تازہ ترین

سیاحوں کے منتظر ہاوس بوٹ مرمت طلب

۔2010میں بنایا گیا ’ڈاک یارڈ ‘ بھی خستہ

تاریخ    11 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//عالمی شہرت یافتہ جھیل ڈل کی پرسکون لہروں میں اتوار کو اس وقت ہلچل مچ گئی جب ایک ہاوس بوٹ صبح کے وقت غرقاب ہو رہا تھا۔ہاوس بوٹ میں موجود ’’دون‘‘ کنبے نے شور و غل مچایا اور دیگر ہاوس بوٹوں میں مکین لوگ بھی انکی مدد کو آئے اور ہاوس بوٹ میں موجود قیمتی اشیاء و ساز و سامان کو باہر نکالا گیا،تاہم ہاوس بوٹ کے نچلے حصے سے پانی اندر آرہا تھا اور آہستہ آہستہ ہاوس بوٹ بھی جھیل ڈل میں سما رہا تھا۔ اہل خانہ نے شور محشر بپا کیا،کیونکہ انکے روزگار اور آمدنی کا وسیلہ ڈوب رہا تھا۔ہاوس بوٹ مالک محمد ابراہیم دون نے کہا کہ دوران شب ہی ہاوس بوٹ میں پانی داخل ہونے کا سلسلہ شروع ہوا تھااور انہیں خدشہ ہوا کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ ڈون خاندان ہی نہیں بلکہ جھیل ڈل کی لہروں پر ہچکولے کھاتے ہوئے دیگرہاوس بوٹ مالکان کو بھی سخت خدشات لاحق ہوگئے ہیں،کیونکہ بیشتر ہاوس بوٹوں کی حالت انتہائی خستہ ہے۔ہاوس بوٹ اونرس ایسو سی ایشن کے ترجمان محمد یعقوب دون کا کہنا ہے کہ سال در سال ہاوس بوٹوں کے نچلے حصوں کو مرمت کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر برس سیاحتی سیزن شروع ہونے سے قبل ہاوس بوٹوں کے نچلے حصوں کی مرمت کی جاتی ہے تاکہ وہاں سے پانی داخل نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ تاہم گزشتہ برس سے ہاوس بوٹ مالکان کی آمدن نہ ہونے کے برابر ہے ۔محمد یعقوب دون نے کہا’’ ہاوس بوٹوں کے نچلے حصوں کی مرمت کیلئے50ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کا خرچہ آتا ہے،تاہم گزشتہ برس3اگست کو جب حکومت نے سیاحتی ایڈویزری جاری کی،ہاوس بوٹ ویران ہیں،اور بعد میں رہی سہی کثر کوڈ لاک ڈائون اور کورون وبا کے نتیجے میں پیدہ شدہ صورتحال نے پوری کی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال یہی رہی اور موسم سرما میں برفباری ہوئی تو ہاوس بوٹوں کے چھتوں پر برف جمع ہونے کی وجہ سے مزید بوجھ بڑھ جائے گا،اور بیشتر ہاوس بوٹوں کے غرقاب ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ ہاوس بوٹ اونرس ایسو سی ایشن کے ترجمان اعلیٰ کا کہنا تھا’’ فی الوقت آمدنی کی عدم دستیابی کے نتیجے میں روایتی طریقے کو چھور کر ہاوس بوٹ کے نچلے حصوں کی مرمت سیمنٹ سے کی گئی ہے جو پائیدار نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ سال2010میں اس وقت کی حکومت نے ڈل میں ایک’’ڈاک یارڈ‘‘ قائم کیا تھا تاکہ خستہ شدہ ہاوس بوٹوں کی مرمت وہاں پر کی جائے تاہم ابھی تک ایک بھی ہاوس بوٹ کے مرمت کی اجازت نہیں دی گئی،جس کے نتیجے میں جہاں ہاوس بوٹوں کی حالت بہت خراب ہے وہیں ڈاک یارڈ خود بھی خستہ ہوچکا ہے۔بشیر احمد کچھے نامی ایک ہاوس بوٹ مالک کا کہنا ہے کہ دفعہ370کی تنسیخ کے بعد پیدہ شدہ صورتحال کے نتیجے میں ہاوس بوٹ مالکان دانہ دانہ کے محتاج ہوگئے ہیں،جبکہ’’ سرکار انکے مسائل کو حل کرنے کیلئے غیر سنجیدہ ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جون میں سرکار نے فی ہاوس بوٹ مالک کو ماہانہ ایک ہزار روپے کے معاوضہ کا اعلان کیا تھا تاہم ہاوس بوٹ مالکان نے اس معاوضے کو مسترد کیا،کیونکہ وہ اس کاروبار سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق تھا۔