500کمپنیوں کیلئے یہ اوسط گروتھ 987فیصد تک پہنچ گئی، جو 2017ء کی پوزیشن سے387فیصد کا اضافہ تھا۔
اس ضمن میں ڈیلائیٹ 2018 Technology Fast 500 Asia Pacificکے لیڈر کا توشی فومی کسونوکی کا کہناتھا ، ’’یہ سال اس بار بزنس ٹو بزنس ای کامرس بشمول ریئل اسٹیٹ، کیمیکلز، ٹیکسٹائل، انڈسٹریل سپلائز اور فِن ٹیک کمپنیوں میں سے ایک دلچسپ اور تنوع سے بھرپورانتخاب سامنے لایاہے، ہم وراثت میں ملے بزنس ماڈلز کو بزنس ٹو بزنس ایکو سسٹمز میں تیزی سیا?ن لائن پلیٹ فارم پر منتقل ہوتے دیکھ رہے ہیںاور چین اس گروتھ میں سب سے اگلے محاذ پر کھڑا ہے ‘‘۔
کے ای ڈاٹ کام کے بعد میڈیا کٹیگری میں گونڑوہوئی ڑی یونائٹیڈ ٹیکنالوجی کمپنی (24702فیصد گروتھ کے ساتھ)، ویشیئر فنانشیل سوفٹ ویئر (24564فیصدگروتھ کے ساتھ )، سِنو ٹیکس ڈاٹ کام (23646فیصد گروتھ کے ساتھ)، کمیونیکیشن کٹیگری میں قووان نیٹ ورک ٹیکنالوجی (16895فیصدگروتھ کے ساتھ)، موگلی لیگس (11836فیصدگروتھ کے ساتھ)، ریزرپے (11173فیصدگروتھ کے ساتھ)، چینگجو کوشوئی ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ (10452فیصدگروتھ کے ساتھ ) ، اور ڈی مال (9270فیصد گروتھ کے ساتھ) ٹاپ10فہرست میں جگہ بنا پائی ہیں۔
جغرافیائی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو ٹاپ500کی اس فہرست میں سب سیزیادہ تائیوا ن کی91کمپنیاں جبکہ دوسرے نمبر پر آسٹریلیا کی71کمپنیاں شامل ہیں۔ جب سے سرفہرست کمپنیوںکی درجہ بندی شروع ہوئی ہے، پہلی بار ایسا ہواہے کہ تائیوان کی کوئی کمپنی ٹاپ 10میں جگہ نہیں بنا سکی ہے۔
ٹرینڈز کی بات کرتے ہیں تو چین ہرشعبے میں ٹاپ پرفارمر کمپنی کا مالک ہے، سوائے کلین انرجی سیکٹر کے۔ اس شعبے میں ٹاپ کمپنی کا اعزاز بھارت کی ایک کمپنی اوریانو کلین انرجی نے حاصل کیا ہے۔
گذشتہ چھ برس سے سوفٹ ویئر ٹیکنالوجی نے ترقی کی چوٹی پر اپنے جھنڈے گاڑ رکھے ہیں۔ ڈیجیٹل سروسز کی گروتھ نے فنانسنگ کی ضرورت کے ساتھ مل کر فِن ٹیک کمپنیوں کیلئے ایندھن کا کام انجام دیاہے۔ ایشیا پیسفک میں ڈیجیٹل سے محبت رکھنے والی چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیاں اپنے جغرافیائی پھیلائو اور گروتھ کیلئے فِن ٹیک کو گلے لگا رہی ہیں۔
ایک پریس ریلیز میں ڈیلائیٹ چائنا ٹیکنالوجی، میڈیا اینڈ ٹیلی کمیونی کیشنز انڈسٹری لیڈ پارٹنر ولیم چوئو کا کہناتھا، ’’ ہم ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں چین کے سرفہرست بینکوں کو بھی اْبھرتا ہوا دیکھ رہے ہیں، جو بِگ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور بلاک چین جیسے ایریاز میں سرمایہ کاری کررہیہیں، یہ بزنس ٹو بزنس فِن ٹیک سیگمنٹ کی گروتھ میں سرفہرست ہوںگے ‘‘۔