تازہ ترین

۔5اگست تاریخ کا سیاہ باب | نیشنل کانفرنس عوام کے حقوق کیلئے آئینی جنگ لڑے گی

تاریخ    5 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر// نیشنل کانفرنس نے 5اگست کو تاریخ کا سب سے سیاہ باب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وہ دن ہے جب یکطرفہ، غیر جمہوری اور غیر آئینی اور جبری طور پر جموں وکشمیر کے عوام کے جمہوری اور آئینی حقوق پر شب خون مارا گیا اور پارٹی جموں وکشمیر کے عوام کے حقوق کے بحالی کیلئے پُرامن اور آئینی جنگ لڑے گی۔ 5 اگست 2019کے اقدامات کو جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق ، عزت اور وقار پر غیر جمہوری حملہ قرار دیتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ 5اگست کے اقدامات جس انتہائی غیر جمہوری انداز میں اٹھائے گئے اُس سے اُن وعدوں سے انحراف کیا گیا جو جموں و کشمیر اور متحدہ بھارت کے درمیان رشتوں کی بنیاد پڑنے کے وقت یہاں کے عوام کیساتھ کئے گئے تھے اور یہ اقدام کسی دھوکے اور فریب سے کم نہیں تھے۔ایک بیان میں پارٹی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام اپنے وعدوں پر قائم رہے جبکہ ہندوستان نے اپنے وعدوں سے غیر جمہوری اور غیر آئینی طور پر منحرف ہونے کا انتخاب کیا۔ 5اگست کے فیصلوں کو جو جواز بخشے گئے وہ آج کی تاریخ میں سب کے سب سراب ثابت ہوگئے ہیں۔ ایک سال گزرنے کے بعد جموں وکشمیر کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ یہاں کے حالات مزید خراب اور غیر مستحکم ہو گئے ہیں۔ دفعہ370اور 35اے کو ختم کرنے کیلئے ملک کے عوام کے سامنے جو جھوٹے دعوے کئے گئے وہ زمینی سطح پر قابل تصور بھی نہیں۔ ایک وسیع پروپیگنڈا کے ذریعے ملک کے عوام کو یہ بھی جتلایا گیا کہ بھاجپا حکومت کے فیصلے جموں وکشمیر کے عوام نے خوشی خوشی قبول کر لئے ہیں۔ اگر بقول بھاجپا جموں وکشمیر کے عوام ان تبدیلیوں سے خوش ہیں تو آج کشمیر میں کرفیو کا نفاذ کیوں عمل میں لایا گیا ہے؟خطہ چناب، پیرپنچال اور کرگل کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں جبکہ جموں کے لوگ بھی اپنے مستقبل کے بارے میں اتنے ہی پریشان ہیں اور لداخ کا بھی یہی حال ہے۔بیان میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر میں ایک بھی نفس ایسا نہیں ہے جو خود کو لٹا پٹا اور فریب زدہ نہ محسوس کررہا ہو۔پارٹی نے کہا کہ 5اگست کے اقدامات نے جموں و کشمیر میں مین سٹریم کیلئے جگہ تباہ اور مقصد کو ختم کرکے رکھ دیا ہے جس کیلئے انہوں نے خون کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ حکومت کے غلط فیصلوں اور جھوٹے اور فریبی دعوئوں کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہوجاتا ہے کہ ایک سال گذرنے کے باوجود بھی جموں وکشمیر میں 4جی انٹرنیٹ بند ہے، سیاسی کارکن و لیڈران ابھی بھی نظربند ہیں، چاروں طرف بے چینی، غیر یقینیت اور اضطرابی کیفیت ہے۔ ایک سال گزر جانے کے باوجود بھی آج ویسا ہی خوف و دہشت کا ماحول ہے جو 5اگست2019کو تھا اور ان ایام میں سخت ترین کرفیو کا نفاذ عمل میں لانے سے مرکزی حکومت کے تمام دعوے سراب ہوجاتے ہیں۔ نیشنل کانفرنس نے آئینی اور قانونی طور پر جموں وکشمیر کے عوام کے حقوق کیلئے لڑنے کا انتخاب کیا ہے، جموں وکشمیر کے عوام پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہیں اور ہم انہیں مزید مصائب میں نہیں ڈالنا چاہتے ہیں۔ ہماری جدوجہد ہمیشہ سے ہی پرامن رہی ہے ، جب تک ہمارے حقوق بحال نہیں ہوتے ہیں ہم اپنی کوششیں پورے زور و شور سے جاری رکھیں گے۔نیشنل کانفرنس نے کہا کہ پارٹی 5اگست کو یوم سوگ کے طور منائے گی۔
 
