اسپین کی جغرافیائی حدود

تاریخ

تاریخ    7 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


شفیق آئمی
ملک اسپین ”جزیرہ نما“ ہے اِس کے تین سمتوں میں سمندر ہے ۔ مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم ہے جسے ”بحر متوسط ، بحرشام اور بحر مشرق“ بھی کہتے ہیں ۔ جنوب میں آبنائے ”جبل الطارق“ ہے جسے آج کل آبنائے ”جبرالٹر“ کہا جاتا ہے اور اِسے عرب ”بحر زقاق“ بھی کہتے ہیں۔ ”آبنائے جبل الطارق“ ملک اسپین کے جنوبی گوشہ اور براعظم افریقہ کے شمالی گوشہ میں ہے ۔ یہی آبنائے براعظم یورپ کو براعظم افریقہ سے الگ کرتی ہے کیونکہ ملک اسپین براعظم یورپ کا حصہ ہے ۔ ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ، مغرب میں اور شمال مغرب میں اور شمال میں ”بحر اوقیانوس“ ہے ۔ جسے عرب ”بحر محیط ، بحر ظلمات ، بحر مظلم اور بحر اعظم“ بھی کہتے ہیں۔ آج کل اِس کا نام ”بحر اٹلانٹک“ بھی ہے۔ ملک اسپین براعظم یورپ کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور شمالی افریقہ کے شمال مغرب میں واقع ہے ۔ شمالی افریقہ کے ملک ”مراکش“ اور ملک اسپین کے درمیان سمندر ایک چھوٹی سی ”آبنائے“ میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ بحیرہ روم براعظم یورپ کے جنوب میں اور براعظم افریقہ کے شمال میں واقع ہے ۔ بحیرہ روم کے مشرق میں ملک شام اور ملک ترکی واقع ہے ۔ اگر ہم ملک شام سے بحیرہ روم میں مغرب کی طرف آگے بڑھیں گے تو شمال میں ہمیں ملک ترکی ملے گااور جنوب میں فلسطین اور ملک مصر ملیں گے ۔ جب ہم مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو شمال میں ملک یونان ملے گااور جنوب میں ملک لیبیا ملے گا ۔ جب ہم بحیرہ روم میں مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو شمال میں ملک اٹلی ملے کا جس کے ایک شہر ”روم“ کے نام پر اِس چھوٹے سمندر کا نام ”بحیرہ روم“ رکھا گیا ہے اور جنوب میں ملک تیونس ملے گا۔ جب ہم بحیرہ روم میں مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو ہمیں شمال میں ملک فرانس ملے گا اور جنوب میں ملک الجیریا ملے گا ۔ جب ہم بحیرہ روم میں مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو ہمیں شمال میں ملک اسپین (اندلس ، ہسپانیہ) ملے گا اور مغرب میں ملک مراکش ملے گا ۔ اب ہم بحیرہ روم میں جیسے جیسے مغرب کی طرف آگے بڑھتے جائیں گے تو ملک اسپین اور ملک مراکش ایکدوسرے سے قریب آتے جائیں گے اور بحیرہ روم شمال اور مغرب میں کم ہوتا جائے گا یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ بحیرہ روم ایک چھوٹی سی” آبنائے“ میں تبدیل ہوجائے گا ۔یہ” آبنائے جبل الطارق“ (جرالٹر) ہے جس کی چوڑائی چودہ (۴۱) کلو میٹر ہے۔ یہاں براعظم افریقہ اور براعظم یورپ دونوں ایکدوسرے کے بے حد قریب آگئے ہیں ۔ اِس کے بعد جب ہم بحیرہ روم میں مغرب کی طرف اور آگے بڑھیں گے تو کچھ دور چلنے کے بعد اچانک یہ آبنائے ختم ہوجائے گی اور ہم ایک بہت ہی بڑے اور بہت ہی وسیع سمندر ”بحراوقیانوس“ میں داخل ہوجائیں گے ۔ ملک اسپین ایک ”جزیرہ نما“ ملک ہے ۔ اِس کے شمال مشرق میںملک فرانس ہے اور جنوب مغرب میں ملک پرتگال ہے ۔ پرتگال کے مغرب میں ”بحراوقیانوس“ ہے ۔ ملک اسپین کے شمال میں ”بحر اوقیانوس“ کی ”خلیج بیکس“ ہے اور شمال مغرب میں ”بحر اوقیانوس“ ہے ۔ ملک اسپین کے مشرق میں ”بحیرہ روم“ ہے اور یہی ملک اسپین کے جنوب میں بھی ہے جو ایک وقت چھوٹی سی” آبنائے“ بن گیا ہے ۔” آبنائے“ کے آگے ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ”بحراوقیانوس“ ہے۔ ملک اسپین کے شمال مشرق میں ملک فرانس ہے اور صرف یہی ایک ملک ہے جس کی زمینی سرحد ملک اسپین کی زمینی سرحد سے ملتی ہے ۔ اِس کے علاوہ ملک اسپین کے مغرب میں ایک چھوٹا سا ملک ”پرتگال“ ہے جس کے بھی تین اطراف سمندر ہے اور صرف ایک طرف ملک اسپین کی سرحد ہے ۔ یوں سمجھ لیں کہ ملک پرتگال ملک اسپین کا ”بغل بچہ“ ہے جو اُس کے جنوب مغرب میں واقع ہے ۔ 
 

تازہ ترین