تازہ ترین

اﷲ تعالیٰ قرآن پاک کا محافظ

دینیات

تاریخ    7 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کتاب کی حفاظت
 اللہ رب العزت نے سورہ الحجر میں فرمایا۔ترجمہ’’بے شک ہم نے ہی اس ذکر (قرآن پاک) کو نازل کیا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘(سورہ الحجر آیت نمبر ۹؎)۔اس آیت کی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔’’تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن پاک کی حفاظت کچھ اس طرح سے کی ہے کہ اگر مسلمان عمل سے دور ہو گئے۔اور انہوں نے خدمت قرآن کو چھوڑ دیا تو اللہ نے دشمنان قرآن کو ایمان کی دولت سے نواز کر محافظ قرآن بنا دیا۔اس کی سب سے بڑی مثال ۱۳ویںتیرھویںصدی کا وہ عظیم الشان تاریخی واقعہ ہے ،جب تاتاریوں نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی تھی۔مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کئے گئے ،خون کی ندیں بہا دی گئیں۔ان کے کتب خانے اور ان کی علمی کاوشوںکو تا تاریوںنے تہس نہس کر کے رکھ دیا۔کبھی دجلہ و فرات کا پانی ان کمزور مسلمانوں کے خون سے رنگین ہو گیا ۔کبھی ان کی کتابوں کی سیاہی سے پانی کا رنگ کالا ہو گیا۔ان حالات کو دیکھ کر کمزور ایمان کے لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ اب دنیا سے اسلام اور قرآن (نعوذ با للہ)مٹ جائیں گے۔لیکن اچانک اللہ رب العزت نے تا تاریوں کو ایمان کی توفیق عطا فرما دی ۔اور وہ ایمان قبول کر کے ’’محافظ قرآن‘‘بن گئے۔قرآن پاک کا ایک ایک لفظ محفوظ ہے۔اس کی تعلیمات اور انداز تعلیم تک محفوظ ہے۔قرآن پاک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احا دیث صرف کاغذوں کی حد تک نہیں بلکہ اہل ایمان کے سینوں میں بھی محفوظ ہیں۔آج دنیا میں اس قرآن پاک کے تقریباً تین لاکھ ’’حافظ قرآن‘‘موجود ہیں۔جن کے سینے قرآن کے نور سے منور روشن ہیں۔صرف الفاظ کی حد تک نہیں بلکہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم کی احادیث اور اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک ادا کے ہزاروںحافظ گذرے ہیں۔علمائے اُمت نے دین کی حفاظت کے لئے وہ کچھ کیا جو کسی اُمت نے نہیں کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے غریب مسلمانوں کو اس مقصد کے لئے منتخب فرما لیا۔اور ان سے حفاظت قرآن کا وعدہ پورا کیا۔کتنی عجیب بات ہے کہ قرآن پاک کی حفاظت ہمیشہ معاشرے کے کمزور اور غریب لوگوں نے کی ہے۔آج بھی اگر دیکھا جائے تو تین لاکھ ’’حا فظ قرآن‘‘یا صبح و شام تلاوت کرنے والے یا قرآن و حدیث پڑھنے پڑھانے والے یہی لوگ ہیں جن کے پاس دنیاوی دولت نہیں ہے۔اور وہ معاشرے کے کمزور لوگ ہیں۔لیکن ان کے دل قرآن پاک کے نور سے منور و روشن ہیں۔یو ں تو اللہ رب العزت جس کو بھی توفیق فرمادے وہ حافظ قرآن بن جا تا ہے۔لیکن عام طور سے دیکھا گیا ہے کہ جس کے پاس چار پیسے آ جاتے ہیں ۔وہ تو اپنے بچے کو قرآن پاک حفظ کرنے کرانے کو وقت ضائع کرنے کے برابر سمجھنے لگتا ہے۔