’نئے کشمیر ‘کے نئے لیفٹنٹ گورنر

۔10 نکاتی ترجیحاتی ایجنڈاکیاہونا چاہئے؟

تاریخ    8 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


عبدالقیوم شاہ
نئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کے بارے میں اکثر حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ نہایت سلجھے ہوئے سیاستکار، عوام دوست مصلح اور دوراندیشن سماجی کارکن ہیں۔تین بار بھارتی پارلیمان کے لئے منتخب ہونے والے منوج سنہا بھارتی کابینہ میں بھی اہم وزارتوں کا قلمدان سنبھالنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ہمیں گمان ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں معلومات رکھنے کو حب الوطنی کی بنیادی شرط سمجھتے ہیں، اور اُنہیں معلوم ہی ہوگا کہ کشمیر کو صدیوں سے توقیروں کا قبرستان یعنی  Graveyard of Reputations  کہتے ہیں۔اُن کے علم میں ہوگا کہ جب سکھ سلطنت نے انگریزوں کے ساتھ ساز باز کیا تو شیخ اماالدین کو نہایت خراب حالات میں کشمیر کا گورنر بنا کر بھیجا گیا، پھر جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا موضوع ہے۔ جن حالات میں مسٹر سنہا پدھار رہے ہیں، وہ اُن حالات سے مختلف بھی نہیں جن حالات میں اکثر اوقات یہاں سب ٹھیک ٹھاک کرنے کے لئے گورنروں کوبھیجا جاتا رہا ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ حالات بدل گئے ہیں اور معاملات کو براہ راست دیکھا جارہا ہے۔ لیکن اس گمان کے ساتھ کہ راج بھون اگر حالات  میں بہتری لائے تو نئی دلی کو اُس پر اعتراض نہیں ہوگا، ہم ایل جی سنہا کا خیرمقدم کرتے ہوئے اُن کے سامنے ایک دس نکاتی ایجنڈا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں: 
1۔عیاں وجوہات کی بنا پرکشمیری عوام اور سرکاری سسٹم کے درمیان دیرینہ خلیج ہے۔ سرکار کے ساتھ رابطہ کرنا، یا حکمران کو مسائل کی طرف متوجہ کرنا اب بھی مکروہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حکمرانوں اور منتظمین کے اِرد گرد ابن الوقت ٹھیکیداروں کا گروہ جمع ہوکر اْنہیں الگ ہی پٹی پڑھا کر اپنا اْلّو سیدھا کرتا ہے۔ اس گروہ کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ عوام اور حکومت کے درمیان خلیج مزید بڑھتی رہے۔ ایسے میں پہلا کام یہ ہے کہ لوگوں اور حکومت کے درمیان موجود بچولیوں کو ہٹایا جائے۔ یہ بچولیئے این جی اوز کے نمائندوں، تاجروں، دانشوروں اور صحافیوں کا چولا پہن کر حکومت کو یہ باور کراتے ہیں کہ صرف وہی جانتے ہیں کہ حالات کیسے ٹھیک ہوجائینگے۔ لوگوں سے براہ راست ملئے۔
2۔زمینی سطح پر قابل دید تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہاں ایک کلچر ہے کہ سرکاری افسر اخباروں میں فوٹو اور خبر لگوانے میں دلچسپی لیتے ہیں۔ عوام میں مسیحا بننے اور نئی دلی کے سامنے گْڈ بوائے بننے کی دوڑ پوری بیوروکریسی میں ہے۔ ایل جی سنہا کو یہ کلچر ختم کرنا ہوگا۔ اگر عوام کے ٹیکس سے کوئی کام ہورہا ہے تو افسر کو ڈول پیٹنے کی ضرورت کیا ہے، کیا اُس کو الیکشن لڑنا ہے۔ افسروں کی کارکردگی کو اخباری سْرخیوں کی بجائے زمینی سطح پر انجام دئے گئے کام پر منحصر کی جائے۔ اْنہیں حکومت کے ڈھنڈورچی نہیں بلکہ عوامی خدمت گار بنانا ہوگا۔ 
3۔بنیادی ضروریات اور عوامی بہبود سے متعلق محکموں کو متحرک کرنا ہوگا۔ محکموں کے نام پر اربوں روپے کا سرمایہ افسروں کی ٹھاٹ باٹ پر خرچ ہورہا ہے۔ محکمہ فوڈ اینڈ سپلائز، ڈرگ اینڈ کنٹرول، محکمہ ناپ تول اور لیبر ڈیپارٹمنٹ ایک ہی کام کے لئیہیں۔ ان محکموں کو ضم کرکے ایک کثیرالجہتی ڈائریکٹوریٹ بنایا جائے، اور افسروں کو اہداف دئے جائیں۔اگر چاول اور خوراک کی سپلائی کے لئے محکمہ سپلائز اور امورِ صارفین و کوالٹی کنٹرول کے لئے الگ محکمہ بنایا جائے تو کروڑوں روپے بچ جائیں گے جو مزید کاموں پر خرچ ہوسکتے ہیں۔ اگر 70 سالہ قوانین 70منٹ میں بدل سکتیہیں، تو یہ اصلاح بھی ممکن ہے۔ 
