مال و اسباب اطمینانِ قلب کا باعث نہیں

تاریخ    5 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


عذرا زمرود، کجر کولگام
اسباب تعیش کے باوجودآج ہم پریشانی کا شکار ہیں ، روحانی اور قلبی سکون کسی کو حاصل نہیں ہر ایک کو بے برکتی کا شکوہ ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج زمانہ ترقی پزیر ہے۔ سائنس نے اتنی ترقی کی کہ رزق حاصل کرنے کے لیے اور مال و دولت کمانے کے لئے وسیع تر امکانات پیدا کر دئیے ہیں۔ نئی نئی کمپنیاں اور کارخانیں وجود میں آئیں ، چلنے پھرنے کی دوڑتی ہوئی گاڑیاں ، بڑی بڑی عمارتیں ، خوبصورت رہائش گاہ، ایسی ہی رنگ برنگ چیزیں وجود میں آئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی زندگی کے آسائش و آرام اور ارمانوں کی تکمیل کے لیے نئی نئی راہیں کھلتی گئی اور ترقی اس حد تک بڑھ گئی کہ جس انسان کو کل تک سائیکل بھی میسر نہیں تھی آج وہ قیمتی گاڑیوں میں سفر کر رہا ہے جھونپڑیوں میں زندگی بسر کرنے والے آج عالیشان رہائش گاہوں میں عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔جو کل تک ایک ایک پیسے کے لئے تڑپتا تھے وہ آج کروڑوں کے مالک ہیں اور خوشحال زندگی گزار رہیں ہیں مگر نتیجہ عیاں راچہ بیاں آج کے لوگ زیادہ پریشان اور مایوس نظر آتے ہیں،روحانی اورقلبی سکون کسی کو حاصل نہیں، ہر ایک کا یہی شکوہ وردِ زباں ہیکہ ہمیں سکون و راحت نصیب ہی نہیں۔یہی لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ لوگوں کی بیماریوں کا سبب گھریلو اور خاندانی اختلافات اورآپسی دشمنی اور منافرت کی وجہ سے ہیں۔ناجائز چیزوں نے کسی کو زندگی سے تھکا دیا ہے۔ کوئی بیوی اور اولاد کی سرکشی سے بے بس اور لاچار ہے۔ غرض پریشانیوں کی وجہ چاہئے کچھ بھی ہو ، یہ تو ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے۔ بڑے بڑے فلم سٹار ، کمپنیوں کے مالک، اہل ثروت بھی پریشان ہیں جن کو رات کی نیند بھی میسر نہیں آرہی۔ ایک لمحہ نیند حاصل کرنے کے لئے کئی کئی گولیاں کھانی پڑتی ہے۔ راحت وآسائش کی تمام چیزیں میسر ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے باوجود بھی حقیقی راحت و سکون کیوں کہیں پہ نظر نہیں آرہا ؟بے اطمنانی اور پریشانیوں نے مجبور اور بے بس کیوں کر رکھا ہے؟اور کیوں آج کے اس ترقی یافتہ دنیا میں خود کشی اور قتل و غارت گری کے واقعات ہمارے سامنے پیش آرہے ہیں؟اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل لوگوں نے سکون اور راحت دولت میں تلاش کرنا شروع کر دیا ہے، اور اسی حرث نے بندوں کا رشتہ رب سے توڑ دیا ہے ، وہ آخرت کو بھول کر دنیا اور دنیا کے اسباب و وسائل کو جمع کرنے میں لگ گئے ہیں۔ قبروں کو روشن کرنے کے بجائے دنیا میں عالیشان محل بنانے میں مصروف ہو گئے ہیں ، مگر اے نادان انسان مال و دولت کمانے،عالیشان محل بنانے میں ،سکون فراہم نہیں ہوسکتا۔ اگر مال و دولت سے سکون یا راحت ملتا تو قارون دنیا کا سب سے پر سکون ہوتا،حکومت اور بڑے بڑے عہدوں سے اگر سکون ملتا تو فرعون دنیا کا سب سے پر سکون گزرتا،مگر ایسا نہیں ہوا، وہ یہ دونوں مال و دولت ، حکومت اور شہرت کے باوجود پریشان حال رہے اور بے سکونی کے ساتھ ساتھ عبرتناک موت کے ذریعہ سے اس دنیا سے رحلت کر گئے۔ اس سے معلوم ہوا انسان یہ سب چیزیں حاصل کر سکتا ہے مگر حقیقی راحت اسے میسر نہیں ہو سکتی !
