سیاسی کارکنوں پر حملے جنگجوئوں کی مایوسی کا عکاس

عوام کو اٹھ کھڑا ہونا چاہئے :لیفٹیننٹ جنرل راجو

تاریخ    11 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


یواین آئی
سری نگر// سری نگر میں قائم فوج کی پندرہویں کور کے جی او سی لیفٹیننٹ جنرل بی ایس راجو نے سیاسی کارکنوں پر ہو رہے حملوں کو جنگجوئوں کی مایوسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں کو روکنے کے لئے عوام کو اٹھ کھڑا ہونا چاہئے کیونکہ سیاسی کارکن پر حملہ عوام پر حملے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کشمیر میں جنگجوئوں کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل نے ایک انٹریو میں بتایا،’’سیاسی کارکنوں پر جو حملے ہو رہے ہیں یہ جنگجوئوں کی مایوسی کا نتیجہ ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ جنگجو مخالف آپریشنز کو مزید تیز کیا جائے اور جن کارکنوں کو زیادہ خطرات لاحق ہیں ان کو سیکورٹی فراہم کرنے کی ضرورت ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام کو اٹھ کھڑا ہونا چاہئے کیونکہ سیاسی کارکن پر حملہ عوام پر حملہ ہے‘‘۔شمالی کشمیر میں ملی ٹنٹوں کی سرگرمیاں بڑھ جانے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا،’’جنوبی کشمیر میں ہمارا دباؤ بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے ملی ٹنٹوں نے شمالی کشمیر میں اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں‘‘۔ راجو نے مہلوک جنگجو کمانڈر ریاض نائیکو کو تجربہ کار کمانڈر قرار دیتے ہوئے کہا،’’ریاض نائیکو کافی عرصہ تک کمانڈر رہا جس سے وہ کافی تجربہ کار کمانڈر بن گیا تھا۔ اس کو مالیات کے بارے میں کافی جانکاری تھی اور وہ نوجوانوں کو ملی ٹنٹوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے پر مائل کرنے میں بھی کامیاب ہوا تھا‘‘۔انہوں نے کہا کہ آج جو کشمیر میں امن قائم ہے اس کی ایک وجہ پرانے کمانڈروں کی ہلاکت بھی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل راجو نے کہا کہ کشمیر میں 70 سے 80 غیر ملکی جنگجو سرگرم ہیں۔ان کا کہنا تھا،’’شمالی کشمیر میں جنوبی کشمیر کے نسبت غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد زیادہ ہے، دونوں مقامات پر کل 70 سے 80 کے آس پاس غیر مقامی جنگجو سر گرم ہیں۔ غیر ملکی جنگجوؤں کا کام مقامی جنگجوؤں کی تربیت کے علاوہ آپریشنز میں حصہ لینا بھی ہے اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جن علاقوں میں غیر ملکی جنگجو موجود ہوتے ہیں وہاں بھرتی زیادہ ہوتی ہے‘‘۔موصوف لیفٹیننٹ جنرل نے کہا کہ سر حد پار لانچنگ پیڈس پر ڈھائی سو سے تین سو کے قریب جنگجو در اندازی کرنے کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا،’’ڈھائی سو سے تین سو کے قریب جنگجو دراندازی کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جو طلبا ویزا پر وہاں گئے ہیں اور پڑھائی کر رہے ہیں ان کو بھی پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے‘‘۔لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر ہورہی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں بی ایس راجو نے کہا،’’پاکستان جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ملی ٹنٹوں کی طرف سے دراندازی کرنے کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لئے کر رہا ہے، ہماری اگلی چوکیوں پر بمباری کی جاتی ہے اور اسی بیچ ملی ٹنٹوں کو اس طرف دھکیلنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن ہمارے فوجی جوان سر حد پر چوکنا ہیں اور ان کوششوں کو ناکام بنایا جارہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ڈرگ سے پیسہ حاصل کر کے ملی ٹنٹوں پر صرف کیا جاتا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل راجو نے کہا کہ ملی ٹنٹوں کی بھرتی پر قابو پانا سب سے اہم ہے اور سال رواں کے دوران نوجوانوں کی طرف سے ملی ٹنٹ تنظیموں میں شمولیت اختیار کرنے کے رجحان میں کمی واقع ہوئی ہے۔
 
 

بھاجپا کارکنوں کو منصوبہ کے تحت نشانہ بنایا جارہا ہے: الطاف ٹھاکر

سری نگر//یواین آئی// بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جموں و کشمیر یونٹ کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے پارٹی کارکنوں پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں بی جے پی کے کارکنوں کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم جنگجوئوں کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ہمارے ارادے مضبوط ہیں اور ہم کسی بھی چلینج کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔موصوف ترجمان نے یہاں پیر کے روز نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا،’’کشمیر میں بی جے پی کارکنوں کو ایک منصوبے کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پارٹی یہاں مضبوط ہوگئی ہے جو جنگجوئوں کے لئے باعث پریشانی ہے‘‘۔سیاسی کارکنوں کو سیکورٹی فراہم کئے جانے کے حوالے سے انہوں نے کہا،’’ہر کارکن کو سیکورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ سیکورٹی صرف اس کو دی جاتی ہے جس کو زیادہ خطرات ہوتے ہیں۔ ہم نے حکومت کو پلان دیا ہے کہ وادی کے دس اضلاع میں ہر جگہ سیاسی کارکنوں کو محفوظ رہائش گاہیں فراہم کی جائیں ،یہ مانگ صرف بی جے پی کارکنوں کے لئے نہیں بلکہ باقی پارٹیوں کے کارکنوں کے لئے بھی کی گئی ہے‘‘۔الطاف ٹھاکر نے کہا کہ ہم جنگجوئوں کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا،’’ہم ان کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں ہمارے ارادے ہمالیہ سے اونچے اور چٹان سے سخت ہیں۔ ہم ہر اس چلینج کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں جو ہمارے اور عوام کے بیچ میں آئے گا‘‘۔کچھ کارکنوں کے مستعفی ہونے کے بارے میں بات کرتے ہوئے موصوف نے کہا،’’کچھ  نئے کارکنوں نے دباؤ میں آکر استعفیٰ دیا ہے لیکن جو بھی پرانے بیس برسوں، دس برسوں، پانچ برسوں، دو برسوں سے کام کرنے والے کارکن ہیں وہ آج بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ملی ٹنٹ اپنا کام کر رہے ہیں اور ہم بھی اپنا کام کرتے رہیں گے۔قابل ذکر ہے کہ وادی میں بی جے پی لیڈروں اور کارکنوں پر مشتبہ جنگجوؤں کے مبینہ حملوں میں تیزی آئی ہے۔ 
 

 

تازہ ترین