عالمی تھنک ٹینک’ انٹرنیشنل کرائسس گروپ ‘کی رپورٹ جاری

بھارت اور پاکستان سے جارحانہ طرزعمل سے احترازکرنے کی تلقین

تاریخ    11 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


جموں کشمیرکے ریاستی درجہ کی بحال پرزور

سرینگر//عالمی تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسس گروپ (آئی سی جی) نے بھارت پر زور دیا کہ وہ جموں وکشمیر کے تئیں اپنے اپروچ پر دوبارہ نظر ثانی کرکے جموں وکشمیر کے ریاستی درجے کو بحالی کرے تاکہ کشیدگی اور تنائو کم ہو۔مذکورہ گروپ نے ہندوستان اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ جارحانہ طرز عمل سے باز رہیں اور 2003 میں باہمی رضامندی سے ہونے والی جنگ بندی کا احترام کریں۔کے این ایس کے مطابق عالمی تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسس گروپ (آئی سی جی) نے اپنی نئی رپورٹ میں بھارت کو مشورہ دیا کہ کشمیر کے سیاسی طبقے سے دوبارہ بات چیت کرے اور وادی میں سیکورٹی فورسز کی بدانتظامیوں کو ختم کریں اور نئی دہلی کے بین الاقوامی شراکت داروں اور اتحادیوں پر زور دیا کہ انہیں اس کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرنیشنل کرائسس گروپ (آئی سی جی) نے ہندوستان کے بین الاقوامی اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسے’’ریاست جموں وکشمیر کی بحالی، نظر بند سیاستدانوں کو آزاد کرنے اور سیکورٹی فورسز کی طرف سے عام شہریوں کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کے خاتمے کے لیے اس پر دباؤ ڈالے‘‘۔’’جموں وکشمیر داؤ پر لگتا جا رہا ہے‘‘ کے نام سے جاری رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ ہندوستان کے حالیہ اقدامات نے خطے کی دو جوہری طاقتوں کے مابین فوجی اشتعال انگیزی کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔آئی سی جی نے ہندوستان اور پاکستان دونوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جارحانہ طرز عمل سے باز رہیں اور 2003 میں باہمی رضامندی سے ہونے والی جنگ بندی کا احترام کریں۔آئی سی جی نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ کشمیر ،پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے قیام کے لیے2003-07 کے دوران اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیں ،جس میں حدمتارکہ پر جنگ بندی کے معاہدے بھی شامل ہیں۔اس عرصے کے دوران عسکریت پسندی کا خاتمہ ہوا اور ہندوستان اور پاکستان نے باہمی بات چیت اور اعتماد پیدا کرنے کے متعدد اقدامات کا انتخاب کیا جس میں ایل او سی کا افتتاح بھی شامل تھا تاکہ دونوں ممالک میں کشمیری آزادانہ طور پر سفر اور تجارت کر سکیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ان کوششوں میں نئی دہلی اور کشمیریوں کے بڑے اسٹیک ہولڈرز کے مابین بات چیت کی راہیں کھل گئیں جس میں آل پارٹیز حریت کانفرنس بھی شامل ہے، جسے کشمیر میں سب سے زیادہ نمائندگی کی حامل سیاسی قوت سمجھا جاتا ہے۔اس میں نوٹ کیا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران کانگریس پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے تعلق کی بنیاد پر سیاسی منظرنامے کے دو مختلف کونوں سے تعلق رکھنے والے بھارت کے یکے بعد دیگرے دو وزرائے اعظم نے بھی سیاسی ذرائع سے کشمیریوں کی شکایات کو دور کرنے پر اتفاق کیا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس سے مقامی سطح پر عسکریت پسندی میں بھی اضافہ ہوا جو ضروری نہیں کہ سرحد پار سے آنے والے احکامات پر انحصار کرے۔آئی سی جی نے نوٹ کیا کہ پچھلے سال فروری کے پلوامہ حملے کے پیچھے خودکش بمبار بھی ایک مقامی تھا جہاں مذکورہ واقعے نے ہندوستان اور پاکستان کے مابین تناؤ کو جنم دیا تھا۔رپورٹ میں متنبہ کیا گیا کہ ان مقامی عسکریت پسندوں کے ایک اور حملے سے دونوں ممالک کے مابین تناؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ بھارت یقینی طور پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرائے گا جس سے محاذ آرائی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ کشمیر میں بدامنی کی مسلسل وجوہات کی وضاحت کرتے ہوئے آئی سی جی نوٹ کرتا ہے کہ یہ علاقہ جمہوری نگرانی یا مقامی سیاسی نمائندگی سے خالی ہے، کشمیر کے پورے سیاسی طبقے کی گرفتاری کے ایک سال بعد بھی اس کے کچھ نامور سیاستدان تاحال نظربند ہیں جبکہ جنہیں رہا کیا گیا ہے، انہوں نے ابھی تک مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔
 

تازہ ترین