تازہ ترین

دفعہ 370| پُل سے رُکاوٹ تک

کانگریس نے ختم کیا اور بھاجپانے کفن دفن کیا

تاریخ    5 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


حسیب درابو
1۔دفعہ 370 انتہائی متنازعہ اور بہت سی متصادم حقائق کی شدت سے دعویداری کی علامت تھی۔ سیاسی میدان عمل کے ہر رنگ ۔ علیحدگی پسندوں سے لے کر خود مختاری کے توسط سے انضمام پسندوں تک سبھی نے اپنے دائرہ کار میں اس کے معنی نکالے۔
 2۔ دائیں بازو کی قدامت پسند جماعتوں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کے ساتھیوں کے لئے کشمیر کی خصوصی پوزیشن ان کے نظریہ ٔ قوم ،قومی ریاست اورقوم پرستی کی نفی تھی۔ وفاق ایک صوبہ کے ساتھ خود مختاری کو کیسے بانٹ سکتاہے؟ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے بلاشبہ جموں و کشمیر نے اسے نہ صرف نظریاتی طور پر گستاخانہ بنایا ، بلکہ سیاسی طور پر ناقابل قبو ل بھی بنایا۔
 3۔ بے شک خصوصی آئینی انتظامات کے کچھ دن بعد ہی جن سنگھ ، جو بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بن گئی ، نے جموں میں "ایک ودھان ، ایک پردھان ، ایک نشان" ایجی ٹیشن شروع کی جہاں اس کی مضبوط موجودگی تھی۔ اگر کوئی بھی شہر ناگپور کا پیش رو ہونے کا دعوی کرسکتا ہے تو یہ جموں ہے!۔
4۔ خودمختاری کے حامیوں، بنیادی طور پر نیشنل کانفرنس کے لئے آرٹیکل 370 ان کا کشمکش کا محور تھا۔ انہوں نے 1952 میں اس پر دستخط کیے ، اس کاحرجانہ 1953 میںادا کیا ، 1975 میں اسکی سودا بازی کی اور 1986 میں اسے ضائع کردیااور صرف پی ڈی پی کے ابھرنے کے بعد 2000 میں اس کو دوبارہ زندہ کردیا۔
 5۔1989کے بعد جب وادی کشمیر میں علیحدگی پسند سیاست نے جڑ پکڑ لی ، تودستاویز ِ الحاق کوانہوں نے دستاویز ِخودسپردگی کے طوردیکھا۔آرٹیکل 370 ، جو "حفاظت کا بنیادی ٹھکانہ" تھا ، "قبضے کا طریقہ کار" بن گیا۔ ایسا نہیں ہے کہ اُس کیمپ میں سب کا یکساں نظریہ تھا۔ مثال کے طور پر بہت سارے سینئر علیحدگی پسند رہنماؤں نے اکثر ہندوستان کی حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ ’’ دفعہ370‘‘کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔ یہ جزوی طور پر الجھی ہوئی سیاست کی وجہ سے ہی تھا لیکن وجہ یہ بھی تھی کہ اُس وقت تک یہ کشمیریوں کے لئے ایک جذباتی مسئلہ بھی بن چکا تھا۔
6۔ بائیں بازو کے آزاد سیکولر وں کے لئے آرٹیکل 370 ضمیر کی شق نہیں تھی ، یہ ایک راحت کا عنصر تھا۔ اُن کے نزدیک اپنے دائرے میںیک مسلم اکثریتی ریاست کا ہونا پوسٹر مواد اور اعزاز کا تمغہ تھا جسکو عالمی سطح پر امیج بلڈنگ اور وسیع تر تعریف کے لئے قومی آستین پر آسانی سے پہننا تھا۔ در حقیقت  انتخابات کے دوران بھی اس کا فائدہ ہوا۔
 7۔حالانکہ کانگریس پارٹی نے کسی مخصوص تناظر میں اور کسی مخصوص صورتحال میں آرٹیکل 370 کو قبول کیا تھا ، لیکن اس میں پختہ یقین کا فقدان تھا اور اسی وجہ سے عزم بھی نہ رہا۔ تعجب کی بات نہیں کہ پھر وہ پہلے دن سے ہی انہوںنے اسے ختم ہونا شروع کردیا۔ عملی طورپرنہرو نے1963میںپارلیمنٹ کوبتایا کہ آرٹیکل 0 37 کی بیخ کنی کردی گئی ہے ختم کردیا گیا ہے ، آہستہ آہستہ اس کو ختم کرنے کا عمل جاری ہے ، ہمیں اس عمل کو جاری رہنے دینا چاہئے۔ 1986 تک یہ سب ختم ہوچکا تھا اوراب صرف متن رہ چکاتھا۔
8۔بی جے پی نے آرٹیکل 370 کوعلیحدگی پسندانہ جذبات اور نظریے کی پرورش کا موجب قرار دیا۔ بی جے پی نے اسے ایک قومی مسئلہ بنا دیا اور ہر انتخابات میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کا وعدہ کیا۔ پچھلے 50 برسوں سے انہوں نے ایک بیانیہ تشکیل دیا کہ آرٹیکل 0 37ایک رکاوٹ تھی جس نے ہر چیز کو لکھن پور چیک پوسٹ سے جموںوکشمیر میں داخل ہونے سے روکا چاہے وہ قوم پرستی ہو ،جمہوریت یا تعمیر و ترقی۔
