آبپاشی سہولیات کی عدم دستیابی سے دھان کی فصل تباہ | زراعت شعبے کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا جارہا ہے:حسنین مسعودی

تاریخ    8 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//دھان کی فصل کو وقت پر آبپاشی سہولیات نہ ملنے پر نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان (ر)جسٹس حسنین مسعودی نے تشویش کاظہار کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ جان بوجھ کر وادی کشمیر میں زراعت کے شعبے کو زک پہنچانے کیلئے آبپاشی سہولیات کو نظراندازکیاجارہا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ برسوں کے دوران گورنر انتظامیہ خصوصاً آبپاشی اور فلڈ کنٹرول محکموں نے آبپاشی نہروں اور کوہلوں کو یکسر نظر انداز کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے کھیتوں کیلئے آبپاشی کی سہولیات دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں وقت وقت پر آبپاشی نہروں اور کوہلوں کی ڈریجنگ، صفائی اور مرمت ہوا کرتی تھی اور کسانوں کو بھی آبپاشی کی سہولیات آسانی سے میسر رہا کرتی تھی لیکن گذشتہ کئی برسوں میں ایسا کوئی بھی عمل نہیں ہورہا ہے اور آبپاشی کے یہ ذرائع دن بہ دن سکڑتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے کیساتھ جموں وکشمیر کی ایک بہت بڑی آبادی وابستہ ہے اور یہ شعبہ یہاں کی معیشت کا اہم ستون رہا ہے لیکن ایسا محسوس ہورہاہے کہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت اس شعبہ کو ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور اس شعبے سے وابستہ کسانوں اور کاشتکاروں کو محتاج بنانے کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکموں کی غفلت شعاری نے شعبہ زراعت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ مسعودی نے متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ وہ خواب غفلت سے جاگ کر جنگی بنیادوں پر دھان کے کھیتوں کی آبپاشی کیلئے ٹھوس اقدامات کریں۔ ادھر اسی دوران پارٹی کے صوبائی سکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میر نے پینے کے پانی کی قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہرو دیہات کے لوگ اس وقت پینے کے پانی کی بوند بوند کیلئے ترس رہے ہیں۔ سرینگر کے بیشتر علاقے،بیروہ، ماگام، ٹنگمرگ اور دیگر اضلاع میں بھی پینے پانی کی قلت سے آبادیاں پریشانِ حال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکام نے محکمہ کا نام تبدیل کیا لیکن کارکردگی دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی سہولیات بہم پہنچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کریں۔ 
 

تازہ ترین