سوائے اللہ کے اُن بندوں کے جن کے لئے دولت مندی اور غربت دونوں برابر ہوتی ہے۔وہ اپنے بچوں کو دین پر قائم رکھتے ہیں۔عام طور پر کسی بڑے لیڈر،سرمایہ دار اور سرداروںکے بچے ’’حافظ قرآن‘‘اور عالم دین بہت کم بلکہ نہیں کے برابر ہوتے ہیں۔اور ذیادہ تر غریب و مفلس گھرانے کے بچے قرآن پاک کو حفظ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جس سے چاہتا ہے قرآن پاک کی حفاظت کا کام لے لیتا ہے۔(تفسیر بصیرت القرآن سورہ الحجر آیت نمبر ۹؎)۔
قرآن کی حفاظت دیکھ کر اسلام قبول کر لیا
 اللہ رب العزت نے خود قرآن پاک کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔سورہ الحجر کی آیت نمبر ۹؎ کی تفسیر میں علامہ غلام رسول سعیدی اور مولانا مفتی محمد شفیع اپنی اپنی تفاسیر میں امام محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کیاہے۔کہ علامہ قرطبی لکھتے ہیں۔ابو الحسن علی بن خلف نے اپنی سند کے ساتھ یحییٰ بن کثم سے روایت کیا ہے۔کہ جب ہارون رشید حکمراں تھا تو اُس نے ایک علمی مجلس منعقد کی ۔اس مجلس میں ایک یہودی آیا،جس نے عمدہ لباس پہنا ہوا تھا اور بہترین خوشبولگائی ہوئی تھی۔اس نے بہت نفیس اور ادیبانہ گفتگو کی ۔جب مجلس ختم ہوئی تو مامون رشید نے اُسے بلا کر پوچھا۔کیا تم اسرائیلی ہو؟اس نے کہا ،ہاں ۔مامون نے کہا ۔اگر تم اسلام قبول کرلو تو میں تمہیں بہت انعام و اکرام دوں گا اور بہت بڑے منصب پر فائز کروں گا۔اس نے کہا ،میں اپنے آباؤ اجداد کے دین کو نہیں چھوڑ سکتا ہوں۔یہ کہہ کر وہ چلا گیا اور بات ختم ہو گئی۔اگلے سال مامون نے پھر مجلس منعقد کی۔اس مجلس میں جب وہ یہودی آیا تو وہ مسلمان ہو چکا تھا۔اس نے فقہی مسائل پر کلام کیا اور بہت عمدہ بحث کی ۔جب مجلس ختم ہو گئی تو مامون نے اسے بلا کرپوچھا۔کیا تم پچھلے سال میری مجلس نہیں آئے تھے؟اس نے کہا۔ کیوںنہیں،ضرور آیا تھا۔مامون نے پوچھا۔پچھلے سال تم نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا ،پھر کیا وجہ ہوئی کہ تم نے اسلام قبول کرلیا؟اس نے کہا ۔آپ کی مجلس سے جانے کے بعد میں نے یہودیوں،عیسائیوں اور مسلمانوں کے مذاہب کی تحقیق کا ارادہ کیا۔آپ تو جانتے ہیں کہ میں کاتب ہوں اور میری کتابت بہت خوب صورت ہے۔میں نے توریت کے تین نسخے لکھے اور ان میں کمی بیشی کر دی۔پھر تینوں نسخے لیکر یہودیوں کے معبد گیا ۔تو اُنہوں نے توریت کے تینوں نسخے مجھ سے خرید لئے۔میں کئی ہفتے ان کے معبد جاتا رہا،لیکن اُنہوں نے کچھ نہیں کہا۔پھر میں نے انجیل کے تین نسخے لکھے اور ان میں بھی کمی بیشی کر دی اور لیکر عیسائیوں کے گرجا میں گیا ۔اُنہوں نے بھی تینوں نسخے خرید لئے ،میں کئی ہفتے ان کے گرجا میں جاتا رہا ۔اور انہوں نے بھی مجھ سے کچھ نہیں کہا۔اسکے بعد میں نے قرآن پاک کے تین نسخے لکھے اور ان تینوں نسخوں میں بھی کمی بیشی کردی۔اور لیکر مسلمانوں کے کتب خانے(کتاب کی دوکان یا لائبریری) میں گیا تو انہوں نے تینوں نسخے خرید لئے ۔لیکن جب میں دوسرے دن کتب خانہ گیا تو مسلما نوں نے وہ تینوں نسخے مجھے واپس کردئیے اور میری ایک ایک کمی بیشی کی نشاندہی کی۔