 

خصوصی درجہ چھین کر ہمیں بے عزت کیا گیا:تاریگامی

یو این آئی
سری نگر// سی پی آئی (ایم) کے سینئر لیڈر یوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ سال گزشتہ پانچ اگست کو جموں کشمیرکو خصوصی درجے سے محروم کر کے ہماری پگڑی اچھالی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک کے حکام سے کوئی امید تو نہیں تھی لیکن ان سے یہ بھی توقع نہیں تھی کہ وہ ہندوستان جیسے بڑے ملک کے آئین کے ساتھ کھلواڑ کریں گے۔موصوف لیڈر نے منگل کے روز کہا،’’پانچ اگست 2019 کو جو کچھ (جموں، کشمیر اور لداخ) کے لوگوں پر گذری وہ کسی دشمن کو بھی نصیب نہ ہو، اس روز ہمیں بے عزت کیا گیا‘‘۔ تاریگامی نے کہا کہ آج بھی یہاں ہر گھر میں مایوسی اور ماتم ہے۔ان کا کہنا تھا،’’آج ہر گھر میں مایوسی اور ماتم ہے۔ یہ لوگ (حکام)  کہتے ہیں کہ یہاں نارملسی ہے تو پھر کرفیو کیوں لگایا گیا ہے، پہلی بار سنا کہ نارملسی میں کرفیو لگانا لازمی ہے، اگر نارملسی ہے تو پھر شہر و دیہات میں پکڑ دھکڑ کا سلسلہ کیوں جاری ہے‘‘۔موصوف لیڈر نے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت نے ہمارے ہی آئین کو ختم نہیں کیا بلکہ بھارت کے آئین کو بھی مسخ کیا ہے۔ تاریگامی نے کہا خصوصی درجے کے خاتمے کے بعد جس ترقی کی بات کی جاتی تھی وہ کہیں نظر نہیں آرہی ہے اور اس ایک سال کے دوران لوگوں کو بے حد مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا شعبہ سیاحت آخری سانسیں لے رہا ہے اور اس کے ساتھ وابستہ لوگوں اور دوسرے مزدوروں کا روز گار ختم ہوچکا ہے۔موصوف لیڈر نے کہا کہ کشمیر کو ہی نہیں بلکہ جموں کو بھی کچھ بھی نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں کی معیشت بھی تباہ ہوکر رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے پاس جھوٹ کے خزانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور وہ جھوٹ کو ہی بار بار دہرا رہے ہیں۔ تاریگامی نے کہا کہ کورونا کے بیچ یہاں ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور ڈاکٹروں و دیگر طبی عملے کو اپنی حفاظت کے لئے حفاظتی لباس کی قلت کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ خصوصی درجے کے خاتمے سے ملک کے ساتھ دغا کیا گیا ہے اور ایک دن ضرور ہمیں انصاف ملے گا اور منسوخ شدہ دفعات 370 اور 35 اے کو بحال کیا جائے گا۔
 
 

