تازہ ترین

چیف سیکریٹری نے آتما نربھر بھارت ابھیان کے تحت جاری پیش رفت کا جائزہ لیا

خوانچہ فروشوں کیلئے خصوصی قرضہ سہولیت کے تحت 10ہزار روپے تک قرضہ فراہم کرنے کی سکیم شروع

تاریخ    7 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


 نجکاری کیلئے پبلک سیکٹر انٹر پرائزز کی نشاندہی کرنے کی تلقین

سرینگر//چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم نے ایک میراتھن میٹنگ میں آتما نربھر بھارت ابھیان کے مختلف شعبوں کے تحت جاری حصولیابیوں کے لئے کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیا۔واضح رہے کہ اس ضمن میں8 ٹاسک فورس پہلے ہی قائم کئے گئے ہیںسرمایہ کاری صنعتی شعبے کی بحالی و ترقی کے ٹاسک فورس نے میٹنگ کو جانکاری دی کہ ضلع معدنیاتی افسران کو ضلع معدنیاتی رقومات کا استعمال میڈیکل ٹیسٹنگ اور سکریننگ کے لئے استعمال کرنے جبکہ چھوٹے اور درمیانہ درجے صنعتوں کو حکومت کے ای۔ مارکیٹ پلیس ( جی ای ایم) اور ٹریڈس پورٹل کے لئے اپنا نام درج کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ مقامی مصنوعات کو ترجیح دینے کے عالمی رسائی پروگرام کے تحت جموںوکشمیر کی دستکاری و ہینڈ لوم ، ریشم ، پشمینہ بسوہلی مصوری ، قالین وغیرہ کی ڈیزائن، مداخلت ، خام مال ، امداد ، عام سہولیتی مراکز اور مارکیٹنگ میں مدد فراہم کر نے کے ذریعے ترقی دینے کے لئے نشاندہی کی گئی ہے ۔چیف سیکرٹری نے ٹاسک فورس کو نگرانی کے لئے اہداف مقرر کرنے کی ہدایت دی ۔انہوں نے تجارتوں بشمول چھوٹے اور درمیانہ درجے کے صنعتوں کے لئے ضمانت سے مبرا قرضہ جات اور موجودہ کریڈٹ لنکیڈ گارنٹی سکیم کے تحت فوری طور مالی امداد واگذارکرنے کے لئے کہا۔بینک مالیات قرضہ جات کی بحالی اور اس میں اضافہ کرنے کے لئے قائم کئے گئے ٹاسک فورس نے میٹنگ میں جانکاری دی کہ شرح سود میں کمی اور قرضہ جات کی فوری ادائیگی کے لئے مراعات ، فصل قرضہ جات اور ڈیری کواپریٹیوز تک بڑھایا گیا جبکہ خوانچہ فروشوں کے لئے خصوصی قرضہ سہولیت کے تحت ابتداً کام شروع کرنے کے لئے 10ہزار روپے تک قرضہ فراہم کرنے کی سکیم شروع کی گئی ہے ۔چیف سیکریٹری نے ٹاسک فورس کو ان پبلک سیکٹر انٹر پرائزز کی نشاندہی کرنے کے لئے کہا جن کی نجکاری ہوسکتی ہے۔ نمو کے لئے اصلاحات کے ٹاسک فورس نے جانکاری دی کہ ایک ملک ایک راشن کارڈ سکیم شروع کی گئی ہے ۔تجارت کرنے میں آسانی لانے سے متعلق اصلاحات کے بارے میں جانکاری دی گئی کہ 18 میں سے 14 نکتوں کا حصول یقینی بنایا گیا جبکہ باقی ماندہ پر کام جاری ہے۔صحت نظام کو بہتر بنانے ٹاسک فورس نے بتایا کہ ای ۔ سنجیو کے لئے کنسلٹنٹ خدمات سات مراکز اور 300 سپوکس میں متعارف کئے جارہے ہیں۔ صحت عملے کی کپسٹی بلڈنگ کے لئے 34083 ورکروں کو ڈی آئی کے ایس ایچ اے پلیٹ فارم پر کووِڈسے موثر طور نمٹنے کے لئے تربیت دی گئی ۔دریں اثنا بنیادی سطح پر ابتدائی طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے 1068 صحت و ویلنس مراکز کے قیام کے لئے بھی کوششیں جاری ہیں ۔ اس کے علاوہ دو صوبوں اور 13اضلاع سطح کے ہسپتالوں میں لیبارٹری ، نیٹ ورک کو بھی مستحکم کیا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ دو گورنمنٹ میڈیکل کالجوں ، پانچ ایسو سی ایٹ ہسپتالوں اور 13ضلع ہسپتالوں میں متعدی بیماری کے لئے بلاک قائم کئے جارہے ہیں ۔چیف سیکرٹری نے ناداروں بشمول مائیگرنٹوں اور غریبوں کی بہبودی کے ٹاسک فورس کو پی ایم اے وائی کے تحت شہری غربا کے لئے کمی کرایہ والے کرایہ کمپلیکس کی تعمیر کا کام ہاتھ میں لینے کے لئے کہا۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ پردھان منتری غریب کلیان ان یوجنا کے تحت 71.4لاکھ نفوس میں چاول اور دالیں اور 16.4لاکھ نفوس بالترتیب تقسیم کئے گئے ۔اس کے علاوہ پردھان غریب کلیان یوجنا کے تحت غریب بزرگوں ، بیوائوں ، جسمانی طور معذور افراد کے حق میں 1.45لاکھ ( 1000 فی فرد) بطور عبوری امداد تقسیم کئے گئے۔اس کے علاوہ بی او سی درج تعمیراتی کامگاروں کے حق میں  1000روپے فی کس تین اقساط میں 63.60 کروڑ روپے ،1.56لاکھ ایسے کامگاروں میں تقسیم کئے گئے جبکہ جموںوکشمیر لائیولی ہڈ مشن کے تحت 3,022اپنی مدد آپ گروپوں میں 4.53کروڑ روپے تقسیم کئے گئے ۔ٹیکنالوجی اور معیاری تعلیم میں بہتری لانے کے لئے تشکیل دئیے گئے ٹاسک فورس نے میٹنگ میں جانکاری دی کہ ای۔ پاٹھ شالہ کے استعمال میں اضافہ کرنے کے لئے 6سے12جماعت کے طلباء کے لئے 6لاکھ ٹیلبٹس اور اساتذہ کے لئے 1.25لاکھ ٹیبلٹ فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔پی ایم ای۔ وِدیا پروگرام کے تحت ریڈیو سیٹ ہر پنچایت کو فراہم کئے جارہے ہیں جبکہ منو درپن کے تحت ہر ضلع میں کونسلنگ ریسورس مراکز قائم کئے جائیں گے اور کسانوں اور ماہرگیروں کی بہبودی کے لئے تشکیل دئیے گئے ٹاسک فورس نے جانکاری دی کہ کسان کریڈٹ کارڈ کے اجرا ٔکے تحت صد فیصد بنیادی درج کی گئی ہے ۔میٹنگ میںفائنانس ، صحت اور میڈیکل ایجوکیشن ، ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ ، سکول ایجوکیشن ، ایگریکلچر پروڈکشن اینڈ فارمرس ویلفیئر ، پاور ڈیولپمنٹ ، صنعت و حرفت ،محنت و روزگار اور منصوبہ بندی و نگرانی محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں نے شرکت کی۔