جموں و کشمیر کے خوشبو دار و ادویاتی پودے

افادیت کی بے پناہ اہمیت

تاریخ    5 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


زبیر قریشی
کرۂ ارض پر زندگی کے ضامن سرسبز جنگلات،جن کی اہمیت و افادیت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ،قدرت کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں میں سب سے انمول نعمت ہیں۔ ان کے ان گنت فوائدانہیں باقی تمام نعمتوں سے برتری عطا کرتے ہیں ۔ انسانی گردش زندگی میں انکا اہم کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ان سے نہ صرف کھانے سے متعلق ضروریات کی تکمیل ہوتی ہے بلکہ روح عالم سے نازک توازن بنانے میں بھی یہ پیش پیش رہتے ہیں۔  کاربن سائیکل ہو یاغذائی سلسلہ کے پیرامڈ، دونوں میں بھی یہ اعلیٰ ترین مقام ہی حاصل کرتے ہیں۔ان کی افادیت کو دیکھتے ہوئے انہیں کئی ڈھانچوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ان میں ادویاتی پودے نہ صرف اپنی طبی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ آمدنی کا بھی ایک ذریعہ بن جاتے ہیں۔ہمارے جسم کو صحت مند بنائے رکھنے میں ادویاتی پودوں کی بے شمار اہمیت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی پرانوں،اپنشدوں،رامائن اور مہابھارت جیسے مستند نصوص میں ا س کے استعمال کے کئی ثبوت ملتے ہیں۔اس سے حاصل ہونے والی جڑی بوٹیوں کے ذریعے نہ صرف ہنومان نے  لکشمن کی جان بچائی بلکہ آج کی تاریخ میں بھی معالج کے ذریعے انسانی ذہنی علاج کے لئے عمل میں لایا جاتا ہے۔یہی نہیں،جنگلات میں خودبخود اگنے والے زیادہ تر ادویاتی پودوں کی شاندار خوبیوں کی وجہ سے لوگوں کے ذریعے اس کی تعظیم تک کی جانے لگی ہے جیسی تلسی،پیپل،آک،برگد اور نیم وغیرہ۔معروف عالم چرک نے تو ہرایک قسم کے ادویاتی پودوں کا تجزیہ کرکے بیماریوں میں علاج کے لئے کئی انمول کتابوں کی تخلیق کر ڈالی ہے جس کا استعمال آج کل انسان کا فائدہ کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔
جنت نما سرزمیں جموں کشمیر بھی ان ادویاتی پودوں سے مالا مال ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جموں کشمیر میں خوشبودار ادویاتی پودوں کی تعداد پانچ ہزار کے قریب ہے جن میں چار ہزار وادی اقسام وادیٔ کشمیر میں پائی جاتی ہیں ۔  تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جموں کشمیر میں پائے جانے والے ان خوشبودار ادویاتی پودوں میں سات سو ایسی قسام موجود ہیں جن میں اعلی قسم کے اجزاء موجود ہوتے ہیں ،کشمیری حُزام یعنی levender جموں وکشمیر میں پائے جانے والے ان ادویاتی پودوں کی ملکہ کہلاتی  ہے۔ یہ بات قابل فخر ہے کہ پوری دنیا میں سب سے اچھے اور اعلیٰ معیار کے Aromaکی پیداوار گلمرگ میں ہوتی ہے ۔ٹنگمرگ میں پائے جانے والے گلابRose Domascena دنیا کے سب گلابوں میں اچھا گلاب مانا جاتا ہے جو ہر بیماری کے علاج کے لئے بنائے جانے والی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ Soungul/ pooes-tul ایک خاص قسم کے aklaloids بناتے ہیں جو کینسر جیسے موزی مرض کے لئے بنائے جانے والی دوائی میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح ایک اور پوداVanwanganہے جسے Podophyllum emodiبھی کہا جاتا ہے اور یہ سطح سمندر سے 6سے10ہزارفٹ کی اُنچائی پر جموں کشمیر میں پایا جاتا ہے ۔ گلمرگ اور گریز  کے جنگلات میں یہ بیشتر پایا جاتا ہے ۔
 ان میڈیسنل اور ایرومیٹک پلانٹس یعنی خوشبودار ادویاتی پودوں کی اہمیت اور جموں کشمیر میں ان کی کثیر موجودگی کو مد نظر رکھتے ہوئے مرکزی سرکار نے کئی سکیمیں شروع کی ہیں۔ ان سکیموں میں جموں کشمیر کے لئے ایک سکیم ’’ کشمیر اروگیا گرام یوجنا ‘‘ ہے جس کا مقصدجموں کشمیر میں ان خصوصی پودوں کی پیداوار کو بڑھانا  ہے ۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے حکومت کسانوں میں ان کی ا ہمیت اور افادیت اجاگر کر کے انہیں ان کی کاشت کرنے کی جانب راغب کرتی ہے ۔ حکومت کسانوں کو ہر وہ سہولیات بہم پہنچا رہی ہے جس سے ان پودوں کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔
 ایروما مشن کا مقصد ان پودوں کے بارے میں جانکاری اور پودے مہیا کرا نا تھا۔ساتھ ہی ان پودوں سے تیل نکال کر انہیں خریدنا شامل تھا ۔ ایک اندازے کے مطابق ان سکیموں سے جموں کشمیر میں دو سو سے زائد زمینداروں نے استفادہ کیا ہے ۔قابل ذکر ہے گزشتہ برس ان پودوں کی کاشت کرنے والے بھرت بھوشن کو قومی سطح پر Lavender کی کاشت کے لئے انعام سے نوازاگیا ۔
 محکمہ باغبانی کسانوں کو ان پودوں کی کاشت کے ئے رعایت بھی مہیا کراتا ہے جس کے تحت کسان فائدہ اُٹھا رہے ہیں ۔مدثر شفیع ڈار محکمہ زراعت میں ایگری کلچر ایکس ٹینشن آفیسرکے طور کام کر رہے ہیں۔ مدثر شفیع ذاتی طور پر بھی ان پودوں کی کاشت کرتے ہیں ۔ lavanderکی کاشت سے انہوں نے بہت فائدہ حاصل کیا ہے ۔ اتنا ہی نہیں، مدثر نے بہت سارے کسانوں کو اس جانب راغب بھی کیا جس  کے نتیجے میں تیس کنال کی اراضی پر لیونڈر کی کاشت ہو رہی ہے ۔ آپ کہتے ہیں کہ جموں کشمیر میں ان خوشبودار اور ادویاتی پودوں کی کاشت کے لئے نوجوانوں کوباخبر کرنے کی ضرورت ہے جس سے وہ اپنے پائوں پر کھڑا ہو سکتے ہیں ۔
جموں کشمیر کی سرزمیں میں وہ تمام صلاحتیں موجود ہیں جو ان خوشبودار ادویاتی پودوں اور جڑی بوٹیوں کی پیداور میں اضافہ کر سکتی ہیں اور انہیں قومی سطح ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی پہچان دلا سکتی ہیں اور ملک کی معیشت میں بھی اضافہ کرسکتی  ہیں لیکن مسئلہ صرف عملی اقدامات کرنے کا ہے ۔
 

تازہ ترین