 9۔یہ بیانیہ اس بات کی مخالفت میں احتیاط سے تیار کیا گیا تھا کہ کانگریس نے پل کے طور پر اس کی تعریف کی تھی ، ایک "سرنگ جس کے ذریعے بہت سارا ٹریفک گزر چکا ہے اور اور مزید بھی گزرے گا" جیساکہ وزیر داخلہ گلزاری لال نندا نے 1964 میں کہا تھا۔
 10۔ اہم بات یہ ہے کہ دونوں جماعتوں(کانگریس اور بی جے پی) کے لئے حتمی کھیل ایک جیسا تھا۔ صرف طریقہ کار میں فرق تھا۔ دونوں جماعتوں نے بغیر کسی ٹکڑائو کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے میں ایک دوسرے کاساتھ دیا۔ کانگریس نے اسے مار ڈالا ، بی جے پی نے آخری رسومات ادا کیں۔اسلوب میں بھی واضح فرق کے علاوہ بلا شبہ اس میں ایک فرق ہے۔ 4 اگست 2019 تک موجودہ رہنے والی آرٹیکل 370 کشمیری عوام پر کانگریس پارٹی کے ذریعہ سب سے بڑا فراڈ تھا۔ اسی طرح5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنا بی جے پی کی جانب سے ہندوستان کے لوگوں کے ساتھ محض سیاسی فوائد کی خاطر سب سے بڑی دھوکہ دہی تھی ۔
 11۔ چونکہ وزیر داخلہ نندا نے 1964 میں پارلیمنٹ کو دل کھول کر بتایا تھا "آرٹیکل 370 ، چاہے آپ اسے رکھیں یا نہ رکھیں ، اس کے مندرجات کو مکمل طور پر خالی کر دیا گیا ہے ، اس میں کچھ بھی نہیں چھوڑا گیا ہے۔" وہ بے باک اظہار خیال تھا۔ یہ آرٹیکل کی حیثیت سے ایک بے ضررتھا۔ منسوخی کے بعد بھی یہ آئین کی کتاب میں جاری ہے لیکن اب بے معنی کوما کی حالت میں ہے۔
 12۔ بی جے پی کے ایک عہدیدار کی جانب سے 2014 میں دفعہ370کی منسوخی کی دھمکی کے جواب میں لکھتے ہوئے ، میں نے آرٹیکل 370 کا موازنہ ایک پوست سے کیا تھاجس سے  بیج بہت پہلے ہی نکال لیا گیاہو (آؤٹ لک ، 9 جون ، 2014)۔ اور ایک بار پھر 2015میں ، میں نے پوچھا ، "منسوخ کرنے کے لئے اب بچاہی کیا ہے؟ (گریٹر کشمیر ، 14 مارچ ، 2015)
 13۔ صحیح ہے کہ جس انداز میںاس کو منسوخ کیا گیا، وہ مکمل طور پر غیر آئینی تھا۔ لیکن کیا وہ استثنیٰ کے بجائے جموں و کشمیر کیلئے معمول نہیں رہا ہے؟ 1952 میں ہی صدر راجندر پرساد کو نہرو کو خبردار کرنا پڑا تھا کہ "پارلیمنٹ کبھی بھی اس مقصد کا ارادہ نہیں کر سکتی تھی کہ محض ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعہ آئین میں ترمیم کی ایک غیر معمولی طاقت کا استعمال بغیر کسی حد کے کیاجاسکتا ہے۔ دفعہ370وقتا فوقتا وقت کے مطابق استعمال ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ 
14۔ منسوخی کے فوری نتائج ، جیسا کہ ہم ایک سال پیچھے دیکھتے ہیں ، کشمیر کے لئے اندرونی طور پر اور ملک کے لئے بین الاقوامی سطح پر مضر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر چینی حملہ کا 5 اگست کی کارروائی سے براہ راست تعلق ہے۔ چین نے 9اگست 2019کو اقوام متحدہ کے پاس اپنی تشویش ظاہرکرکے احتجاج درج کرایاتھا۔ ان کے لئے نیم خودمختار خطے کی حیثیت سے لداخ اگرچہ صرف نام ہی کا ہو تا، قابل قبول تھا۔ وفاق کے زیر انتظام یونٹ انہیں قابل قبول نہیں ہے۔
15۔داخلی طور پر کچھ ایسے فوائد ہوئے ہیں جو بی جے پی کو طویل مدت میں مدد فراہم کریںگے۔ لیکن ہندوستان کے طویل مدتی نتائج پارٹی کے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ جمہوریت کی حیثیت سے نہیں ہوں لیکن یقینا ایک جمہوریہ اور وفاق کی حیثیت سے ہوسکتے ہیں۔
