خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک سال

دلّی دلدل میں

تاریخ    8 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


منظور انجم

خارجی محاذ پر سکون نہ داخلی محاذ پر قرار!

جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک سال مکمل ہونے پر ایک رائے کہنہ مشق صحافی انورادھابھسین کی ہے کہ کشمیر ایک آتش فشاں بن چکا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ۔ ایک رائے سابق وزیر خزانہ اور سیاسی دانشور حسیب درابو کی ہے کہ دفعہ 370کا آئین ہند سے خاتمہ ہوچکا ہے لیکن وہ آئین سے نکل کر دلوں میںداخل ہوگیا ہے اور اب ایک نظریہ بن چکا ہے ۔ سابق وزیر اور پی ڈی پی لیڈر نعیم اختر کا کہنا ہے کہ کشمیربھارت میں ضم نہیں ہوا بلکہ گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد بھارت کشمیر میں ضم ہوا ہے ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اب پورے بھارت کے حالات کشمیر سے زیادہ ابتر ہیں ۔ان آرائوں کے درمیان بی جے پی نے دفعہ 370کے خاتمے کی یاد میں پندرہ روزہ جشن کا اعلان کیا ۔پٹاخے بھی سر کرلئے اور قومی جھنڈے بھی کئی مقامات پر لہرائے ۔ سا بق نائب وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر ڈاکٹر نرمل سنگھ نے کہا کہ ایک سال پہلے آج ہی کے روز پنڈت جواہر لعل نہر و اور شیخ عبداللہ کی ملک کو تقسیم کرنے کی ملی بھگت کا خاتمہ ہوگیا ۔ خصوصی دفعات کا خاتمہ ہونے کے بعد اب جموں و کشمیر کے لوگ آزاد فضائوں میں سانس لے رہے ہیں ۔جب وہ یہ بات کہہ رہے تھے کشمیر میں گپکار روڑ کوخار دار تاروں سے سیل کیا جارہا تھا۔مین سٹریم سیاسی جماعتوں کے دفاتر کے گرد بھاری تعداد میں پولیس اور دیگر نیم فوجی دستے تعینات کئے جارہے تھے ۔کرفیو کے باوجود کئی علاقوں میں ایسے انتظامات کئے جارہے تھے کہ کوئی فرد بشر نہ ان علاقوں میں داخل ہوسکے اور نہ وہاںسے باہر جاسکے ۔وجہ یہ تھی کہ نیشنل کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈران کا ایک اجلاس بلایا تھا تاکہ خصوصی پوزیشن کا ایک سال مکمل ہونے پر صورتحال کا جائزہ لیا جاسکے اور اس کے پس منظر میں سیاسی لائحہ عمل مرتب کیا جاسکے ۔چونکہ محبوبہ مفتی کے علاوہ دیگر تمام سیاسی لیڈر ان کی نظر بندی ختم کی جاچکی تھی ،اس لئے اجلاس بلانا ایک سال کے بعد ممکن ہوسکا تھا لیکن اس اجلاس کا انعقاد ناممکن بنانے کے لئے اس روز ان لیڈران کو نظر بند رکھا گیا ۔ بادل ناخواستہ اجلاس کو ملتوی کردیا گیا تاہم ڈاکٹر عبداللہ اور عمر عبداللہ دونوں نے یہ سوال کیا کہ کیا ایک سال کے بعد سیاسی سرگرمی کے آغاز کی پہل کو اس طرح روک دینا مرکز اور بی جے پی کے سارے دعوئوں کو بے نقاب نہیں کرتا ہے ۔اور کیا اس روز کرفیو نافذ کرنے سے دفعہ 370کے خاتمے سے پیدا ہونے والے حالات کی وہ کہانی واضح طور پر سامنے نہیں آرہی ہے جسے ملک اور دنیا کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سب سیاسی جماعتیں اور لیڈران ابھی تک خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے بارے میں بہت کم بات کررہے تھے جس سے یہ گماں ہورہا تھا کہ وہ حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر راضی ہوئے ہیں لیکن نیشنل کانفرنس کی قیادت نے اس روز صاف طور پر واضح کیا کہ ریاست کی حیثیت بحال کرنا ان کا مقصد نہیں ،اگر ایسا کیا بھی گیا تو بھی یہ جماعت انتخابات میں شمولیت نہیں کرے گی جب تک نہ گزشتہ سال پانچ اگست سے پہلے کی پوزیشن بحال کی جائے ۔