تازہ ترین

نیشنل کانفرنس کے 16لیڈر نظر بند نہیں

حکومت نے عدالت عالیہ میں جواب داخل کرایا

تاریخ    12 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر // جموں و کشمیر انتظامیہ نے ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹرفاروق عبد اللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے پارٹی کے جن  16 لیڈروں کی رہائی کے لئے حبس بے جا کے تحت متعدد درخواستیں دائر کی ہیں، ان میں سے کسی ایک کو بھی حراست میں نہیں لیا گیا تھا اور وہ ’’کچھ احتیاطی تدابیر‘‘ کے ساتھ جو انکی حفاظت کیلئے موزوں ہیں، کسی بھی نقل حرکت کیلئے آزاد ہیں۔حکام کی جانب سے سینئر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بشیر احمد ڈار ، نے جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے روبرو ان درخواستوں پر جوابی ردعمل داخل کرتے ہوئے کہا کہ’’ یہ نہ صرف حیران کن بلکہ تشویش کن بھی ہے‘‘ کیونکہ نا ہی کوئی قانونی کارروائی جاری ہے اور نہ ہی زیر غور ہے۔جوابی دعویٰ میں کہا گیا کہ گزشتہ  سال اگست میں کی جانے والی آئینی ترامیم کے بعد ،’’یہ شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ شر پسند عناصر امن عامہ میں ممکنہ طور پر خلل ڈال سکتے ہیں "اور لیڈراں غالباًً’’ انہیں مشتعل کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ‘‘تاہم ،  زیر بحث لیڈروں میں سے کسی کے خلاف احتیاطی نظربندی یا مجرمانہ قانون کے تحت نظربندی کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا تھا ۔انہوں نے مزید کہا کہ اپنی حفاظت کے لئے کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کے ساتھ وہ نقل و حرکت کیلئے آزاد ہیں۔ حکام کی جانب سے عدالت میں پیش کئے گئے جواب میں کہا گیا کہ درخواست گزا رکو مشورہ دیا جاتا ہے کہ درجہ بند شخص(سیکورٹی کے اعتبار سے) ہونے کی وجہ سے مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ حکام کو  بغیرمطلع کئے اور مناسب حفاظت کو یقینی بنائے بغیر پرخطر علاقوں کا دورہ نہ کریں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ نے 13 جولائی کو این سی کے 16 لیڈروں کے لئے 16 درخواستیں دائر کی تھیں جن میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ انہیں آئین کے تحت دی گئی حق آزادی کی سنگین خلاف ورزی کرکے حراست میں رکھا گیا ہے۔آئین کے دفعہ226 کے تحت دائر عرضیوں کی فہرست میں نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر ،صوبائی صدر ناصر اسلم وانی ، سینئر رہنما آغا سید محمود ، پارٹی کے سابق ترجمان اعلیٰ آغا سید روح اللہ مہدی ، شامل ہیں۔جن دیگر لیڈروں کی رہائی کے لئے درخواستیں دائر کی گئیں ان میں عبدالرحیم راتھر ، محمد خلیل بند ، عرفان شاہ ، شمیمہ فردوس ، محمد شفیع اوڑی ، چودھری محمد رمضان ، مبارک گل ، ڈاکٹر بشیر ویری ، عبد المجیدلارمی ، بشارت بخاری ، سیف الدن بٹ شترو اور محمد شفیع شامل ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ نے 7لیڈروں کے لئے حبس بے جا درخواستیں دائر کی ہیں جبکہ عمر عبداللہ نے باقی نو افراد کے لئے درخواست دائر کی ہے۔