تازہ ترین

گورنروں کی تبدیلی سے امن و استحکام بحال نہیں ہوگا: حکیم

تاریخ    7 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


سرینگر//پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ چیئرمین حکیم محمد یاسین نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں گورنروں کو تبدیل کرنے سے نہیں بلکہ انصاف پر مبنی سیاسی نظام قائم کرنے سے ہی امن و استحکام بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ایک بیان میں حکیم یاسین نے کہا کہ 5اگست 2019کے بعد مرکز کی طرف سے یکطرفہ طور من ما نے طریقے پر جموں وکشمیر کا ریاستی تشخص پامال کرنے اور زمین و نوکریوں کے حقوق سلب کرنے سے مقامی لوگوں میں زبردست مایوسی اور عدم اعتماد کی لہر پیداہوگئی ہے جس کو بحال کرنے کے لیے سیاسی نظام اور جمہوری طریقے پر چنی ہوئی عوامی حکومت کا قیام لازمی ہے۔ حکیم یاسین نے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے من مانے طریقے پر ریاست کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے فیصلے سے جموں وکشمیر کے لوگوں میں سخت غم و غصہ پایا جاتا رہا ہے اور وہ مرکزی حکومت کے اس فیصلے کو ایک اور وعدہ خلافی اور دھوکے سے تعبیر کرتے ہیں۔ انہوں نے مرکزی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ لوگوں کے کھوئے ہوئے بھروسے اور اعتماد کو بحال کرنے کے لئے سیاسی ، سماجی و اقتصادی امنگوں اور توقعات کو پورا کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کریں۔ انھوں نے تمام مین سٹریم سیاسی جماعتوں و سماجی تنطیموں سے اپیل کی  کہ وہ جموں وکشمیر کے ریاستی تشخص اور زمین و نوکریوں پر لوگوں کے حقوق کی بحالی کے لئے یک جٹ ہو کر ایک مشترکہ لائحہ عمل وضع کریں تاکہ مرکزی حکومت سے اپنی مانگوں کو با اثر طریقے پر منوایا جاسکے۔ حکیم یاسین نے کہا جسطرح ایک سال گزرنے کے باوجود بھی حکومت کو ریاستی اور خصوصی درجے ختم کرنے کی برسی پر عام لوگوں اور سیاسی لیڈروں کو پھر ایک بار پھر قید و بند کرنا پڑا ،اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ زمینی سطح پر حالات ٹھیک نہیں ہیں۔حکیم یاسین نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر زور دیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ جموں وکشمیر کا ریاستی کردار بحال کرنے اور زمین و ملازمتوں پر پشتنی باشندوں کے حقوق کی پاسداری کے بارے میں کیے گئے اپنے وعدوں کو فوری طور پورا کریں تاکہ یوٹی میں جاری  سیاسی، سماجی و اقتصادی عدم استحکام کو دور کیا جاسکے۔