کورونا کے بعد بھوک سے جنگ؟

تاریخ    11 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


کورونا وائرس کی عالمگیر وباء نے دنیا کو صدی کی بدترین اقتصادی مندی سے دوچارکردیا ہے اور اگر اس وائرس کی دوسری لہر نہ بھی آئی توبھی نتائج بھیانک ہونگے ۔آرگنائزیشن آف اکنامک کواپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ سمیت متعدد عالمی مالیاتی اداروںکے تازہ ترین تخمینوںکے مطابق اب تک دسیوں کروڑ لوگ روزگار سے محروم ہوچکے ہیں اور اگر وباء کی دوسری لہر نہ آئی تو امسال عالمی معیشت کی شرح نمو میں6فیصد کمی آئے گی اور اگلے سال اس میں کچھ حد تک بہتری آئے گی اور2.8فیصد کا اضافہ ہوسکتا ہے لیکن اگر دوسری لہر آئی تو عالمی معیشت میں8فیصد تک کمی ہوگی جو صورتحال کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے کافی ہے۔ادھرچند روزقبل ہی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حالات کی جو مایوس کن منظر کشی کی ،وہ دل کو پسیج کر رکھ دینی والی تھی ۔اُن کا کہناتھا کہ آج بھی 82کروڑ لوگ بھوک کاشکا رہیں اورپانچ سال یا اس سے کم عمر کے 14کروڑ 40لاکھ بچوں کی نشو نما جمود کا شکار ہے اور المیہ یہ ہے کہ اب غذائی نظام چوپٹ ہورہا ہے ۔اُن کا کہناتھا کہ اب عالمی غذائی ایمر جنسی کا خطرہ لاحق ہوچکا ہے جس کے دسیوں کروڑ بچوں اور بزرگوں پر دور رس اثرات ہوسکتے ہیںکیونکہ بقول ان کے امسال کورونا کی وجہ سے مزید 5کروڑ کے قریب لوگ غربت و افلا س کے اتھاہ سمندر میں غرق ہوجائیں گے۔
 یہ اعدادوشمار یقینی طور پر انسانی دل کو دہلادینے والے ہیں لیکن کیا دنیا کے حاکموں سے پوچھا جاسکتا ہے کہ اس حالت تک لانے کا کون ذمہ دار ہے ؟ کیا یہ سچ نہیں کہ عالمی طاقتیں صرف اسلحہ کی دوڑ میں لگی ہوئی تھیں اور انہوںنے عوامی فلاح وبہود کو فراموش کیاتھا۔کورونا نے سب کچھ ایکسپوژ کرکے رکھ دیا ہے۔ اعداد وشمار بتاتے ہیںکہ 2019میں عالمی سطح پر جتنی رقم دفاعی بجٹ پر صرف کی گئی ،وہ فی کس عالمی آمدن کا 2.2فیصد بنتا ہے جو249ڈالر فی کس ہے۔ انسان کو انسان سے خطرہ ہے ۔انسانی جان ختم کرنے کیلئے ہم نے اپنی آمدن کا بڑا حصہ سامان حرب و ضرب پر صرف کیالیکن انسانی جان بچانے کیلئے کچھ نہ کیا حالانکہ یہ دنیا انسان کیلئے ہی تو ہے ۔دنیا کے ممالک اپنی سرحدوںکو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے دفاعی بجٹ بڑھا رہے ہیں لیکن ان سرحدوںکے اندر رہ رہے لوگوںکے بارے میں کیوں سو چا نہیں جارہا ہے ۔مسابقت کی یہ جاہلانہ دوڑ کب انسان کا پیچھے چھوڑے گی؟۔
یہ سمجھنے والی بات ہے کہ دنیا کو ایک دوسرے سے خطرہ کیوںہے ۔کیوں امریکہ کو لگ رہا ہے کہ چین یا روس اس کو کھا جائے گا اور یوں چھوٹے ممالک کو ہر دم خطرہ رہتا ہے کہ کہیں امریکہ اور اس قبیل کے دوسرے لوگ انہیں نگل نہ جائیں ۔جواب اس کا یہ ہے ہم انسانیت بھول چکے ہیں اور حرص و طمع ہم پر اس قدر حاوی ہوچکےہیں کہ ہمیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔جب نظام عدل قائم نہ ہوگا اور مادیت کا دبدبہ ہوگا تو غالب مزید غلبہ پانے کی جستجو میں ہوگا جبکہ مغلوب پستا ہی چلا جائے گا۔یہی کچھ اس وقت دنیا میں ہورہا ہے ۔دنیا کو اگر خطرہ ہے تو وہ سرحدوں سے نہیں بلکہ عدم توازن ،ناانصافی اور ظلم وجبر سے ہے ۔غریبی اور امیری کے درمیان حائل دیوار مٹ جائے تو امتیاز ہی ختم ہوجائے گا۔پھر نہ دشمنی رہے گی اور نہ کوئی کسی کے خون کا پیاسا ہوگا۔
کورونا وائرس نے ان عالمی طاقتوں کو آئینہ دکھا دیا ہے ۔قدرت کے سامنے کسی کی نہیں چلتی ۔جن ظاہری سرحدوںکو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے آپ انسانی جانوںکی پرواہ کئے بغیر لوگوں کی بہبود پر خرچ ہونے والا پیسہ بم وبارود بنانے پر صرف کرتے ہیں،آج اُن سرحدوںکی کوئی وقعت نہیں رہی ہے ۔ایک ایسا جراثیم حاوی ہوچکا ہے جس کے لئے ان سرحدوںکی کوئی اہمیت نہیں ہے اور وہ سرحدیں دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا ہے اور سب کو برابر مار رہا ہے۔کھلی آنکھوں سے نظر نہ آنے والا یہ جرثومہ قدرت کی وہ بے آواز لاٹھی ہے جو اب برسنے لگی ہے کیونکہ ہم نے قدرت کے نظام میں مداخلت کرکے اللہ کی زمین پر فساد برپا کردیا ہے۔
ابھی بھی وقت ہے کہ انسان سنبھل جائے اور اپنی ترجیحات تبدیل کرے ۔انسانی بہبود کیلئے پیسے صرف کریں ۔نظام فطرت کے احیاء کو ترجیحات میں شامل کریں۔انصاف کا بول بالا کرنے کیلئے پیسے صرف کریں۔انسانیت کو اپنا مذہب بنائیں ۔اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ کو دفاعی بجٹ کے نام پر یہ بم وبارود بنانے کی چنداں ضرورت نہ پڑے گی اور شاید ہی کوئی بھوک سے مرسکتا ہے لیکن اگر استحصالی نظام یوں ہی جاری رہا تو اگر ہم اس وباء سے بچ کر بھی نکلے ،آگے چل کرجہاں دنیا کی آدھی آبادی کو بھوک کھاجائے گی تو باقی بچی آدھی آبادی کوبم وباردو ہی کسی دن بھسم کرکے رکھ دیںگے۔

تازہ ترین