 کرگل میں ہڑتال کی کال

کرگل//یواین آئی// لداخ یونین ٹریٹری میں ’انجمن صاحب الزمان‘ نامی مذہبی جماعت نے جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی منسوخی اور اس کے بٹوارے کے خلاف ضلع کرگل میں 5اگست کو ہڑتال کی کال دے دی ہے۔ دریں اثنا نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے لیڈران نے منگل کو کرگل میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران 5اگست کو جموں و کشمیر اور لداخ کی تاریخ کا ایک ’سیاہ دن‘ قرار دیا۔ دونوں جماعتوں کے لیڈران نے پانچ اگست 2019 کے فیصلوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لئے بہت  جلدمل بیٹھ کر آئندہ کی حکمت عملی طے کریں گے۔ اس دوران ’انجمن صاحب الزمان‘ نامی مذہبی جماعت کی جانب سے جاری ایک تحریری بیان میں کہا گیا کہ نا انصافیوں اور جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی منسوخی کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کرنے کے لئے ضلع بھر کے عوام سے 5 اگست کو مکمل ہڑتال کرنے کی اپیل کی جاتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے،’’ہماری یہ آواز اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تمام نا انصافیوں کا سدباب نہ ہو اور ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال نہ کی جائے‘‘۔  بیان میں کہا گیا ہے،’’جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو منسوخ کر کے اس ریاست بے نظیر کو گوناگوں زاویوں سے تقسیم کا پانچ اگست کو پورا ایک سال مکمل ہونے کو ہے۔ یہ عمل لوگوں کی منشا کے منافی تھا جس پر عوامی سطح پر کافی ردعمل دکھایا بھی گیا تھا اور آج بھی جاری ہے۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ خطہ لداخ کے عوام بالعموم اور ضلع کرگل کے لوگ بالخصوص ریاست جموں و کشمیر کی کسی بھی طرح کی تقسیم کاری کے خلاف تھے اور آج بھی ہیں۔ اس میں کہا گیا،’’لداخ کو یونین ٹریٹری بنانے کے وقت ہی کرگل کے عوام کے ساتھ نا انصافی کی بو آنے لگی تھی جو اب ایک سال کے قلیل مدت میں ہی نمایاں طور پر نظر آنے لگی ہے۔ نا انصافیوں کا ایسا سلسلہ جاری ہوا کہ جو رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ اگر ان تمام نا انصافیوں کو گننے لگیں تو اس پریس بیان میں جگہ کم پڑ جائے گی‘‘۔بیان مین کہا گیا کہ یونین ٹریٹری دلائے جانے کے وقت خطہ لداخ کے عوام کو بہت طریقوں سے سبز باغ دکھائے گئے تھے لیکن اس کے برعکس ایک سال کے اندر ہی کرگل کے عوام کی وطن عزیز کے لئے دی گئی تمام قربانیوں کو بھلا کر انہیں ترقیات سے نوازنے کے بدلے ان کے اپنے حقوق اور پہلے سے موجود سہولیات کی پامالی کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا۔
 
 

ریاستی تشخص اورخصوصی درجہ کی بحالی امن کی ضمانت: حکیم 

سرینگر //پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ چیئرمین حکیم محمد یاسین نے حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ گزشتہ برس 5اگست کو لئے گئے تمام فیصلوں کوواپس لیں۔ایک بیان میں پارٹی نے کہا کہ جموں کشمیرمیں امن واستحکام بحال کرنے کیلئے ریاستی تشخص اورخصوصی درجے کی بحالی واحد راستہ ہے۔ریاست جموں کشمیرکی خصوصی حیثیت کو پامال کرنے کاایک برس مکمل ہونے پرپارٹی کے چیئرمین حکیم محمدیاسین نے کہا کہ جموں کشمیرمیں بگڑے حالات کواپنی ڈگر پر لانے کیلئے جموں کشمیر کاریاستی تشخص اوراس کی خصوصی حیثیت بحال کرناواحدراستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی قیادت کو بھانپ لینا چاہیے کہ غیرآئینی طریقوں سے ریاست کی خصوصی پوزیشن ختم کرنے سے لوگوں کے دل جیتنے کے بجائے بدگمانیاں پیدا ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی مسئلہ کا پائیدار حل آپسی افہام وتفہیم اور گفت وشنیدمیں مضمر ہے،نہ کہ دھونس دبائو اورغیرجمہوری طرزعمل میں۔حکیم یاسین نے وزیراعظم اور وزیرداخلہ پرزوردیا کہ وہ جموں کشمیرکے لوگوں کے ساتھ پارلیمان میں ریاست کے تشخص کوبحال کرنے اور ملازمتوں کے تحفظ کے بارے میں کئے گئے وعدوں کو پوراکریں۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیرکے لوگوں کو قیدی بناکر5اگست کا جشن منانا کیا معنی رکھتا ہے ؟
 
 

