آکسیجن سطح میں کمی کووِڈ مریضوں کی موت کی بڑی وجہ | پلس آکسی میٹر لوگوں کی جان بچاسکتا ہے : ڈاک

تاریخ    5 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے انکشاف کیا ہے کہ کووِڈ -  19مریضوں کی جان آکسیجن کی کمی کی وجہ سے چلی جاتی ہے کیوں کہ ہائپوکسیا سے مریضوں کی آکسیجن لیول کم ہوجاتی ہے تاہم سانس لینے میں دشواریوں کی کوئی نشانی سامنے نہیں آتی جس کے نتیجے میں مریض دم توڑ دیتے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق وادی میں کوروناوائرس کی وجہ سے اموات میں اضافہ کے ساتھ ہی ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے بتایا ہے کہ کووِڈ -  19کی اموات کے پیچھے سائلنٹ ہاپوکسیا(hypoxia)ہے جس میں مریض کی آکسیجن لیول خطرناک حد تک کم ہوجاتی ہے تاہم مریض کو سانس لینے میں دشواریوں کی کوئی بھی نشانی نہیں دکھائی دیتی ۔انہوں نے کہا کہ وادی میں اموات کی شرح میں اضافہ کے پیچھے ایک اور بات یہ ہے کہ لوگ نازک مریضوں کو اُس وقت ہسپتال پہنچاتے ہیں جب ان کے بچنے کے آثار بہت ہی کم رہتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہسپتال پہنچنے والے مریضوں کے ایکسرے جب دیکھے جاتے ہیں ،تو ان کی چھاتی کے اندر ’نمونیا ‘پھیلا ہوا ہوتا ہے، تاہم اُن میں کسی بھی قسم کی علامات  نہیں ہوتے۔اکثر کووڈ مریضوں میں نمونیا کی وجہ سے آکسیجن کی مقدار کافی کم پائی جاتی ہے تاہم مریض آسانی کے ساتھ ادھر اُدھر چلتے ہیں اور عام طریقے سے باتیں کرتے ہیں جس سے انکی حالت بہتر دکھائی دیتی ہے لیکن اندر سے ان کی حالت بہت خراب ہوچکی ہوتی ہے ۔نمونیاایک ایسا انفکشن ہے جو مریضو ںکے پھیپھڑوں کو متاثرکرتا ہے جس سے ان کو سانس لینے میں دشواری آتی ہے اور ان کی آکسیجن لیول گرجاتی ہے۔ ایسے مریضوں کی حالت انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہوتی ہے  اور ان کو وینٹی لیٹر پر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تاہم بروقت علاج دستیاب نہ ہونے سے مریض فوت ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ اس طرح کے مریضوں کیلئے آکسی میٹر بہت ضروری ہوتا ہے جومریض کی آکسیجن لیول دکھاسکے ۔اس طرح ہم اگر آکسی میٹر کا استعمال کریں گے تو ہمیں ایسے مریضوں کی حالت کا قبل ازوقت پتہ چل سکتا ہے اور انہیں مطلوبہ علاج فراہم کرکے ان کی جان بچائی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’Pulse Oxymeter‘‘ایک سادا سا طبی آلہ ہے جس کو مریض اپنے گھروں میں بھی استعمال کرکے آکسیجن لیول جانچ سکتے ہے اور یہ اس طرح کے مریضوں کیلئے بہت ضرور ی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح آج کل بلڈ پریشر مشین اور شوگر دیکھنے کیلئے لوگوں کے گھروں میں آلات موجود ہیں اسی طرح آکسی میٹر کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن کا کہنا ہے کہ عام طورپر ایک صحت مند انسان کی آکسیجن لیول 95سے 100تک ہونی چاہئے تاہم جن افراد کی آکسیجن لیول 90ڈگری سے کم ہو وہ مکمل طور پر صحت مند قرارنہیں دئے جاسکتے۔ انہوںنے کہاکہ ہوم کورنٹائن میں رکھے گئے افرادکیلئے ضروری ہے کہ ان کے پاس آکسی میٹرہو ،تاکہ وقت وقت پر ان کی آکسیجن لیول کی جانچ کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ ہیلتھ  آرگنائزیشن کی ایڈوائزری میں بھی یہ بات بتائی گئی ہے کہ کورنٹائن میں رکھے گئے افراد کیلئے آکسی میٹر کا ہونا لازمی ہے ۔ 
 

تازہ ترین