اس طرح میں نے جان لیا کہ یہ کتاب محفوظ ہے۔اور میں نے اسلام قبول کرلیا۔یحییٰ بن کثم اس کے بعد آگے کہتے ہیں۔میں اسی سال حج کرنے گیا تو میری ملاقات سفیان بن عیینہ سے ہوئی ۔میں نے انہیں یہ واقعہ سنایا تو انہوں نے کہا۔یہ خبر سچی ہے اور قرآن پاک میں اس کی تصدیق ہے۔انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے توریت اور انجیل کی حفاظت ان کے علماء کے سپرد کردی ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا۔ترجمہ’’بے شک ہم نے توریت نازل کی ،جس میں ہدایت اور نور ہے۔جس کے مطابق انبیاء فیصلے کرتے رہے،جو ہمارے تابع فرمان تھے۔اُن لوگوں کا جو یہودی تھے۔اور اسی کے مطابق علماء فیصلہ کرتے رہے ،کیونکہ وہ اللہ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے۔‘‘(سورہ المائدہ آیت نمبر ۴۴؎)۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایاکہ یہود کو توریت اور نصاریٰ(عیسائیوں)کو انجیل کا محافظ بنایا گیا تھا۔اور قرآن پاک کا محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے۔جیسا کہ سورہ الحجر کی آیت نمبر ۹؎ میں فرمایاہے۔(تفسیر قرطبی،تفسیر تبیان القرآن،تفسیر معارف القرآن،سورہ الحجر آیت نمبر ۹؎)۔
اللہ رب العزت قرآن پاک کا محا فظ ہے
 سورہ الحجر کی آیت نمبر ۹؎ کی تفسیر میں مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔اللہ رب العزت نے خود قرآن پاک کی حفاظت کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔اس کی حفاظت کا ذمہ دار انسانوں کو نہیں بنایا۔جبکہ توریت شریف کی حفاظت ان کے علماء اور مشائخ کے ذمہ ڈالی گئی تھی۔سورہ المائدہ کی آیت نمبر ۴۴؎ میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اسی ذمہ داری کو بیان فرمایا ہے۔قرآن پاک ہر طرح کے تغییر اور تبدیل اور تحریف اور کمی بیشی سے محفوظ ہے۔اس کی تمام قرآت اور روایات کے جاننے والے ،پڑھنے پڑھانے والے اور حفظ کرنے والے ہمیشہ سے موجود ہیں۔اور جب تک اللہ کی مشیت ہو گی ہمیشہ موجود رہیں گے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن پاک مسلمانوں کو عطا فرمایا ہے ،وہ آج تک مسلمانوں کے پاس محفوظ ہے۔اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی شخص کر سکتا ہے۔اگر کوئی شخص غلط پڑھے گا یا غلط چھاپ دے گاتو فوراًپکڑا جائے گا۔اسّی ۸۰سال کا قاری یا حافظ کسی جگہ اگر غلطی کر دے تو نو سال کا بچہ جس نے قرآن حفظ کر رکھا ہو اُسی وقت ٹوک دے گا۔سینکڑوں سال پہلے کے لکھے ہوئے قرآن پاک کے نسخے دیکھ لو،جو مسلسل یکے بعد دیگرے لکھے گئے ہیں۔وہ سب ابتداء سے انتہاء تک الفاظ اور حروف اور کلمات اور ترتیب آیات کے اعتبار سے با لکل پوری طرح متفق ہیں۔کوئی فرق نہیں اور کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کو دوست دشمن سب مانتے ہیں۔یہ قرآن پاک اللہ رب العزت کی حفاظت میں ہے۔شیاطین سے بھی محفوظ ہے،ملحدین سے بھی،منکرین سے بھی،اور محرفین سے بھی محفوظ ہے۔(تفسیر انوارالبیان،سورہ الحجر آیت نمبر ۹؎)۔
 

تازہ ترین