مرکز کی کشمیر پالیسی بے نقاب: خالدہ شاہ

سرینگر// عوامی نیشنل کانفرنس کی سربراہ بیگم خالدہ شاہ نے کہا ہے کہ نریندرمودی کی کشمیر پالیسی بے نقاب ہوئی جبکہ5اگست 2019 کو مرکزی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کرنے کا فیصلہ غیر قانونی غیر آئینی اورغیر جمہوری تھا جس کو تینوں خطوں کے لوگوں نے مسترد کیا ہے ۔ کے این ایس کے مطابق عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر بیگم خالدہ شاہ نے منگلوار کو اپنے ایک بیان میں بتایا کہ وزیر عظم نریندر مودی کی کشمیر پالیسی بے نقاب ہوئی ہے ۔انہوں نے بتایاٹھیک ایک سال قبل 5اگست 2019کو ریاست جموں و کشمیر کے آرٹیکل 370کو مرکزی بی جے پی  سرکار نے ختم کر دیا ،جس کو ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کی اکثریت نے قبول نہیں کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خصوصی دفعات کو منسوخ کرنا آئین کی سخت خلاف ورزی کرنے کے مترادف ہے ۔اے این سی سربراہ نے مزید کہاکہ دنیا میں کہیں بھی کووڈ وبائی بیماری کی وجہ سے کرفیو نافذ نہیں کیا گیا ہے تاہم دنیا میںکشمیر ایسی واحد جگہ ہے جہاں ان خطر ناک حالات کے باووجود کرفیو نافذ کیا گیا۔خالدہ شاہ نے بتایاکہ دیوار پر لکھی گئی تحریر ملک کے لئے بالکل واضح ہے کہ آج  جموں ، کشمیر اور لداخ متحدہ اور یک زبان کہہ رہے ہیں کہ انہیں دفعہ370کی منسوخی کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔
 

۔5اگست کا فیصلہ لوگوں کو ناقابل قبول :پیپلز کانفرنس

سرینگر// مرکزی حکومت کی طرف سے گزشتہ برس5اگست اوراس کے بعد لئے گئے فیصلے عوام کو قبول نہیں ہیں۔اس بات کااظہار پیپلزکانفرنس کے ایک آن لائن اجلاس میں کیاگیا۔کے این ایس کے مطابق منگلوار کو پیپلزکانفرنس کے ایک آن لائن اجلاس میں بتایا گیا کہ جموں کشمیرکے لوگوں کو گزشتہ سال5اگست اور اس کے بعد لئے گئے فیصلے قبول نہیں ہیں ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ یہ فیصلے عوام پر تھوپے گئے ہیں اور عوام میں ان کی کسی طرح کی کوئی قانونی حیثیت یاقبولیت نہیں ہے۔اجلاس میں کہاگیا کہ ہمیں یقین ہے کہ 5اگست کادن ایک منفی سنگ میل کادن تھاجوہماری شناخت پرحملہ کرنے والے دن کے طور یاد کیاجائے گا۔بیان میں کہاگیا کہ یہ سخت اقدام تھا۔ ہم عوام سے کہنا چاہتے ہیں کہ مایوس نہ ہوںاور سیاست میں مستقل کچھ نہیں ہوتا ہے کیوںکہ طاقت کا نشہ ایک دن اتر جاتا ہے۔اجلاس میں کہا گیا کہ یہ سرکار کے لئے بہتر ہے کہ وہ حقائق کو تسلیم کریںاور کوئلے کی کانوں میں واضح طور پر نظر آنے والا کینری دیکھیں۔
 

دفعہ370کی بحالی وقت کی ضرورت:جمعیت ہمدانیہ

سری نگر// جمعیت ہمدانیہ نے 5اگست 2019کے دن کو تاریخ میں اور ایک بدترین سیاہ باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کشمیر کے لوگ اپنے آئینی اور جمہوری حقوق خصوصاً ریاست کی 1947سے پہلے کی پوزیشن حاصل کرنے کیلئے زندگی کی آخری سانس تک جدوجہد کرتی رہے گی۔ جمعیت نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عواپنالائحہ عمل بنا کر ملک کشمیر کو عزت و آبرو اور اپنی انفرادیت، اجتماعیت، شناخت کو قائم و دائم رکھنے کیلئے جدوجہد کرتی ہے گی اور مسئلہ کو حل کرنے کیلئے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔جمعیت نے کہا کہ 370و 35اے کی مکمل بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ آنجہانی مہاراجہ ہری سنگھ نے ان دفعات کیساتھ عارضی طور پر الحاق کیا تھا اور خود وزیر اعظم ہند آنجہانی نہرو نے حالات ٹھیک ہونے کی صورت میں یہاں کے لوگوں کیساتھ اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا وعدہ کیا تھا، جو سلامتی کونسل میں بھی درج ہے۔ جمعیت  5اگست 2019کے مرکزی سرکار کے فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے ان دفعات کی بحالی کیلئے مانگ کرتی ہے۔
 

