مڈھون حاجن میں ناصاف پانی کی سپلائی | بیماریاں پھوٹ پڑنے سے سینکڑوں افراد اسپتالوں میں داخل

تاریخ    5 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


ارشاد احمد
گاندربل //حاجن سوناواری سے ملحقہ علاقہ مدھون میں گندے پانی کی  سپلائی سے پورے علاقے میں بیماریاں پھوٹ پڑھنے سے خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔مقامی باشندوں نے بتایاکہ ابھی چاروں طرف سے کروناوائرس کا موجود ہے کہ مدھون علاقہ میں پینے کا ناصاف پانی استعمال کرنے سے ڈائریا،الٹیاں اور پیٹ کا درد کے ساتھ ساتھ بخار ظاہر ہوگیا جس نے وبائی صورتحال اختیار کرلی ہے.اس سنگین نوعیت کے وبائی بیماری نے پورے مدھون علاقے کے مکینوں میں خوف اور الجھن کا ماحول پیدا کررہا ہے۔مدھون کے مقامی شبیر احمد ڈار نامی شہری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا’’ مدھون علاقے کو پرنگ مدھون فلٹریشن پلانٹ سے پینے کا پانی فراہم کیا جاتا ہے جس کو دریا جہلم کے کنارے پر قائم کیا گیا ہے ،فلٹریشن پلانٹ کو دریا جہلم میں پائپ ڈال کر پانی لایا جاتا ہے اور فلٹریشن کرنے کے بعد عوام کو فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  پچھلے پندرہ روز سے پرنگ مدھون فلٹریشن پلانٹ کو کچھ تیکنیکی خرابی واقع ہونے سے پورے مدھون علاقے کو بغیر فلٹریشن کے پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔سنیچروار کو عیدالاضحٰی کے روز مدھون علاقے میں درجنوں افراد کو ڈائریا اور دست کی بیماری شروع ہوگئی جن نے تین روز کے اندر اندر وبائی صورتحال اختیار کرلی.اور دیکھتے دیکھتے سینکڑوں افراد اس بیماری میں مبتلا ہوگئے جس کے نتیجے میں خوف و ہراس پھیل گیا.سینکڑوں افراد کو اس بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد کمیونٹی ہیلتھ سینٹر حاجن میں داخل کردیا گیا.ابھی تک مدھون علاقے میں ایک ڈاکٹر کو تعینات کردیا گیا ہے لیکن مقامی آبادی شکایت کررہے ہیں کہ ان کو ضلع انتظامیہ اور محکمہ صحت کی جانب سے بہتر علاج معالجہ اور طبی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہے جس وجہ سے مقامی آبادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔میڈیکل آفیسر ڈاکٹر مظفر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ یہ درست ہے کہ مدھون علاقے میں ناصاف پانی کے استعمال سے بیماری پھوٹ چکی ہے، ہم کچھ مریضوں کا علاج  حاجن میں کررہے ہیں اور ہماری طبعی عملہ بھی علاقے میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا’’   اب صورتحال قابو میں ہے‘‘۔ 
 

تازہ ترین