 16۔ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد آئین ہند کو محض ایک رول بُک تک محدود کردیاگیا ہے۔ ایک کلیدی عنصر ، آئینی ملکیت کے علاوہ جس کی استثنیٰ کیساتھ خلاف ورزی کی گئی تھی ،وہ یہ ہے کہ آئین کے اہداف میں معاشرتی معاہدہ ہے اور یہ معاہدہ آئینی جمہوریہ کی اکائیوں کے طور پر لوگوں کے ساتھ ساتھ ریاستوں کے ساتھ ہو۔ اب جبکہ اس کی خلاف ورزی ملک کے ایک کونے میں کی گئی ہے تو اس کی خلاف ورزی آج نہیں توکل کہیں اور بھی ہوگی۔
17۔ اگر واقعی آرٹیکل 370 میں کشمیر کے لئے کوئی قابل قدر مواد نہیں تھا تو کشمیریوں کو اس سے کیوں فرق پڑا؟ یہ اہم کیوں تھا؟ دفعہ370 عوام اور سیاستدانوں سے لیکرکسانوںتک ایک بہت بڑی جذباتی اہمیت رکھتا تھا۔۔ کشمیریوں کی نفسیات کے لئے ایک جذباتی مدد کے علاوہ یہ ان کے لئے ایک عقیدے کی بھی دفعہ تھی۔ لہٰذا اس کے خاتمے پردھوکہ بازی کا گہرا احساس پیدا ہوا جو اعتماد ، ایمان ، اور طاقت وتحفظ کے خاتمہ طور پر سامنے آیا ہے۔
 18۔ پچھلے 70 برسوں میں ، "دفعہ370‘‘نے بہت سے معانی حاصل کیے ، بہت ساری شکلیں اور سائے حاصل کئے اور اختیارات اور املاک کو بھی حاصل کیا۔ در حقیقت ، یہ زندگی سے کہیں زیادہ بڑا ہوچکا تھا کہ شیخ عبداللہ کو ایک بار قانون ساز اسمبلی میں اس بات پر زور دینا پڑا تھاکہ’’370 کوئی قرآنی آیت نہیں ہے جس میں ترمیم نہیں کی جا سکتی‘‘۔
19۔ اس کا معاشرتی اور سیاسی اثر جو کچھ بھی پڑا ہے یا اس کا مستقبل میں اثر پڑ سکتا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے پر کشمیرمیں ہر ایک کشمیری کو یہ ذاتی نقصان محسوس ہوا۔
 20۔ اپنے لئے بات کرتے ہوئے ، یہاں تک کہ میں جانتا ہے کہ یہ کھوکھلا ہوچکاتھا اور اس میںکوئی قوت باقی نہیں رہی تھی،ایک بے بسی کا احساس ہے ، جس کا اظہار معروف شاعرہ پروین شاکر نے یوں کیا ہے  ؎
پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون 
دست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون 
21۔ آج ، ایک سال بعد ، میں نے اسے وادی میں یہ کہتے ہوئے سنا ہے:
کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیے 
پانی کو اب تو سر سے گزر جانا چاہیے 
نشتر بدست شہر سے چارہ گری کی لو 
اے زخم بے کسی تجھے بھر جانا چاہیے 
ہر بار ایڑیوں پہ گرا ہے مرا لہو 
مقتل میں اب بہ طرز دگر جانا چاہیے 
 اختتامیہ:
انتظامیہ کے لئے ، قانون سازی کی بات کریں تو آرٹیکل 370 اب تاریخ ہے۔ یہ یقینا عدالت میں زیر سماعت ہے ، لہٰذ زور دے کر کہیں توعدالتی طور پر یہ زندہ ہے۔ عدلیہ کی ذہنیت کو دیکھتے ہوئے آرٹیکل 370 کی حیثیت کی وضاحت کرنے کے لئے ایک زیادہ مناسب لفظ یہ ہے کہ طبی طور پریہ مردہ ہے۔
 آرٹیکل 370کو منسوخ کرنے کے ایک سال بعد اس پر وضاحت کا فقدان ہے۔ کیا اسے کالعدم قرار دیا گیا تھا؟ اگرایساتھا ، تو پھر بھی قانون کی کتابوں پر ابھی بھی کیوں موجود ہے؟ کیابعد کی تاریخ میں نکالا جائے گا؟ یا اسے منسوخ کیاگیا تھا؟ یا نکالاگیاتھا؟
جبکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ سپریم کورٹ کو جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے جواز پر سوال کرنے والی درخواستوں پر سماعت کرنی ہے۔ کیا اُس قانون سے نکلنے والی نتیجہ خیز کارروائی کرنا اخلاقی او ر قانونی طور پر موزوں ہے جس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے ، اور اگر (یہ مکمل طور پر فرضی سوال ہے)سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا کہ آرٹیکل 370 کو ہٹانا واقعی آئینی طور پر غلط تھا ، تو کیا حکومت ہند 5 اگست2019 کو کئے گئے اقدامات کو واپس لے گی؟۔