بی جے پی 5 اگست کے فیصلے کا جشن منائے گی

جموں//سید امجد شاہ//بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جموں و کشمیر کے خصوصی درجہ کے خاتمے کے دن کو جشن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔اپوزیشن نے کہاہے کہ وہ ڈوگرہ ریاست کو ایک مرکزی خطے میں تبدیل کرنے کا جشن نہیں منائیں گے۔بی جے پی جموں وکشمیر صدر رویندر رینہ کی سربراہی میں پارٹی رہنما اور کارکن اپنے گھروں کے اوپر قومی پرچم لہرائیں گے جس کی ان سے درخواست کی گئی ہے۔رینہ نے ایک پیغام میں پارٹی کے تمام کارکنان سے کہاکہ وہ اپنے گھروں اوردکانوں پر ترنگا لہرائیں۔رینہ نے کہا کہ کٹھوعہ ، سانبہ اور دیگر مقامات خاص طور پر ان جگہوں پر ترنگا لہرانے کو کہاہے جو پرجا پریشد ایجی ٹیشن کیلئے مشہور ہیں۔دریں اثنا ، بی جے پی کے سینئر رہنما اشوک کول نے کہاکہ پارٹی کارکنان تمام چوکوں کو سجائیں۔کول نے تمام تیاریوں کا بھی جائزہ لیا۔وہیں اپوزیشن نے اپنے اپنے پروگراموں کا اعلان کیاہے۔
 

کانگریس کی آن لائن اسپیک اَپ مہم کاآغاز

جموں//سید امجد شاہ//پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان اعلیٰ رویندر شرما نے کہا ’’ہم نے پانچ دن کے لئے ایک آن لائن پروگرام شروع کیا ہے،جس میں یہ دیکھاجائے گاکہ ہمیں کیا حاصل ہوا‘‘۔شرما نے عوام اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تاریخی ڈوگرہ ریاست کو یوٹی میں تبدیل کرنے کے فیصلے کو واپس لینے کی اپیل کریں۔کانگریس ترجمان نے بی جے پی اور حکومت سے سوال کیا کہ کیا خصوصی حیثیت کے خاتمے اور ریاست کو مرکز ی خطہ میں تبدیل کرنے کے بعدجموں و کشمیر سے عسکریت پسندی کا خاتمہ اور معمولات بحال ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تین ماہ میں 50000 بھرتیوں سمیت سرکاری اور نجی شعبے میں بہت ساری نوکریوں کے مواقع پیدا کرنا ، بدعنوانی پر مکمل قابو کرنے اور انتہائی بدعنوانوں کے خلاف کاروائی کرنا اور ترقی اور صنعتی فروغ کے لئے کئے گئے وعدوں پر عمل نہیںہوا اور بی جے پی مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔سابق وزیر اور سینئر رہنما نیشنل کانفرنس اجے سدھوترا نے کہا’’5 اگست کی غیر معمولی اور بدقسمت پیشرفت نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو حقوق سے محروم کردیا جو دنیا کی اس عظیم جمہوریت میں ناقابل قبول ہے‘‘۔نیشنل پینتھرس پارٹی کے چیئر مین ، ہرش دیو سنگھ نے کہا ’’ریاستی حقوق کی بحالی کے مطالبے کے تحت ضلع اور تحصیل سطح پر مظاہرے کیے جائیں گے‘‘۔ان کاکہناتھا’’آپ نے ریاست کوچھین لیا اور اب آپ لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں، آپ نے جموں و کشمیر سے 4 جی اسپیڈ انٹرنیٹ چھین لیا ہے اور بے روزگار نوجوانوں کے لئے کوئی نوکری نہیں ‘‘۔دریں اثنا ، جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے سینئر رہنما منجیت سنگھ نے کہا کہ وہ ریاست کی بحالی کے لئے جدوجہد کریں گے اور یہ پارٹی کا بنیادی مطالبہ ہے۔ان کاکہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں اقامتی مدت کم سے کم25 سال کی جائے۔