4۔ نیتی آیوگ کے مطابق اس سال سے پورے بھارت میں ساٹھ فی صد پانی کی کمی واقع ہوگی۔ کشمیر پانی کے ذخائر سے مالامال ہے، لیکن افسوس کہ جل شکتی محکمہ لوگوں کو پینے کا پانی مہیا نہیں کرپاتا۔ جہاں یہ مہیا ہوتا ہے وہاں فلٹریشن پلانٹ کی ناکامی کے باعث گندا پانی سپلائی ہوتا ہے اور اب کشمیر کئی بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہے۔ محکمہ جل شکتی سے حساب لیا جائے کہ ایک درجن نء سکیموں پر پچھلے دس سال میں جو سات ہزار کروڑ روپے خرچ کئے گئے ، اْن کا نتیجہ کیا ہے؟ 
5۔اب چونکہ ڈومیسائل قانون بن چکا ہے، اورلاکھوں اسناد تقسیم ہوچکی ہیں۔ لیکن لوگوں کو ابھی معلوم نہیں کہ یہ اسناد کہاں پر دستیاب ہیں۔ اگر واقعی سٹیٹ سبجیکٹ سند کے عوض ڈومیسائل سند ملنی ہے، تو دفتروں میں لوگوں کا اژدھام جمع کرنے کی بجائے اسے گھر گھر پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔
6۔کرپشن ایک وبا ہے جس نے پورے ملک کو دھیمک کی طرح چاٹ دیا ہے۔ جموں کشمیر میں کرپشن ایک کلچر کی طرح پروان چڑھا ہے۔ اگر جموں کشمیر بینک کو ایکسپوژ کیا جاسکتا ہے تو باقی محکموں میں کیا اڑچن ہے۔ اب یہاں اینٹی کرپشن بیورو بھی خودمختار ہے، سیاسی مداخلت کا بھی خطرہ نہیں۔ اگر واقعی یہ جھوٹ ہے کہ بڑے ٹھیکوں میں سیاسی جماعتوں کی سٹیک ہوتی ہے، تو ایل جی سنہا کو بڑے مگرمچھوں کا منہ بند کرنا ہوگا۔
7۔بدقسمتی سے کورونا وائرس نے کشمیر کی پہلے ہی دم توڑتی معیشت کو بستر مرگ پر پہنچادیا ہے۔ مرکزی کی لبرل معاونت کے بغیر اس معیشت کو سنبھالا دینا ناممکن ہے۔ ایل جی سنہا ٹھوس اور مبنی برحق فیڈبیک حاصل کرکے مرکزی معاونت کے لئے کام کرسکتے ہیں۔ تاجروں نے خسارے کا حجم چالیس ہزار کروڑ روپے بتایا ہے، ظاہر ہے مرکز اس رقم کو اْٹھا کر ہماری جھولی میں نہیں ڈالے گی۔ لیکن چھوٹی اور اْبھرتے تاجروں کے قرضوں میں سْود معاف کرنے، ٹیکسی اور شکارا چلانے والوں کی مالی امداد، میوہ کی کاشت کرنے والوں کو رعایات وغیرہ سرفہرست ہونا چاہیے۔ یہ سب اخباروں کے پہلے صفحے پر اشتہار سے نہیں عملی طور پر کرنا ہوگا۔ 
8۔مرکزی وزارت داخلہ سے کشمیر میں قیدیوں کی رہائی کے لئے ایک بااختیار جائزہ کمیٹی کی تشکیل نہایت ضروری ہے۔ اس کمیٹی میں وزارت داخلہ کے افسر، فوج، پولیس اور نیم فوجی اداروں کے نمائندوں کے علاوہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ اگر بغیر کسی جواز کے سینکڑوں افراد قیدو بند میں ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اْن کے لاکھوں اقرار سسک سسک کر جان دیں۔ ایل جی سنہا خود جانتے ہیں کہ خاموشی امن نہیں ، بدامنی کی تمہید ہوتی ہے۔
9۔جیسا کہ دعویٰ کیا گیا تھا، کشمیر راتوں رات سوئزرلینڈ نہیں بنے گا۔ یہاں زندگی اور زندگی کو چلانے والے اقتصادی شعبوں کو بحال کرنا ہوگا۔ اس ضمن میں اوپر کی سطح پر جو بھی ہو، لیکن نچلی سطح پر عوامی اعتبار حاصل کرنا از بس ضروری ہے۔ پولیس کو لگام دینا ہوگی۔ خوامخواہ لوگوں کو تنگ کرنے سے بعض اچھے کام بھی حکومت بیزاری کے جذبات کو جنم دیتے ہیں۔ اگر واقعی لوگوں میں اعتماد پیدا کرنا ہے تو ہر لمحہ سڑکیں بند کرنا، رکاوٹیں کھڑی کرنا، شہر کو ایک وار زون بنا کے رکھ دینا اس کام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
10۔شکایتی سیل کا کلچر بہت پْرانا ہوچکا ہے۔ اگر موبائل فون کی کمپنیاں پیچیدہ شکایات کو ایک فون کال پر نپٹا سکتی ہیں تو حکومت ایسا کیوں نہیں کرسکتی۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی محکمہ عرصے سے بیکار ہے۔ محکموں کی دقیانوسی ویب سائٹ بنانا ہی کوئی کام نہیں۔ ڈیجیٹل گورنرنس ہم دہائیوں سے سنتے ہیں، ایل جی سنہا اس کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔ 
رابطہ ۔abdulqayoomshah57@gmail.com
موبائل نمبر۔ 9469679449
������

تازہ ترین