’تھری جی ‘تو نا ملا ،اب’ فورجی ‘تو دیں

مرثیہ خواں

تاریخ    6 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


محمد ارشد چوہان
پندرہ اگست2017کو وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کی سترویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے اپنے روایتی انداز میں تقریر کی۔شعلہ بیانی میں توخیر وہ گفتار کے غازی ہیں ہی جیسا کہ کرپشن ختم کر دوں گا، بے روز گاری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکوں گا، کوئی غریب نہیں رہے گا، چوری سے ملک کے باہر بھیجا گیا دھن واپس آئے گا اور معیشت میرے آتے ہی آسمان سے باتیں کرنے لگے گی وغیرہ۔ یہ سب  نریندرمودی کی بے پناہ تقریری صلاحیتوں کا کمال تھا کہ ان میں ایک کام بھی ڈھنگ سے نہیں کیا لیکن دونوں مرتبہ یعنی2014 اور2019 میں جی بھر کے ووٹ بٹورے ۔ چلتے ہیں موضوع کی طرف، لال قلعہ سے اس بھاشن میں موصوف نے جموں و کشمیر کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور باقی ہم وطنوں کو صاف الفاظ میں ہدایات جاری کیں کہ 'نہ گولی سے نہ گالی سے، کشمیر کی سمسیا سلجھے گی گلے لگانے سے" ۔بظاہر تو بڑی اچھی بات لگی لیکن اندرون خانہ کچھ اور ہی لاوا پک رہا تھا جو بالآخر 5 اگست2019 کو پھٹا۔گالی ، گولی اور گلے تینوں الفاظ انگریزی حرف تہجی" جی" سے شروع ہوتے ہیں۔ اسلئے یہ تھری جی کے نام سے مشہور ہوا ۔ اس تقریر کے بعد سیاسی مبصرین و عام آدمی کے دل میں بھی امید کی کرن جاگی کہ وزیر نریندر مودی جموں و کشمیر کے حوالے سے سنجیدہ ہو گئے ہیں، شاید اب کوئی بات بنتی نظر آئے۔گولی، گالی، گلے (تھری جی) کو جموں و کشمیر کے حوالے سے خوش آئند سمجھا جانے لگا ۔ ادھر ریاست جموں و کشمیر میں پی ڈی پی جو کہ بی جے پی کے ساتھ اتحادی حکومت بنائے ہوئے تھی ،کا بھی یہ بیانیہ تھا کہ "نہ گرینڈ سے نہ گولی سے، بات بنے گی بولی سے" ۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ پی ڈی پی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ2014میں اتحاد بھی اسی لئے کیا تھا کہ مودی جموں و کشمیر کے حوالے سے کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔مفتی محمد سعید مرحوم کا خیال تھا کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی مرحوم نے اپنے دور حکومت میں جموں و کشمیر کے حوالے سے کافی لچک دکھائی تھی اور وہ اس ایشو کو لے کر کافی سنجیدہ بھی تھے لیکن اس بار سب کچھ توقعات کے برعکس نکلا ۔ 
 سوال ہے کہ کیا وزیراعظم کے اس تھری جی فارمولے کے بعد جموں و کشمیر کے لوگوں کی تضحیک میں کچھ کمی آئی؟ جواب نہیں میں ہے ۔ مختلف ٹی وی چینلوں پر مخصوص مائند سیٹ کے لوگوں کو بلا کر تضحیک آمیز بیانات دلوائے جانے لگے بلکہ اندرون حکومت ڈوبھال ڈاکٹرین پر مکمل عملدرآمد شروع ہو گیا۔ اس تقریر کا دوسرا جی "گولی" میں مزید اضافہ ہی ہوتا گیا، سیکورٹی اہلکار، سویلین اور مسلح مزاحمتی لوگوں سمیت کئی لوگوں نے اپنی جانوں سے ہاتھ گنوائے ۔ لائین آف کنٹرول پر تناؤ شدید رہا ۔ دھڑلے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا گیا۔ ایک آر ٹی آئی کے جواب میں وزارتِ داخلہ(حکومت ہند) کا کہنا ہے کہ دو ہزار انیس میں جموں و کشمیر میں لائین آف کنٹرول پر 3279 مرتبہ سیز فائر حدبندی کی خلاف ورزی کی گئی ۔یہ تعداد  پچھلے سولہ برسوں میں پہلی دفعہ اتنی بڑی ہے ۔ نریندر مودی کے تیسرے "جی" یعنی "گلے لگانے" والی بات بھی زیادہ سچ ثابت نہیں ہوئی ۔ ریاست جموں و کشمیر میں ایک منتخب حکومت کو گرا کر گورنر راج نافذ کرنا، گورنر کے آفس کی فیکس مشین کا اچانک خراب ہوجانا، جموں و کشمیر کو آئین ہند میں حاصل خصوصی پوزیشن کو یک جنبش قلم ختم کر دینا اور ریاست کو دو حصوں (جموں و کشمیر اور لداخ) میں تقسیم کرنا، ریاستی درجہ ختم کر کے یونین ٹریٹری بنا دینا اور پھر ڈیجیٹل دنیا کے اس دور میں پچھلے ایک سال سے فور جی انٹرنیٹ کی مسلسل معطلی یہ سب وہ عوامل ہیں جن سے یہاں کی عوام کے جذبات کو کاری ضرب لگی ہے ۔
 دوسری جانب جموں و کشمیر کے ہزاروں طلباء اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے جموں و کشمیر سے باہر دیگر ریاستوں کی جامعات میں مختلف شعبہ جات میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ آجکل کووڈ کی وجہ سے ہیلتھ ایمرجنسی ہے اور زیادہ تر طالب علم اپنے گھروں کو لوٹے ہوئے ہیں ۔ویسے تو یہاں کے سکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں کے طالب علم تو پانچ اگست2019 سے ہی مسلسل زبوں حالی کا شکار ہیں۔ مناسب انٹرنیٹ سروس نہ ہونے کی وجہ سے آن لائن کلاسز سے بھی محروم ہیں، سو اسطرح سبھی ایک صف میں ہی کھڑے ہیں ۔یہاں سب سے زیادہ پریشانی ان طلباء کو درپیش ہے جو جموں و کشمیر سے باہر تعلیم حاصل کر رہے ہیں کیونکہ جموں و کشمیر کے طالبعلم جو باہر مختلف جامعات میں ہیں، کے کلاس میٹز، جو دیگر ریاستوں سے ہیں باضابطہ طریقے سے کلاسز کر رہے، اپنا نصاب مکمل کر رہے ہیں لیکن یہاں کا سٹوڈنٹ فاسٹ انٹرنیٹ سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ان دیگر کلاس فلوز سے کوسوں دور رہ گیا ہے۔ تھری جی فارمولہ کو عملی جامعہ پہنانے سے تو رہے ،کم از کم فی الحال فور جی انٹرنیٹ سروس ہی بحال کر دیتے تاکہ ہزاروں کی تعداد میں طالبعلم پریشان نہ ہوتے۔
(کالم نگار کا تعلق پونچھ جموں و کشمیر سے ہے اور آپ جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں ریسرچ سکالر ہیں)
ای میل :  mohdarshid01@gmail.com 
 

تازہ ترین