تازہ ترین

کپوارہ میں کنٹرول لائن پر آر پار گولہ باری سے 6 عام شہری زخمی

تاریخ    7 اگست 2020 (21 : 04 PM)   


نیوز ڈیسک
سری نگر// ہندوستان اور پاکستان کی افوج کے درمیان بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر گولہ باری یا فائرنگ کے تبادلے کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے۔
جمعہ کو شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ کے کرناہ اور بارہمولہ کے بونیار سیکٹروں اور جموں کے ضلع پونچھ کے بالاکوٹ سیکٹر میں ایل او سی پر طرفین کے درمیان گولہ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں چھ عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔
فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا کے مطابق ”کپوارہ کے ٹنگڈار سیکٹر میں پاکستانی فائرنگ سے6شہری زخمی ہوگئے“۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے شہری آبادی کی طرف مارٹر گولے داغے جس کا بھارتی افواج نے ”موثر“ جواب دیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کپوارہ کے کرناہ سیکٹر ٹنگڈار میں آج پاکستانی فوج نے بھارتی ٹھکانوں پر اندھا دھند گولہ باری کردی جس کے نتیجے میں پہلے تین اور بعد میں مزید تین عام شہری زخمی ہوئے۔
زخمیوں میں تین کی شناخت محمد عارف ساکن شمس پورہ، محمد یعقوب ساکن باغ بالا کچا دیان اور سید رفاقت ساکن کچا دیان کے بطور ہوئی ہے۔
ذرائع نے کہا کہ ان میں سے دو کی حالت نازک ہے۔
بارہمولہ کے بونیار سیکٹر میں بھی ایل او سی پر پاکستانی فوج نے بھارتی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر گولہ باری کی جس کا وہاں تعینات فوجی جوانوں نے ”موثر“ جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ آخری اطلاعات ملنے تک طرفین کے درمیان گولہ باری کا سلسلہ جاری تھا تاہم کسی بھی جانب کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع فی الوقت موصول نہیں ہوئی ہے۔
دریں اثنا جموں میں دفاعی ذرائع نے بتایا کہ پونچھ کے بالاکوٹ سیکٹر میں ایل او سی پر جمعے کی ہی صبح قریب ساڑھے چھ بجے پاکستانی فوج نے بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنا کر گولہ باری شروع کردی۔
انہوں نے کہا کہ وہاں تعینات بھارتی فوجی جوانوں نے اس حملے کا بھر پور جواب دیا تاہم کسی بھی جانب کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سال 2003 میں جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے با وصف طرفین کے درمیان جموں و کشمیر کے سرحدوں پر ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے جس کی وجہ سے آر پار کی سرحدی بستیوں کے لوگوں کا جینا حرام ہو کے رہ گیا ہے۔
سرکاری اعداد شمار کے مطابق سال رواں کے دوران اب تک سرحد پر فائرنگ یا گولہ باری کے تبادلے کے ازئد از دو ہزار واقعات رونما ہوئے ہیں۔(مشمولات یو این آئی)