 دراصل لاحاصل خواہشات کی تکمیل اور چاہ کے حصول میں ہم اندھادھند بھاگتے جا رہے ہیں۔اس ساری جدوجہد کی جمع پونجی ، خود اپنے ہاتھوں سے گنوا رہے ہیں، اس کا ہن عقل کے ماروں کو کہاں احساس ہے۔ جو دنیا میں اللہ کے لیے جیتے ہیں وہ دنیا میں رہ کر بھی جنت میں رہا کرتے ہیں۔ خواہش دنیا ہو یا خواہش عقبی ، انسان کو ضرور بے چین کرے گی ، یاد رہے کہ سکون کی خواہش بذات خود ایک اضطراب ہے سکون خواہش شے نہیں ، نصیب سے ملتا ہے۔ جدید ایجادات کے اس معاشرے میں ذہنی تنائو ، ڈپریشن اور ٹینشن و نفسیاتی امراض سے کوئی فرد محفوظ نہیں۔ تیز ترین حالات زندگی نے انسان کو دکھ ،غم ، پریشانی ،عدم تحفظ کا احساس دے کر خوشیاں چھین لی ہیں۔ اس کے برعکس عبادت انسان کو ذہنی سکون عطا کرتی ہے اور ٹینشن و اضطراب کو دور کرتی ہے۔ اس کے علاوہ فطرت اور انسانوں سے مقابلہ کرنے کے لیے توانائی اور قوت عطا کرتی ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو دل دیا لیکن اس کا سکون اپنے پاس رکھا اور فرمایا کہ یاد رکھوں دل کا سکون صرف اللہ کی یاد میں ہے ۔
خوشی کا تعلق مال و دولت سے نہیں ہے بس آپ کے دل کی کیفیت سے ہے بعض لوگ ہزاروں نعمتیں ہونے کے باوجود نا خوش ہوتے ہیں اور کچھ لوگ دو وقت کا کھانا کھا کے بھی شکر کرتے کرتے تھکتے نہیں۔
جو لوگ اخروی زندگی کے انعامات کے امید وار نہیں ہیں، ان کی جد و جہدکی جولان گاہ یہی دنیوی زندگی ہے۔ ان کی تمام تر صلاحیتیں اسی زندگی کی آسائشوں کے حصول میں صرف ہوتی ہیں اور وہ اس کی زیب و زینت پر فریفتہ اور اس میں پوری طرح مگن ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے اس طرز عمل پر بہت خوش اور مطمئن ہوتے ہیں۔ حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک متاع قلیل و حقیر کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
؎دنیوی مال و متاع پر فریب یا ریجھ نہ جانا چاہیے ، کیونکہ یہ سب چیزیں فانی ہیں اور دائمی اور پائیدار نعمتوں کے مقابلے میں بالکل ہیچ ہیں جو اللہ کی فرمانبردار لوگوں کو اخروی زندگی میں عطا کی جائیں گی۔اس زندگی کی سب سے عظیم متاع اللہ کی محبت ، اس کا قرب اس سے کلام کرنا اسکے آگے آنسو بہانا اسے دل کے قریب رکھنا ہے۔ اور اسی سے سکون قلب و راحت ملتا ہے اور جسے سکون قلب حاصل ہو جائے اس کی زندگی میں نہ شکوہ رہتا ہے نہ تقاضا، وہ نہ خدا کا گلہ مخلوق کے سامنے کرتا ہے ، نہ مخلوق کی شکایت خدا کے سامنے ، وہ نہ زندگی سے غافل ہوتا ہے نہ موت سے وہ ہر حال میں راضی رہتا ہے پر سکون انسان مقام صبر کو بھی مقام شکر بنا دیتا ہے۔
 

تازہ ترین