بے روزگاری ایک مصیبت

تاریخ    11 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


اے ۔مجید وانی ،احمد نگر سرینگر
 کام اگر زندہ لوگوں کی علامت ہے تو بے کار لوگ یقیناً مُردہ ہیں۔ہزاروں بُرائیاں بے کاری کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں اور اس کی گود میں اَن گنت جراثیم پرورش پاتے ہیں۔دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں لوگ فریب خوردگی کا شکار ہیں اور وہ ہیں صحت اور خالی وقت۔کتنے ہی صحت مند جسم اور مہیا وقت رکھنے والے لوگ اس زندگی کو ایسے گذارتے ہیں کہ ان کے سامنے کوئی امید ہے نہ کوئی کام اور نہ ہی کوئی ایسا مقصد ،جس کی تکمیل کے لئے اپنی عمر کھپائیں۔زمین و آسمان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو حق کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اور اس دنیا میں یہ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حق کو پہچانے اور اس کے ساتھ اپنی زندگی گزارے،ورنہ اگر وہ معمولی خواہشات کے دائرے میں پڑا رہے گا اور ہر چیز سے غافل رہے گا تو اس نے پھر اپنے حال و مستقبل کے لئے بدترین انجام چُن لیا ہے کیونکہ نفس کبھی سکون سے نہیں رہ سکتا۔اگر انسان منظم طریقے سے بھلائی اور جدوجہد اور پیداواری سکیموں میں سرگرم عمل نہیں رہتا تو بہت جلد اُسے غلط ملط خیالات اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اسے گھٹیا چیزوں میںپھنسائے رکھتے ہیں ۔انسانی زندگی کو بچانے کا یہی بہترین طریقہ ہے کہ ہم اس کے لئے ایسا پروگرام بنائیں جس کے مطابق وقت گذرے اور شیطان کو گمراہ کرنے اور وسوسوں میں ڈالنے کا موقع نہ دیں۔
نفسیاتی ماہرین کے مطابق جب ہم اپنے کاموں میں مشغول ہوتے ہیں تب ذہنی پریشانی اور کشیدگی کا اثر محسوس نہیں کرتے لیکن کام کے بعد کی خالی گھڑیاں بہت خطرناک ہوتی ہیں ۔جب وقت خالی ہوتا ہے تو طرح طرح کے اندیشے اور وسوسے حملہ آور ہوتے ہیں اور ایسے خیالات ذہن میں پیدا ہونے لگتے ہیں کہ کیا ہمیں زندگی میں وہ سب کچھ حاصل ہے جو ہم چاہتے ہیں؟کہیں ہم امراض کا شکار تو نہیں ہورہے ہیں ؟یہ اس لئے کہ جب ہم خالی ہوتے ہیں تو دماغ میں طرح طرح کے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔اسی طرح جب نفس خالی ہوتا ہے تو اس میں جذبات و احساسات بھر جاتے ہیں کیونکہ ہر پریشانی ،خوف ،کینہ اور غیرت وغیرہ کے احساسات جو شروع سے انسان میں موجود رہتے ہیں، پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں اور اس طرح ہمارے دلوں سے سکون اور ذہنوں سے استحکام رخصت ہوجاتا ہے ۔
ہماری اس بستی میں بے کاری نے نہ جانے کتنی صلاحیتوں کو تباہ کر رکھا ہے اور اس کے پیچھے ذلت و غربت کا زبردست سلسلہ ہے جیسے غیر دریافت شدہ کانوں میں نہ جانے کتنا سونا چاندی اور دوسری انمول معدنیات بے کار پڑی ہوئی ہیں اور دوسری طرف ہمتوں کی پستی اور دولت کی کمی نے نفسیاتی اور معاشرتی حالات میں بے شمار ابتریاں پید ا کررکھی ہیں۔ہر سال ہزاروں نوجوان یہاں کے تعلیمی اور دوسرے نفع بخش اداروں سے فارغ ہوکر نکل آتے ہیں جن کی ایک ہی تمنا ہوتی ہے کہ کسی طرح سرکاری نوکری ملے۔
محدود وسائل و ذرائع رکھنے والی اس بستی میں پڑھے لکھے بے روز گاروں کی تعداد تشویش ناک حد تک بڑھ رہی ہے اور اس اہم اور پیچیدہ مسئلے کو یکسر نظر انداز کرنے سے اس بے روزگاری کی آفت نے اب پوری بستی کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ایک وقت تھا کہ کسی سرکاری دفتر میں خالی اسامیوں کے لئے تشہیر کرکے بھی کوئی امیدوار نہ ہوتا تھا اور آج حالت یہ ہے کہ ایک خالی جگہ پُر کرنے کے لئے ہزاروں درخواستیں موصول ہوتی ہیں اور پھر یا تو چور دروازے سے کسی منظور ِ نظر کو داخل کرکے ہزاروں امیدوں پر پانی پھیرا جاتا ہے یا ایک اچھی خاصی رشوت لے کر قابلیت اور اعلیٰ صلاحیت کو پائوں تلے روند دیا جاتا ہے ۔سچ تو یہ ہے کہ اس بستی کے پڑھے لکھے بے روز گاروں کے اعصاب اب اتنے درہم برہم ہوگئے ہیں کہ اُن میں تو کچھ اب اپنے آپ کو فنا کے گھاٹ اتارنے کو ہی ترجیح دینے لگے ہیں جبکہ اکثر بے روزگار نوجوان نشیلی دوائوں ،قمار بازی اور دوسرے کئی غلط کاموں میں ملوث ہوکر پوری بستی کے لئے ایک ذہنی عذاب بنتے جارہے ہیں۔لاکھوں بے روزگار وں کے لئے روز گار کے مواقع فراہم کرنا کسی بھی حکومت کے بس کی بات نہیں ہے۔بے روزگاروں کی تعداد میں سالانہ ہزاروں لاکھوں کا اضافہ ہورہا ہے اور مستقبل قریب میں یہ بڑھتی فوج بستی میں کیا گُل کھلائے گی کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا ہے۔
اس بستی کی پسماندگی کی بنیادی وجہ بے کاری اور بے چارگی ہی تو ہے اور کوئی کامیابی ہم تبھی حاصل کرسکتے ہیں جب ہم اپنا طرز زندگی بدلیں اور بے کاری سے نجات حاصل کریں ۔مسلسل تعمیری سرگرمیوں کے لئے محکم پالیسیاں بنانا حکومت ِ وقت کا کام ہے اور یہی ہمیں بے کاری سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچا سکتا ہے۔معاشرہ بہت ساری بُرائیوں سے نجات حاصل کرسکتا ہے، اگر وہ خالی اوقات کو استعمال کرنے کا انتظام کرلے اور ہر فرد کو اس بستی کے لئے مفید سرگرمیوں میں لگادے تاکہ کسی فرد میں یہ شعور باقی نہ رہے کہ وہ بے کار ہے ورنہ ایک مالدار کی بے کاری ہمیشہ فِسق و فجور کا ذریعہ بنتی ہے جبکہ غریبوں کی بے کاری سے وہ زبردست انسانی صلاحیتیں ضائع ہوجاتی ہیں جنہیں اگر پوری طرح کام میں لایا جاتا تو ہماری اس بستی کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔
رابطہ۔9697334305
 

تازہ ترین