ملازمتوں کیلئے اعلیٰ تعلیم یا فتہ ہونا ایک جرم

میں بُلبل ِ نالاں ہوں اک اُجڑے گلستاں کا!

تاریخ    6 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


ڈاکٹر محمد اشرف خواجہ | مترجم :آصف اقبال شاہ، لولاب کپوارہ
 یونین پبلک سروس کمیشن کے ایک تازہ حکمنامے کے مطابق گریجویٹ امیدواروں  کے علی الرّغم اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو سیول سروس امتحان میںشامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔اس نو ٹیفکیشن کے پس پردہ کیا محرکات ہیں ،یہ جا ننا ابھی باقی ہے۔حکومت میں موجود افسران اور بیورو کریٹس اس حوالے سے کیا موقف رکھتے ہیں اور کس طرح سے اس معا ملے کو دیکھتے ہیں؟۔ ظاہر ہے اسکی بھی ابھی صرا حت نہیں ہوئی ہے ۔کئی سارئے افسران ایسے بھی ہیں جنہوں نے خود ڈاکٹریٹ اور ماسٹرس ڈگریاں حاصل کرنے بعد سول سروس امتحان میں حصہ لیا ہو۔ کیا ماضی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو کبھی سول سروس امتحانات میں شامل ہونے سے محروم رکھا گیا؟ کیا عدلیہ میں اسکی کوئی گنجایش باقی ہے؟ کیا ایک متحرک سیاسی نظام کو چلانے کے لئے ایسی کوششیں بار آور ثابت ہوسکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ  اسطرح قوم کی نیا کنارے نہیں لگ سکتی ہے بلکہ مستحقین کی حق تلفی ہوجاتی ہے ،نا انصافی اور لاقانونیت کا بازار گرم ہو جاتا ہے،اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کے حقوق پر شب خون مارنے کے لئے ماحول ساز گار بن جا تا ہے۔ غرض وہ ہوتاہے جو کسی اندھی نگری کے چوپٹ راج میں بھی نہیں ہو تا ہے۔ فی الاصل ہوتا یہ ہے کہ دسویں جماعت میں کامیاب قرار پائے بے روزگار لوگوں کو گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ لوگوں پر تر جیح دی جاتی ہے۔ میرے کہنے کا اصل مطلب یہ ہے کہ سرکار کی جانب سے مختلف محکمہ جات میں درجہ چہارم اسامیوں کو پُر کرنے کے سلسلے میںجاری شدہ ایک تازہ نو ٹیفکیشن کے مطابق جموں و کشمیر کے بے روزگار لوگ جنکی تعلیم گریجویشن یا اس سے زیادہ ہو، اُنہیں فارم بھرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور نتیجتاً ان ہزاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو فارم بھرنے سے محروم رکھا جارہاہے۔ 
جموں و کشمیر سروس سلیکشن بورڈ نے درجہ چہارم8575 اسامیوں کو پُر کرنے کے سلسلے میں آن لان درخواستیں جمع کرانے کے لئے با ضابطہ طور ایک نو ٹیفکیشن بتاریخ 26//06/2020جاری کی۔اس نو ٹیفکیشن کی رو سے بارہویں جماعت میں قرار پائے گئے لوگوں کے علاوہ  کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ امیدوار کی درخواست کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایسا پہلی بار دیکھنے کو مل رہا ہے اور شاید ہی کسی متمدن سماج میں ایسا ہوسکتا ہے۔ یہ طریقہ عمل صرف غیر مناسب ہی نہیں بلکہ اعلیٰ یافتہ لوگوں کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہے۔تعلیم یافتہ لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنا متمدن قوموں کا شیوہ نہیں ہوتا ہے۔ اب اگرسرکار سچ مچ بے روزگاری کا قلع قمع کرانے کے لئے کمر بستہ ہے اور نت نئے طریقوں سے اسکا سدِ باب ڈھونڈنے میں سرگرداں ہے تو کیا ایسے حربوں سے  بیروزگاری کے سیلاب کو روکا جا سکتا ہے؟ہر گز نہیں۔ سرکار کی جانب سے تازہ نو ٹیفکیشن کے مطابق درجہ چہارم اسامیوں کیلئے اہل شدہ امیدوار بارہویں جماعت میں پاس ہونے والے کم عمر لوگ ہیں جو فی الوقت بارہویں جماعت پاس یا گریجویشن کر رہے ہیں اور انکی عُمر بیس سال سے کم ہے۔ ایسے میں یہ نوجوان نسل حصولِ تعلیم کی دہلیز پر کھڑے ہیں اور ر فی الوقت ان لوگوں کو ر وزگار کی کوئی زیادہ مجبوری نہیں ہے اس کے برعکس وہ ہزاروں اعلیٰ تعلیم لوگ جن کی عمر تیس سال سے زیادہ ہوچکی ہے اور بڑی بڑی ڈگریا ں کرکے روز گار کی تلاش میں دن رات سرگردان ہیں ۔فی الحقیقت  سینکڑوں ڈاکٹریٹ امیدوار بے روزگاری کے سیلاب میں ہچکولے کھا رہے ہیں ۔ کیاحکومت ان پڑھے لوگوں کو کیوں محروم رکھنا چا ہتی ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے اور اس سوال کا جواب ابھی آنا باقی ہے۔ انکی نا اہلیت اور محرومیت کی وجہ صرف یہ ہے کہ انکے پاس بڑی بڑی ڈگریاں ہیں۔درجہ چہارم اسامیوں کے لئے انکا انتخاب موزون نہیں ہوگا اور یہ انکے ساتھ زیادتی ہوگی۔ شاید منصوبہ ساز لوگوں کے ذہنوں میں  یہی ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو کیونکر درجہ چہارم اسامیوں کے لئے تعینات کیا جائے۔ تو پھر سرکاری منصوبہ سازوں سے پو چھا جا سکتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کے بارے میں کیا سوچا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری میں ہماری تعلیم یافتہ نسل ڈپریشن کی شکار ہے۔ دفتروں میں ہزاروں تعلیم یافتہ لوگوں کی اسناد دھول چاٹ رہی ہیں۔ اگر ایک پوسٹ گر یجویٹ اور یا ڈا کٹریٹ کو درجہ چہارم اسامی کے لئے تعینات کیا جائے تو یہ کوئی جرم نہیں بلکہ ایسے کام میں سُرعت اور شفا فیت کے امکانات بڑ جاتے ہیں لیکن یہاں تو اُلٹی گنگا بہتی ہے۔ اقرباپروری اور رشوت خوری کے ہوتے ہوئے انصاف کی امید رکھنا عبث ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو موقع دے کر دفتری طوالت کو دور کیا جا سکتا ہے،رشوت خوری کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے اور شفا فیت کا ڈھنکا بجا یا جا سکتا ہے۔دوم ہزاروں پڑھے لکھے لوگوں کو روز گارحا صل کرنے کے موقع فراہم ہوسکتے ہیں۔ ان میں سینکڑوں لوگ ایسے ہیں جنکی عمر تیس سال سے لے کر چالیس سال کے قریب ہوچکی ہے اور زندگی کی جنگ میں مایوسی کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ ایسے لوگوں کو تر جیحی بنیادوں پر روزگار فرا ہم کرانے کے سلسلے میں منصوبہ بندی کرنا، مختلف روزگار کے مواقع ڈھونڈنا اور دفتروںمیں خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر بھرتی عمل شروع کرنا وقت کی ضرورت ہے، تب کہیں بے روزگاری کو کسی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ کاغذی گھوڑے دوڑانے سے جنگیں نہیں لڑی جاتی ہیں۔ سوم، یہ وہ لوگ ہیں جو سرکار کی فوری توجہ چاہتے ہیں اور انکو محروم رکھنا آئین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ ضرورت ہے کہ ایسے فیصلوں پر ایک بار پھر سوچ کر ان میںترمیم کی جائے تاکہ ہزاروں تعلیم یافتہ لوگوں کی زندگیوں کو خراب ہونے سے بچا یا جاسکے۔ نو ٹیفکیشن پر جتنی جلدی نظر ثانی کی جائے، اتنا بہتر ہے۔   حقیقت  یہ ہے کہ ہزاروںتعلیم یا فتہ لوگ ابھی ان حالات میں بے شمار مسائل کے شکار ہیں اور ایسے میں اس نو ٹیفکیشن کا جاری ہونا انکے ہرے زخموں پر نمک پاشی ہے۔ 
( ڈاکٹر محمد اشرف خواجہ نے علی گڑھ مسلم یونیور سٹی سے 
پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے اوردرجہ چہارم کی اسامی کیلئے خواہشمند امیدوار ہیںلیکن ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہوتے ہوئے بھی فارم بھرنے کی اجازت نہیں دی گئی)

تازہ ترین