پی ڈی پی پہلے ہی اسی موقف پر کھڑی ہے، جموں میں پنتھرس پارٹی بھی سابق پوزیشن کی بحالی کی بات کرتی ہے اور لداخ کے ضلع کرگل میں دفعہ 370ہٹائے جانے کیخلاف اس روز احتجاج کے طور پر ہڑتال کی گئی ۔اس طرح سے سابق ریاست جموں و کشمیر کے تینوں صوبوں میں کہیں محدود تو کہیں وسیع پیمانے پر موجودہ پوزیشن کی قبولیت کیخلاف مزاحمت ان سیاسی قوتوں کی طرف سے ہورہی ہے جو قومی دھارے کا اٹوٹ حصہ رہی ہیں ۔ان میں سے کئی قوتیں ایسی ہیں جنہیں خود مرکز نے ہی پیدا بھی کیا اور عروج بھی دیا اور کچھ وہ بھی ہیں جنہوں نے ہر فیصلہ کن ، حساس اور اہم موقعے پر قومی مفاد کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا ۔
یہ ا س عزم اور عہد کی ناکامی ہے جو گزشتہ سال پانچ اگست کو خصوصی پوزیشن کا خاتمہ کرنے کے موقعے پر یہ کہہ کر کیا گیا تھا کہ جموں و کشمیر میں ترقی اور خوشحالی کے ایک دور کا آغاز کرکے عوام کو باور کرایا جائے گا کہ دفعہ 370ان کے لئے کتنی بڑی رکاوٹ تھا اور ان کے استحصال کا ذریعہ تھا ۔اس ایک سال میں تجارت کو چالیس ہزار کروڑ روپے کا خسارہ ہوا ۔کئی اہم شعبے جن میں ٹرانسپورٹ ، سیاحت ، میوہ جات ، چھوٹی صنعتیں ، دستکاریاں اور تعلیم شامل ہے بالکل ہی تباہ ہوکر رہ گئے ۔پچاس ہزار سرکاری نوکریوں کا وعدہ بھی وفا نہیں ہوا ۔ نہ سڑکوں کی مرتب ہوئی ، نہ جہلم کی کھدائی ہوئی نہ ڈل جھیل کی شان رفتہ بحال ہوئی ۔نہ نامکمل تعمیراتی پروجیکٹ ہی مکمل ہوسکے ۔مشکل سے ٹو جی انٹرنیٹ چالو کیا گیا ۔ اگر کوئی حصولیابی گردانی جاسکتی ہے تو وہ علیحدگی پسندسیاسی محاذ کا اوجھل ہوجانا اور جنگجووں کے خلاف کئی اہم کامیابیاں ہیں لیکن اس کے باوجودجنگجوو ں کی طرف سے سیاسی قتل بھی ہورہے ہیں اور فورسز پر حملے بھی ۔نئی بھرتیوں کا عمل ابھی بھی جاری ہے ۔اس طرح جنگجویت کے خاتمے کا دعویٰ بھی نہیں کیا جاسکتا ۔اندرونی محاذ پر اس صورتحال کے درمیان چین کی طرف سے وادی گلوا ن میں گھس آنے کے ساتھ ساتھ کھلے طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو ناجائز قرار دینا ۔ اقوام متحدہ میں یہ سوال اٹھانے کی کوشش کرنا اور ہند چین سرحد پر جنگی صورتحال کا پیدا ہونا وہ خارجی پہلو ہے جو یقینا تشویش کا باعث ہے ۔اس صورتحال کے بعد پاکستان نے جو نیا نقشہ تیار کیا اس میں جموں و کشمیر کی پوری کی پوری ریاست کو پاکستان کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے او آئی سی پر کشمیر کے مسئلے پر وزرائے خارجہ کا اجلاس بلانے کے لئے شدید دباو ڈالنا شروع کردیا ہے اور یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر سعودی عرب اس کے آڑے آگیا تو ہم خیال ملکوں کا متبادل اجلاس بلانے سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا ۔امریکہ چین کے معاملے میں بھارت کی زبردست حمایت کرنے کے ساتھ ہی اس پر کشمیر کی صورتحال بہتر بنانے پر بھی زور دے رہا ہے ۔
چنانچہ خارجی اور اندرونی دونوں محاذوں پر مرکزی حکومت کو اس صورتحال کا سامنا ہے جس کا شاید پہلے سے اندازہ بھی نہیں کیا گیا تھا ۔شاید یہی وجہ ہے کہ عین پانچ اگست کو ہی جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر مسٹر مرمو کو مستعفی ہونا پڑا اور ان کی جگہ ایک سیاسی شخصیت منوج سنہا کو لیفٹنٹ گورنر بنادیا گیا جنہوں نے فوری طور پر اپنا کام سنبھال لیا ہے ۔جموں کشمیر پہنچ کر انہوں نے سب سے پہلے جو بات کی وہ یہ ہے کہ انہیں ایک بھاری ذمہ داری سونپ دی گئی ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ان کے پاس کونسا ایسا معجزہ ہے کہ وہ صورتحال کو بدل کر رکھ دیں ۔ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اس خلیج کو پاٹ دینا ہے جو دفعہ 370کے خاتمے کے بعد پیدا ہوئی ہے ۔ اس خلیج کو پاٹنا ایک سال گزرنے کے بعد کارے دارد والا معاملہ ہے ۔وہ تعمیراتی سرگرمیوں کو بحال کرکے تیز تر ترقیاتی کام کرکے ۔ تباہ شدہ شعبوں کیلئے راحت پیکیج کے ساتھ نئی حرکت پیدا کرکے ۔ روزگار کے مواقع پیدا کرکے ایک نیا ماحول پیدا کرسکتے ہیں لیکن بنیادی مسائل پھر بھی باقی رہیں گے ۔اس کے لئے ایک جرات مندانہ اور وسیع المقاصد سیاسی عمل کی ضرورت ہے ۔اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ۔گو کہ بہ بی جے پی کے اپنے اہداف اور مقاصد کے منافی ہے لیکن دیکھنا یہی ہے کہ بی جے پی کے لئے اپنا ایجنڈا ہی زیادہ مقدم ہے یا حالات کے مطابق وہ اس میں ضروری تبدیلیوں پر راضی ہوسکتی ہے ۔
 لاکھوں کی تعداد میں ڈومیسائل سندیں اجراء کرنے کے بعد لازمی طور پر یہ اندیشہ دلوں میں گھر کر چکا ہے کہ جموں و کشمیر کے اکثریتی کردار کو تبدیل کرنے کی منصوبہ بند کوشش ہورہی ہے ۔ یہ ایسا اندیشہ ہے کو انتہائی شدیدذہنی دباو کا باعث بن رہا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی نئی حد بندیاں خود قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں کیلئے تشویش کا باعث ہے۔بی جے پی کے مقامی لیڈران بار بار کہہ چکے ہیں کہ اب جموں و کشمیر میں وزیر اعلیٰ جموں سے ہی ہوگا ۔ جموں کا وزیر اعلیٰ ہونا کوئی ناپسندیدہ معاملہ نہیں لیکن اگر اس کے لئے غلط طریقہ کار اختیار کیا گیا تو اسے قبولیت حاصل ہونا انتہائی مشکل ہے ۔ایسے خدشوں اور اندیشوں کے درمیان امن ، سکون، اطمینان اور ترقی کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے ۔بلکہ یہی وہ بیج ہوتے ہیں جن سے بے چینی ، فساد ، افراتفری اور بے اطمینانی کے لاوے پھوٹ پڑتے ہیں۔ماضی میں بھی یہی ہوا ہے اور اسی کے نتیجے میں قتل و غارت گری کے ایک طویل دور کے نقصانات پورے ملک کو جھیلنے پڑے ہیں۔
بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ مسائل کو حل کیا جائے نہ کہ دبایا جائے ۔ دبے ہوئے مسائل ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور وقت جب انہیں موقع دیتا ہے تو وہ زیادہ شدت کے ساتھ ابھر کر پہلے سے زیادہ بڑے مسائل کی صورت میں نئے مصائل کو جنم دیتے ہیں ۔انہی حقائق کا احساس کرتے ہوئے انورادھا بھسین کہتی ہیں کہ جموں کشمیر ایک آتش فشاں بن چکا ہے جو کبھی بھی پھٹ سکتا ہے اور ڈاکٹر حسیب درابو اور نعیم اختر کا تجزیہ بھی انہیں حقائق کی بنیادوں سے ابھرا ہے ۔اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر بہتری کا کوئی پہلو موجود نہیں ہے ،اس لئے مرکزی حکومت کو نئے سرے سے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے نئی حکمت عملی کے ساتھ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی ۔ایسا کرنے کے لئے یہ وقت بہت مناسب ہے ۔اس کے بعد ممکن ہے کہ چاہنے کے باوجود بھی مسائل کو حل کرنے کے مواقع باقی نہیں رہیں گے ۔ انسانی تاریخ ایسے تجربوں سے بھری پڑی ہے کہ مسائل کی ہیت تبدیل کرنے کی کوششوں نے ہی مسائل کو اتنا پیچیدہ بنایا کہ ان کا حل وسیع تر خونریزیوں اور تباہیوں کے باوجود بھی ممکن نہیں ہوسکا ۔خود برصغیر کی تاریخ کے تجربے اس بات کے گواہ ہیں ۔مسئلہ کشمیر مسائل کو ٹالنے اور ان کی ہیت تبدیل کرنے کی انہی کوششوں کا نتیجہ ہے اور اس کی ناقابل حل پیچیدگیاں بھی اسی کا نتیجہ ہے ۔ستر سال سے جو غلطیاں دہرائی جارہی ہیں،اگر آج انہیں درست کرنے کی کوشش کی جائے تو عجب نہیں کہ ڈیڑھ ارب سے زیادہ کی انسانی آبادی کو سکون اور اطمینان کا مستقبل نصیب ہوسکے ۔